حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَىْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی بشر ہوں اور تم میرے پاس لڑتے جھگڑتے آتے ہو شائد تم میں سے کوئی باتیں بنا کر اپنے دعوے کو ثابت کرلے پھر میں اس کے موافق فیصلہ کروں اس کے کہنے پر تو جس شخص کو میں اس کے بھائی حقل دلا دوں وہ نہ لے کیونکہ میں ایک انگارہ آگ کا اس کو دلاتا ہوں ۔
حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان لڑتے ہوئے آئے حضرت عمر کو یہودی کی طرف حق معلوم ہوا انہوں ہے اس کے موافق فیصلہ کیا پھر یہودی بولا قسم اللہ کی تم نے سچا فیصلہ کیا حضرت عمر نے اس کو درے سے مار اور کہا تجھے کیونکرمعلوم ہوا یہودی نے کہا ہماری کتابوں میں لکھا ہے جو حاکم سچا فیصلہ کرتا ہے اس کے داہنے ایک فرشتہ ہوتا ہے اور بائیں ایک فرشتہ دونوں اس کو مضبوط کرتے ہیں اور سیدھی راہ بتلاتے ہیں جب تک کہ وہ حاکم حق پر جمار ہتا ہے جب حق چھوڑ دیتا ہے وہ فرشتے بھی اس کو چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں ۔
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے ۔
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا حضرت عمرب کے پاس آیا اور بولا میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں حضرت عمر نے کہا کیا ہے اس نے کہا جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں حضرت عمر نے کہا سچ اس نے کہا ہاں تب حضرت عمر نے کہا اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے ۔ حضرت عمر نے کہا نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی ۔
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
حدیث 1406 — موطأ مالك 36:8
صحیح
قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ .
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ایک قسم اور ایک گواہ پر ۔
عمر بن عبدالعزیز نے لکھا عبدالحمید بن عبدالرحمن کو اور وہ عامل تھے کوفہ کے کہ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا کر ۔ ام سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست ہے انہوں نے کہا ہاں ۔ کہا مالک نے جب مدعی کے پاس ایک گواہ ہو تو اس کی گواہی لے کر مدعی کو قسم دیں گے اگر وہ قسم کھالے گا تو بری ہو جائے گا اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو مدعی کا دعویٰ اس پر ثابت ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ایک قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ کرنا صرف اموال کے عدوے میں ہوگا اور حدود اور نکاح اور طلاق اور عتاق اور سرقہ اور قذف میں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست نہیں اور جس شخص نے عتاق کو اموال کے دعوے میں داخل کیا اس نے غلطی کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو غلام جب ایک گواہ لاتا اس امر پر کہ مولیٰ نے اس کو آزاد کر دیا ہے تو چاہیے تھا کہ غلام سے حلف لے کے اس کو آزاد کردیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ جب غلام اپنی آزادی پر ایک گواہ لائے تو اس کے مولیٰ سے حلف لیں گے اگر حلف کرلے گا تو آزادی ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر عورت ایک گواہ لائے اس امر پر کہ اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی تو خاوند سے قسم لیں گے اگر وہ قسم کھائے اس امر پر کہ میں نے طلاق نہیں دی تو طلاق ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر طلاق اور عتاق میں جب ایک گواہ ہو تو خاوند اور مولیٰ پر قسم لازم آئے گی ۔ کیونکہ عتاق ایک حد شرعی ہے جس میں عورتوں کی گواہی درست نہیں اس لئے کہ غلام جب آزاد ہوجاتا ہے تو اس کی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کی حدیں اوروں پر پڑتی ہیں اور اوروں کی حدیں اس پر پڑتی ہیں اگر وہ زنا کرے اور محصن ہو تو رجم کیا جائے گا اگر اس کو کوئی مار ڈالے تو قاتل بھی مارا جائے گا اور اس کے وارثوں کو میراث کا استحقاق حاصل ہوگا اگر کوئی حجت کرنے والا یہ کہے کہ مولیٰ جب غلام کو آزاد کر دے پھر ایک شخص اپنا قرض مولیٰ سے مانگنے آئے اور ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے اپنا قرض ثابت کرے تو مولیٰ پر قرضہ ثابت ہوجائے گا اگر مولیٰ کے پاس سوائے اس غلام کے کوئی مال نہ ہوگا تو اس غلام کی آزادی فسخ کر ڈالیں گے اس سے یہ بات نکالی کہ عورتوں کی گواہی عتاق میں درست ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ عورتوں کی گواہی قرضے کے اثبات میں معتبر ہوئی نہ کہ عتاق میں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو آزاد کر دے پھر اس کا قرض خواہ ایک گواہ اور ایک قسم سے اپنا قرضہ مولیٰ پر ثابت کر دے اور اس کی وجہ سے آزادی فسخ کی جائے یا مولیٰ پر قرضے کا دعویٰ کرے اور گواہ نہ رکھتا ہو تو مولیٰ سے قسم لی جائے اور وہ انکار کرے تو مدعی سے قسم لے کر اس کا قرضہ ثابت کردیا جائے اور آزادی فسخ کی جائے اسی طرح ایک شخص نکاح کرے لونڈی سے پھر لونڈی کا مولیٰ خاوند سے کہنے لگے کہ تو نے اور فلاں شخص نے مل کر میری اس لونڈی کو اتنے دینار میں خرید کیا ہے اور خاوند انکار کرے تو مولیٰ ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ لائے اپنے قول پر اس صورت میں بیع ثابت ہوجائے گی ۔ اور وہ لونڈی خاوند پر حرام ہوجائے گی۔ اور نکاح فسخ ہوجائے گا حالانکہ طلاق میں عورتوں کی گواہی درست نہیں ۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر ایک شخص قذف کرے ایک شخص کو پھر ایک مرد یا دو عورتیں گواہی دیں کہ جس شخص کو قذف کیا ہے وہ غلام ہے تو قاذف کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے گی حالانکہ قذف میں شہادت عورتوں کی درست نہیں ۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی مثال ہے کہ وہ عورتیں گواہی دیں بچے کے رونے پر تو اس بچے کے لئے میراث ثابت ہوجائے گی اور جو بچہ مر گیا ہوگا تو اس کے وارثوں کو میراث ملے گی حالانکہ ان دو عورتوں کے ساتھ نہ کوئی مرد ہے نہ قسم ہے اور کبھی میراث کا مال کثیر ہوتا ہے جیسے سونا چاندی زمین ، باغ، غلام وغیرہ اگر یہی دو عورتیں ایک درہم پر یا اس سے کم پر بھی گواہی دیں تو ان کی گواہی سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔ جب تک کہ ان کے ساتھ ایک مرد یا ایک قسم نہ ہو۔ کہا مالک نے بعضے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک قسم اور ایک گواہ سے حق ثابت نہیں ہو تو بہ سبب قول اللہ تعالیٰ کے فان لم یکونا رجلین الایة تو حجت ان لوگوں پر یہ ہے کہ آیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر ایک شخص نے دعویٰ کیا ایک شخص پر مال کا کیا نہیں حلف لیا جاتا مدعی علیہ تو اگر حلف کرتا ہے باطل ہوجاتا ہے اس سے یہ یہ حق اگر نکول کرتا ہے پھر حلف دلاتے ہیں صاحب حق کو تو یہ امر ایسا ہے کہ نہیں ہے اختلاف اس میں کسی کا لوگوں میں سے اور نہ کسی شہر میں شہروں میں سے تو کسی دلیل سے نکالا ہے اس کو اور کس کتاب اللہ میں پایا ہے اس مسئلے کو تو جب اس امر کو اقرار کرے تو ضرور ہی اقرار کرے یمین مع الشاہد کا اگرچہ نہیں ہے یہ کتاب اللہ میں مگر حدیث میں تو موجود ہے آدمی کو چاہیے کہ ٹھیک راستہ پہچانے اور دلیل کا موقع دیکھے اس صورت میں اگر اللہ چاہے گا تو اس کی مشکل حل ہو جائے گی۔