خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا : میں غالب بن عبید اللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا : مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا ، میں نے ( جو ) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا : مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی ، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی ۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عفان کی کتاب میں ابو مقدام ہشام کی ( وہ ) روایت دیکھی ( جو عمر بن عبد العزیز کی حدیث ہے ) ( اس میں تھا : ) ہشام نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا ، محمد بن کعب سے حدیث بیان بیان کی ، کہا : میں نے عفان سے کہا : ( اہل علم ) کہتے ہیں : ہشام نے یہ ( حدیث ) محمد بن کعب سے سنی تھی ۔ تو وہ کہنے لگے : وہ ( ہشام ) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے ۔ ( پہلے ) وہ کہا کرتے تھے : مجھے یحییٰ نے محمد ( بن کعب ) سے روایت کی ، بعد ازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ ( حدیث براہ راست ) محمد سے سنی ہے ۔
حدیث 42 — صحيح مسلم #42
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔ ‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے
حدیث 43 — صحيح مسلم #43
ابن قہزاذ نے کہا ، میں نے وہب سے سنا ، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے روایت کی ، کہا : بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے ( علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص ) سے حدیث لے لیتے ہیں ۔
حدیث 44 — صحيح مسلم #44
قتیبہ بن سعید ‘ جریر نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذاب تھا ۔
حدیث 45 — صحيح مسلم #45
ابو عامر عبداللہ بن براداشعری ‘ ابو اسامہ ‘ مفضل بن مغیرہ سے روایت کی ، کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا : مجھ سے حارث اعور نے روایت کی بیان کی اور ( یہ کہ ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ ( حارث ) جھوٹوں میں سے ایک تھا ۔
حدیث 46 — صحيح مسلم #46
قتیبہ بن سعید ‘ جریر ‘ مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : علقمہ نے کہا : میں نے دو سال میں قرآن پڑھا ( تدبر کرتے ہوئے ختم کیا ۔ ) تو حارث نے کہا : قرآن آسان ہے ، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے ۔
حدیث 47 — صحيح مسلم #47
حجاج بن شاعر ‘ احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث ( اعور ) نے کہا : میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں ( یا کہا ) : وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں ۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں ، مثلاً : اشارہ کرنا ، کتابت ، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے ، اپنے رسول کی طرف کلام ، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے ۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے ۔
حدیث 48 — صحيح مسلم #48
۔ منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے
حدیث 49 — صحيح مسلم #49
۔ حمزہ زیات سے روایت ہے ، کہا : مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا : تم دروازے ہی پر بیٹھو ( اندر نہ آؤ ) ۔ پھر وہ ( گھر میں ) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا ۔
حدیث 50 — صحيح مسلم #50
۔ ( عبد اللہ ) بن عون سے روایت ہے ، کہا : ابراہیم ( نخعی ) نے ہم سے کہا : تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے بچ کر رہو ، وہ کذاب ہیں