حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، مَوْلًى لآلِ الشِّفَاءِ - وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِمِصْرَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ أَوِ الْبَوْلَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا بِفَرْجِهِ " .
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے جو صحابی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ وہ مصر میں کہتے تھے قسم اللہ کی میں کیا کروں ان پائخانوں کا حالانکہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جائے کوئی تم میں سے پائخانہ یا پیشاب کو تو نہ منہ کرے قبلہ کی طرف اور نہ پیٹھ کرے ۔
حدیث 456 — موطأ مالك 14:2
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةُ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ .
ایک مرد انصاری سے روایت ہے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کرنے سے پیشاب یا پائخانہ میں ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے بعض لوگ سمجھتے ہیں جب تو اپنی حاجت کو جائے تو منہ نہ کر قبلہ اور بیت المقدس کی طرف عبداللہ بن عمر نے کہا میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر حاجت ادا کر رہے ہیں منہ ان کا بیت المقدس کی طرف ہے پھر کہا عبداللہ بن عمر نے واسع بن حبان سے شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں واسع نے کہا میں نہیں سمجھا کہا مالک نے اس قول کی تفسیر میں وہ لوگ ہیں جو سجدہ میں زمین سے لگ جاتے ہیں اور اپنی پیٹھ کو سرین سے جدا نہیں رکھتے ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھوک پڑا ہے قبلہ کی دیوار پر سو چھڑایا اس کو پھر متوجہ ہوئے لوگوں پر اور فرمایا جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اس لئے کہ اللہ اس کے سامنے ہے جب وہ نماز پڑھ رہا ہے ۔
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا دیوار میں قبلہ کے تھوک یا رینٹ یا بلغم تو چھڑا دیا اس کو۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے مسجد قبا میں صبح کی اتنے میں ایک شخص آکر بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو قرآن اترا اور حکم ہوا کعبہ کی طرف منہ کرنے کا پھر گئے وہ لوگ نماز میں کعبہ کی طرف اور پہلے منہ ان کے شام کی طرف تھے ۔
حدیث 461 — موطأ مالك 14:7
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد مدینہ میں آنے کے سولہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف پھر قبلہ بدل گیا دو مہینے پہلے جنگ بدر سے
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نماز پڑھنا میری مسجد میں بہتر ہے ہزار نمازوں سے دوسری مسجد میں سوائے مسجد حرام کے ۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر اور منبر کے بیچ میں ایک باغیچہ ہے جنت کے باغیچوں میں سے اور منبر میرا حوض پر ہے ۔