قرآني·Qurani
اردو

مقدمة

92 احادیث · #1–92

حدیث 31 — صحيح مسلم #31
۔ مسعر سے روایت ہے ، کہا : میں نے سعد بن ابراہیم ( بن عبد الرحمن بن عوف ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہﷺ سے حدیث بیان نہ کرے ۔
حدیث 32 — صحيح مسلم #32
محمد بن عبد اللہ بن قہزاد نے ( جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں ) کہا : میں نے عبدان بن عثمان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ ( امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اور محمد بن عبد اللہ نے کہا : مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ ( بن مبارک ) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کن چیز ، بیان کی جانے والی خبروں کے ) پاؤں ، یعنی سندیں ہیں ( جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔)
حدیث 33 — صحيح مسلم #33
۔ ابو نضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل ( یحییٰ بن متوکل ) نے حدیث بیان کی ، کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
حدیث 34 — صحيح مسلم #34
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا ، کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل سے ( سن کر ) روایت کی کہ ( کچھ ) لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا : میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے ( جبکہ آپ ہدایت کے وو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے ہیں ، کوئی بات پوچھی جائے ( اور ) اس کےب ارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں ۔ ( سفیان نے ) کہا : ابو عقیل یحییٰ بن متوکل ( بھی ) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی ۔
حدیث 35 — صحيح مسلم #35
یحییٰ بن سعید نے کہا : میں نے سفیان ثوری ، شعبہ ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پور ی طرح قابل اعتماد ( ثقہ ) نہ ہو ، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا : اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے
حدیث 36 — صحيح مسلم #36
۔ نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر ( بن حوشب ) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا ، ( اس وقت ) وہ ( اپنی ) دہلیز پر کھڑے تھے ، وہ کہنے لگے : انہوں ( محدثین ) نے یقینا شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا ، ان کے بارے میں باتیں کیں ۔
حدیث 37 — صحيح مسلم #37
ہمیں شبابہ نے بتایا ، کہا : شعبہ نے کہا : میں شہر سے ملا لیکن ( روایت حدیث کے حوالے سے ) میں نے انہیں اہمیت نہ دی ۔
حدیث 38 — صحيح مسلم #38
عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں نے سفیان ثوری سے عرض کی : بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں : اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں! عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔ ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو
حدیث 39 — صحيح مسلم #39
فضل بن سہل نے بتایا ، کہا : میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں ، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی ، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا ، کہا : میں اس کے دروزاے پر تھا ، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان ( سفیان ) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذاب ہے ۔
حدیث 40 — صحيح مسلم #40
محمد بن ابی عتاب نے کہا : مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ہم نے نیک لوگوں ( صوفیا ) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا ۔ ابن ابی عتاب نے کہا : میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس ( بات کے ) بارے میں پوچھا ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا : تم اہل خیر ( زہد و ورع والوں ) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے ۔ امام مسلم نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا : ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے ، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے ۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔