عبداللہ بن زید مازنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے نماز استسقاء کے لئے اور الٹایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو جس وقت منہ کیا قبلہ کی طرف ۔
حدیث 450 — موطأ مالك 13:2
حسن
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهِيمَتَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْىِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ " .
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے پانی برسنے کے واسطے تو فرماتے یا اللہ پانی پلا اپنے بندوں اور جانوروں کو پھیلادے اپنی رحمت کو اور جلا دے اپنے مرے ہوئے ملک کو ۔
حدیث 451 — موطأ مالك 13:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ ظُهُورَ الْجِبَالِ وَالآكَامِ وَبُطُونَ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتَ الشَّجَرِ " . قَالَ فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا اس نے اے اللہ کے رسول کہ مرگئے جانور اور بند ہو گئے راستے، سو دعا کیجیے اللہ سے پس دعا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو برستا گیا پانی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک پھر ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے گر پڑے گھر اور بند ہو گئیں راہیں اور مرگئے جانور تب دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا اللہ برسا پہاڑوں پر اور ٹیلوں پر اور نالوں پر اور درختوں کے اردگرد کہا انس نے جب یہ دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھٹ گیا ابر مدینہ سے جیسے پھٹ جاتا ہے پرانا کپڑا ۔
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی حدیبیہ میں اور رات کو پانی پڑ چکا تھا تو جب نماز سے فارغ ہوئے متوجہ ہوئے لوگوں کی طرف اور فرمایا کہ تم جانتے ہو جو کہا تمہارے پروردگار نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، فرمایا اللہ جل جلالہ نے صبح کو میرے بندے دو قسم کے تھے ایک وہ جو ایمان لایا میرے اوپر دوسرے وہ جس نے کفر کیا ساتھ میرے جس شخص نے کہا کہ پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے تو وہ میرے اوپر ایمان لایا تاروں پر اعتقاد نہ رکھا اور جو بولا کہ پانی برسا فلاں تارہ کی گردش سے تو اس نے کفر کیا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اٹھے ابر سمندر کی طرف سے پھر شام کی طرف جانے لگے تو جانو کہ ایک چشمہ ہے بھر پور ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوہریرہ کہتے تھے جب صبح ہوتی تھی اور پانی برس جاتا تھا پانی برسا اللہ کے حکم سے پڑھتے تھے اس آیت کو مایفتح اللہ للناس یعنی اللہ جل جلالہ اگر لوگوں پر رحمت کرنا چاہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو روکنا چاہے تو کوئی چھوڑ نہیں سکتا ۔
حدیث 453 — موطأ مالك 13:5
Mawdu
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِيَّةً ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَتِلْكَ عَيْنٌ غُدَيْقَةٌ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِيَّةً ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَتِلْكَ عَيْنٌ غُدَيْقَةٌ " .