ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابو عبد الرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے ، وہ ہم سے کہا کرتے تھے : ابو احوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں ( واعظوں ) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو ۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا ، یہ ابو وائل نہیں ( بلکہ شقیق ضبی ہے ۔)
حدیث 52 — صحيح مسلم #52
جریر کہتے ہیں : میں جابر بن یزید جعفی سے ملا تو میں نے اس سے حدیث نہ لکھی ، وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا ۔
حدیث 53 — صحيح مسلم #53
۔ مسعر نے کہا : ہم سے جابر بن یزید ( جعفی ) نے ان بدعتوں سے پہلے ، جو اس نے گھڑیں ، حدیث بیان کی ۔
حدیث 54 — صحيح مسلم #54
سفیان نے کہا : جابر نے جس ( عقیدے ) کا اظہار کیا اس کے اظہار سے پہلے لوگ اس سے حدیث لیتے تھے ، جب اس نے اس کا اظہار کر دیا تو لوگوں نے اسے اس کی ( بیان کردہ ) حدیث کے بارے میں مطعون کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا ۔ ان سے پوچھا گیا : اس نے کس چیز کا
حدیث 55 — صحيح مسلم #55
۔ جراح بن ملیح کہتے ہیں : میں نے جابر بن یزید ( جعفی ) کو یہ کہتے سنا : میرے ابو جعفر ( محمد باقر بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ) کی ستر ہزار حدیثیں ہیں جو سب کی سب رسول اللہﷺ سے ( روایت کی گئی ) ہیں ۔