قرآني·Qurani
اردو

مقدمة

92 احادیث · #1–92

حدیث 21 — صحيح مسلم #21
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے ۔
حدیث 22 — صحيح مسلم #22
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور ( جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ ) باتیں مجھ سے چھپا لیں ۔ انہوں نے فرمایا : لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے ، میں اس کے لیے ( حدیث سے متعلق ) تمام معاملات میں ( صحیح کا ) انتخاب کروں گا اور ( موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو ) ہٹا دوں گا ( کہا : انہوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے فیصلے منگوائے ) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور ( یہ ہوا کہ ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے : بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نہیں کیا ، سوائے اس کے کہ ( خدانخواستہ ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں ( جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔)
حدیث 23 — صحيح مسلم #23
عمر وناقد ‘ سفیان بن عیینہ ‘ ہشام ‘ بن حجیر ‘ طاوس سے روایت ہے ، کہا : حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے فیصلے ( لکھے ہوئے ) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی ( سب کچھ ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ ( جتنی لمبائی ) کا اشارہ کیا ۔
حدیث 24 — صحيح مسلم #24
حسن بن علی حلوانی ‘ یحییٰ بن آدم ‘ ابن ادریس ‘ اعمش ‘ ابو اسحاق سے روایت ہے ، کہا : جب ( بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے ) لوگوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بعد ( ان کے نام پر ) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ ان ( لوگوں ) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا ( عظیم الشان ) علم بگاڑ دیا ۔
حدیث 25 — صحيح مسلم #25
علی بن خشرم ‘ ابو بکر بن عیاش نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے مغیرہ سے سنا ، فرماتے تھے : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی ، سوائے اس کے جو عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو ۔
حدیث 26 — صحيح مسلم #26
حسن بن ربیع ‘ حماد بن زید ‘ ایوب ‘ ہشام ‘ محمد ‘ ح ‘ فضیل ‘ ہشام ‘ مخلد بن حسین ‘ ہشام ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، یہ علم ، دین ہے ، اس لیے ( اچھی طرح ) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو ۔
حدیث 27 — صحيح مسلم #27
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : ( ابتدائی دور میں عالمان حدیث ) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے ، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا : ہمارے سامنے اپنے رجال ( حدیث ) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے
حدیث 28 — صحيح مسلم #28
۔ اوزاعی نے سلیمان بن موسٰی سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا .میں ظاوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملا اور ان سے کہا .مجھےشخص نے اس اس کرح حدیث سنائی ۔ انھوں کہا ’اگر تمہارے صاحب ( استاد ) پوری طرح قابل اعتماد ہیں توان سے اخذ کر لو ۔
حدیث 29 — صحيح مسلم #29
سعید بن عبد العزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے طاوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے عرض کی : فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی ۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھر پو ہیں تو ان سے اخذ کر لو ۔
حدیث 30 — صحيح مسلم #30
(عبد الرحمن ) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ میں سو ( اہل علم ) سے ملا جو ( دین میں تو ) محفوظ ومامون تھے ( لیکن ) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں ، کہا جاتا تھا یہ اس ( علم ) کے اہل نہیں
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔