قرآني·Qurani
اردو

الوصايا

9 احادیث · #1455–1463

حدیث 1455 — موطأ مالك 37:1
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَىْءٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لائق ہے آدمی کو جس کے پاس چیز یا معاملہ ایسا ہو جس میں وصیت کرنا ضروری ہو اور وہ دو راتیں گزارے بغیر وصیت لکھے ہؤے کہا مالک نے اگر موصی اپنی وصیت کے بدلنے پر قادر نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ ہر وصیت کرنے والے کا مال اس کے اختیار سے نکل کر رکا رہتا حالانکہ ایسا نہیں ہے کبھی آدمی اپنی صحت کو بدل سکتا ہے سوائے تدبیر کے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک ہر وصیت کو بدل سکتا ہے سائے تدبیر کے۔
حدیث 1456 — موطأ مالك 37:2
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ هَا هُنَا غُلاَمًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ وَلَيْسَ لَهُ هَا هُنَا إِلاَّ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلْيُوصِ لَهَا ‏.‏ قَالَ فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بِثَلاَثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ هَا هُنَا غُلاَمًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ وَلَيْسَ لَهُ هَا هُنَا إِلاَّ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلْيُوصِ لَهَا ‏.‏ قَالَ فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بِثَلاَثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ‏.‏
حدیث 1457 — موطأ مالك 37:3
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلاَمًا، مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فُلاَنًا يَمُوتُ أَفَيُوصِي قَالَ فَلْيُوصِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ الْغُلاَمُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً ‏.‏ قَالَ فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمٍ فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلاَثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا كَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِكَ مَا يُوصِي بِهِ وَكَانَ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ فَلاَ وَصِيَّةَ لَهُ ‏.‏
عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب سے کہا گیا کہ اس جگہ مدینہ میں ایک لڑکا ہے قریب بلوغ کے مگر بالغ نہیں ہوا قبیلہ غسان سے اور اس کے وارث شام میں ہیں اور اس کے پاس مال ہے اور یہاں اس کا کوئی وارث نہیں سوائے ایک چچا زاد بہن کے تو حضرت عمر نے کہا اس کو وصیت کرے اس لڑکے نے مال کی وصیت جس کا نام بیر جشم تھا اپنی چچا زاد بہن کے واسطے کی عمرو بن سلیم نے کہا وہ مال تیس ہزار درہم کا بکا اور اس کی چچا زاد بہن عمرو بن سلیم کی ماں تھی ۔ ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں اور وارث اس کے شام میں تھے حضرت عمر سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا کیا وصیت کرے آپ نے فرمایا وصیت کرے یحیی بن سعید نے کہا وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا اور بیر جشم چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے وصیت درست ہے جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔
حدیث 1458 — موطأ مالك 37:4
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً صَالِحًا إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1459 — موطأ مالك 37:5
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُخَنَّثًا، كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَأَنَا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلاَنَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُخَنَّثًا، كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَأَنَا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلاَنَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1460 — موطأ مالك #1460
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ كَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ إِنَّهُ فَارَقَهَا فَجَاءَ عُمَرُ قُبَاءً فَوَجَدَ ابْنَهُ عَاصِمًا يَلْعَبُ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الدَّابَّةِ فَأَدْرَكَتْهُ جَدَّةُ الْغُلاَمِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّى أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنِي ‏.‏ وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ ابْنِي ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْكَلاَمَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي آخُذُ بِهِ فِي ذَلِكَ ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع (بچنے والا) کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہوجائے) تو بائع (بچنے والا) کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہو گیا تھا اب جو کچھ اس میں نقصان ہوجائے وہ اسی پر ہوگا اور جو کچھ زیادتی ہوجائے وہ بھی اسی کی ہوگی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو پھر اس کو وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بے قدر ہو کوئی اس کو نہ پوچھے تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو تو یہ نہیں ہوسکتا کہ بے چارے بائع (بچنے والا) کا نو دینار کا نقصان کرے یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو ناحق نو دینار کا نقصان دے اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہو۔
حدیث 1461 — موطأ مالك 37:7
ضعیف
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَتَبَ إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنْ هَلُمَّ إِلَى الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ إِنَّ الأَرْضَ لاَ تُقَدِّسُ أَحَدًا وَإِنَّمَا يُقَدِّسُ الإِنْسَانَ عَمَلُهُ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ جُعِلْتَ طَبِيبًا تُدَاوِي فَإِنْ كُنْتَ تُبْرِئُ فَنِعِمَّا لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُتَطَبِّبًا فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَانًا فَتَدْخُلَ النَّارَ ‏.‏ فَكَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا قَضَى بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْهُ نَظَرَ إِلَيْهِمَا وَقَالَ ارْجِعَا إِلَىَّ أَعِيدَا عَلَىَّ قِصَّتَكُمَا مُتَطَبِّبٌ وَاللَّهِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فِي شَىْءٍ لَهُ بَالٌ وَلِمِثْلِهِ إِجَارَةٌ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَ الْعَبْدَ إِنْ أُصِيبَ الْعَبْدُ بِشَىْءٍ وَإِنْ سَلِمَ الْعَبْدُ فَطَلَبَ سَيِّدُهُ إِجَارَتَهُ لِمَا عَمِلَ فَذَلِكَ لِسَيِّدِهِ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَعْضُهُ حُرًّا وَبَعْضُهُ مُسْتَرَقًّا إِنَّهُ يُوقَفُ مَالُهُ بِيَدِهِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يَأْكُلُ فِيهِ وَيَكْتَسِي بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا هَلَكَ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَقِيَ لَهُ فِيهِ الرِّقُّ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْوَالِدَ يُحَاسِبُ وَلَدَهُ بِمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ مِنْ يَوْمِ يَكُونُ لِلْوَلَدِ مَالٌ - نَاضًّا كَانَ أَوْ عَرْضًا - إِنْ أَرَادَ الْوَالِدُ ذَلِكَ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَتَبَ إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنْ هَلُمَّ إِلَى الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ إِنَّ الأَرْضَ لاَ تُقَدِّسُ أَحَدًا وَإِنَّمَا يُقَدِّسُ الإِنْسَانَ عَمَلُهُ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ جُعِلْتَ طَبِيبًا تُدَاوِي فَإِنْ كُنْتَ تُبْرِئُ فَنِعِمَّا لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُتَطَبِّبًا فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَانًا فَتَدْخُلَ النَّارَ ‏.‏ فَكَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا قَضَى بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْهُ نَظَرَ إِلَيْهِمَا وَقَالَ ارْجِعَا إِلَىَّ أَعِيدَا عَلَىَّ قِصَّتَكُمَا مُتَطَبِّبٌ وَاللَّهِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فِي شَىْءٍ لَهُ بَالٌ وَلِمِثْلِهِ إِجَارَةٌ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَ الْعَبْدَ إِنْ أُصِيبَ الْعَبْدُ بِشَىْءٍ وَإِنْ سَلِمَ الْعَبْدُ فَطَلَبَ سَيِّدُهُ إِجَارَتَهُ لِمَا عَمِلَ فَذَلِكَ لِسَيِّدِهِ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَعْضُهُ حُرًّا وَبَعْضُهُ مُسْتَرَقًّا إِنَّهُ يُوقَفُ مَالُهُ بِيَدِهِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِيهِ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يَأْكُلُ فِيهِ وَيَكْتَسِي بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا هَلَكَ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَقِيَ لَهُ فِيهِ الرِّقُّ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْوَالِدَ يُحَاسِبُ وَلَدَهُ بِمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ مِنْ يَوْمِ يَكُونُ لِلْوَلَدِ مَالٌ - نَاضًّا كَانَ أَوْ عَرْضًا - إِنْ أَرَادَ الْوَالِدُ ذَلِكَ ‏.‏
حدیث 1462 — موطأ مالك #1462
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلاَفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَسْبِقُ الْحَاجَّ فَيَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغْلِي بِهَا ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ فَأَفْلَسَ فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّ الأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ بِأَنْ يُقَالَ سَبَقَ الْحَاجَّ أَلاَ وَإِنَّهُ قَدْ دَانَ مُعْرِضًا فَأَصْبَحَ قَدْ رِينَ بِهِ فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نَقْسِمُ مَالَهُ بَيْنَهُمْ وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ وَآخِرَهُ حَرْبٌ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک غلام کی جنایت میں سنت یہ ہے کہ اگر غلام کا رقبہ (گردن ۔ آزادی یا غلامی) اس میں پھنس جائے گا تو مولیٰ (مالک) کو اختیار ہے چاہے ان چیزوں کی قیمت یا زخم کی دیت ادا کرے اور اپنے غلام کو رکھ لے چاہے اس غلام ہی کو صاحب جنایت کے حوالے کردے غلام کی قیمت سے زیادہ مولیٰ (مالک کو کچھ نہ دینا ہوگا اگرچہ اس چیز کی قیمت یا دیت اس کی قیمت سے زیادہ ہو۔)
حدیث 1463 — موطأ مالك 37:9
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نُحْلَهُ فَأَعْلَنَ ذَلِكَ لَهُ وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ نَحَلَ ابْنًا لَهُ صَغِيرًا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا ثُمَّ هَلَكَ وَهُوَ يَلِيهِ إِنَّهُ لاَ شَىْءَ لِلاِبْنِ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الأَبُ عَزَلَهَا بِعَيْنِهَا أَوْ دَفَعَهَا إِلَى رَجُلٍ وَضَعَهَا لاِبْنِهِ عِنْدَ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ جَائِزٌ لِلاِبْنِ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نُحْلَهُ فَأَعْلَنَ ذَلِكَ لَهُ وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ نَحَلَ ابْنًا لَهُ صَغِيرًا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا ثُمَّ هَلَكَ وَهُوَ يَلِيهِ إِنَّهُ لاَ شَىْءَ لِلاِبْنِ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الأَبُ عَزَلَهَا بِعَيْنِهَا أَوْ دَفَعَهَا إِلَى رَجُلٍ وَضَعَهَا لاِبْنِهِ عِنْدَ ذَلِكَ الرَّجُلِ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ جَائِزٌ لِلاِبْنِ ‏.‏
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔