قرآني·Qurani
اردو

البيوع

96 احادیث · #1290–1385

حدیث 1290 — موطأ مالك 31:1
حسن
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ: وَذلِكَ فِيمَا نُرَى - وَاللهُ أَعْلَمُ - أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ. أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ. ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ، أَوْ تَكَارَى مِنْهُ: أُعْطِيكَ دِينَاراً، أَوْ دِرْهَماً، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ، أَوْ أَقَلَّ. عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ، أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ، فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ. أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ، وَإِنْ تَرَكْتُ ابْتِيَاعَ السِّلْعَةِ، أَوْ كِرَاءَ الدَّابَّةِ، فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. قَالَ مَالِكٌ: وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِأَنْ يَبْتَاعَ الْعَبْدَ التَّاجِرَ الْفَصِيحَ، بِالْأَعْبُدِ مِنَ الْحَبَشَةِ، أَوْ مِنْ جِنْسٍ مِنَ الْأَجْنَاسِ، لَيْسُوا مِثْلَهُ فِي الْفَصَاحَةِ، وَلاَ فِي التِّجَارَةِ، وَالنَّفَاذِ، وَالْمَعْرِفَةِ. لاَ بَأْسَ بِهذَا، أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ الْعَبْدَ بِالْعَبْدَيْنِ، أَوْ بِالْأَعْبُدِ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ. إِذَا اخْتَلَفَ، فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ .فَإِنْ أَشْبَهَ بَعْضُ ذلِكَ بَعْضاً، حَتَّى يَتَقَارَبَ، فَلاَ تَأْخُذَنْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ، إِلَى أَجَلٍ. وَإِنِ اخْتَلَفَتْ أَجْنَاسُهُمْ. قَالَ مَالِكٌ: وَلاَ بَأْسَ بِأَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْ ذلِكَ، قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ. إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ. قَالَ مَالِكٌ: لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُسْتَثْنَى جَنِينٌ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، إِذَا بِيعَتْ. لِأَنَّ ذلِكَ غَرَرٌ. لاَ يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ (1) أُنْثَى أو حَسَنٌ (2) أَوْ قَبِيحٌ، أَوْ نَاقِصٌ، أَوْ تَامٌّ، أَوْ حَيٌّ أَوْ مَيِّتٌ؟. وَذلِكَ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا. قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ، بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ. ثُمَّ يَنْدَمُ الْبَائِعُ. فَيَسْأَلُ الْمُبْتَاعَ أَنْ يُقِيلَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، يَدْفَعُهَا إِلَيْهِ نَقْداً. أَوْ إِلَى أَجَلٍ. وَيَمْحُو عَنْهُ الْمِائَةَ دِينَارٍ الَّتِي لَهُ. قَالَ مَالِكٌ: لاَ بَأْسَ بِذلِكَ. وَإِنْ نَدِمَ الْمُبْتَاعُ، فَسَأَلَ الْبَائِعَ أَنْ يُقِيلَهُ فِي الْجَارِيَةِ، أَوِ الْعَبْدِ، وَيَزِيدَهُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْداً، أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنَ الْأَجَلِ الَّذِي اشْتَرَى إِلَيْهِ الْعَبْدَ، أَوِ الْوَلِيدَةَ. فَإِنَّ ذلِكَ لاَ يَنْبَغِي. وَإِنَّمَا كَرِهَ ذلِكَ؛ لِأَنَّ الْبَائِعَ كَأَنَّهُ بَاعَ مِنْهُ مِائَةَ دِينَارٍ لَهُ، إِلَى سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، بِجَارِيَةٍ، وَبِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْداً. أَوْ إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنَ السَّنَةِ. فَدَخَلَ فِي ذلِكَ بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَى أَجَلٍ. قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مِنَ الرَّجُلِ الْجَارِيَةَ بِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ يَشْتَرِيهَا بِأَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ الثَّمَنِ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ إِلَى أَبْعَدَ مِنْ ذلِكَ الْأَجَلِ، الَّذِي بَاعَهَا إِلَيْهِ: إِنَّ ذلِكَ لاَ يَصْلُحُ. وَتَفْسِيرُ مَا كَرِهَ مِنْ ذلِكَ، أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِلَى أَجَلٍ. ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِلَى أَجَلٍ أَبْعَدَ مِنْهُ. يَبِيعُهَا بِثَلاَثِينَ دِينَاراً إِلَى شَهْرٍ، ثُمَّ يَبْتَاعُهَا بِسِتِّينَ دِينَاراً، إِلَى سَنَةٍ، أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ. فَصَارَ، إِنْ رَجَعَتْ إِلَيْهِ سِلْعَتُهُ بِعَيْنِهَا، وَأَعْطَاهُ صَاحِبُهُ ثَلاَثِينَ دِينَاراً، إِلَى شَهْرٍ؛ بِسِتِّينَ دِينَاراً، إِلَى سَنَةٍ، أَوْ إِلَى نِصْفِ سَنَةٍ. فَهذَا لاَ يَنْبَغِي
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا عربان کی بیع سے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بائع (بچنے والا) سے یا جانور والے سے کہہ دے کہ میں تجھے ایک دینار یا کم زیادہ دیتا ہوں اس شرط پر کہ اگر میں اس غلام یا لونڈی کو خرید لوں گا تو وہ دینار اس کی قیمت میں سے سمجھنا یا جانور پر سواری کروں گا تو کرایہ میں سے خیال کرنا ورنہ میں اگر غلام یا لونڈی تجھے پھیر دوں یا جانور پر سوار نہ ہوں تو دینار مفت تیرا مال ہو جائے گا اس کو واپس نہ لوں گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو غلام تجارت کا فن خوب جانتا ہو زبان اچھی بولتا ہو اس کا بدلنا حبشی جاہل غلام سے درست ہے اسی طرح اور اسباب کا جو دوسرے اسباب کی مثل نہ ہو بلکہ اس سے زیادہ کھرا ہو اور ایک غلام کا دو غلاموں کے عوض میں یا کئی غلاموں کے بدلے میں درست ہے جب وہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے کھلا کھلا فرق رکھتی ہوں اور جو ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو دو چیزوں کا ایک کے بدلے میں لینا درست نہیں ۔ کہا مالک نے سوا کھانے کی چیزوں کے اور اسباب کا بیچنا قبضہ سے پہلے درست ہے مگر اور کسی کے ہاتھ نہ اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ بشرطیکہ قیمت دے چکا ہو۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص حاملہ لونڈی کو بیچے مگر اس کے حمل کو نہ بیچے تو درست نہیں کس واسطے کیا معلوم ہے کہ وہ حمل مرد ہے یا عورت خوبصورت ہے یا بدصورت پورا ہے یا لنڈور زندہ ہے یا مردہ تو کس طور سے اس کی قیمت لونڈی کی قیمت میں سے وضع کرے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک لونڈی یا غلام سو دینار کو خریدے اور قیمت ادا کرنے کی ایک میعاد مقرر کرے (مثلا ایک مہینے کے وعدے پر) پھر بائع (بچنے والا) شرمندہ ہو کر خریدار سے کہے کہ اس بیع کو فسخ کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد یا اس قدر میعاد میں لے لے تو درست ہے اور اگر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہے کہ بیع فسح کر ڈال اور دس دینار مجھ سے نقد لے لے یا اس میعاد کے بعد جو ٹھہری تھی تو درست نہیں کیونکہ یہ ایسا ہوا گویا بائع (بچنے والا) نے اپنے میعاد سے سو دینار کو ایک لونڈی اور دس دینار نقد یا میعادی پر بیع کیا تو سونے کی بیع سونے سے ہوئی میعاد پر اور یہ درست نہیں ۔
حدیث 1291 — موطأ مالك 31:2
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت عمر نے فرمایا جو شخص غلام کو بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ مال بائع (بچنے والا) کو ملے گا مگر جب خریدار شرط کر لے کہ وہ مال میں لوں گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ خریدار اگر شرط کر لے گا اس مال کے لینے کی تو وہ مال اسی کو ملے گا نقد ہو یا کسی پر قرض ہو یا اسباب ہو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو اگرچہ وہ مال اس زر ثمن سے زیادہ ہو۔ جس کے عوض میں وہ غلام بکا ہے کیونکہ غلام کے مال میں مولیٰ پر زکوة نہیں ہے وہ غلام ہی کا سمجھا جائے گا اور اس غلام کی اگر کوئی لونڈی ہوگی تو مولیٰ کو اس سے وطی کرنا درست ہو جائے گا اور اگر یہ غلام آزاد ہو جاتا یا مکاتب تو اس کا مال اسی کو ملتا اگر مفلس ہو جاتا تو قرض خواہوں کو مل جاتا اس کے مولیٰ سے مؤ اخذہ نہ ہوتا۔
حدیث 1292 — موطأ مالك 31:3
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، وَهِشَامَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، كَانَا يَذْكُرَانِ فِي خُطْبَتِهِمَا عُهْدَةَ الرَّقِيقِ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَى الْعَبْدُ أَوِ الْوَلِيدَةُ وَعُهْدَةَ السَّنَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَا أَصَابَ الْعَبْدُ أَوِ الْوَلِيدَةُ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ مِنْ حِينِ يُشْتَرَيَانِ حَتَّى تَنْقَضِيَ الأَيَّامُ الثَّلاَثَةُ فَهُوَ مِنَ الْبَائِعِ وَإِنَّ عُهْدَةَ السَّنَةِ مِنَ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَقَدْ بَرِئَ الْبَائِعُ مِنَ الْعُهْدَةِ كُلِّهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ بِالْبَرَاءَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ وَلاَ عُهْدَةَ عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ الْبَرَاءَةُ وَكَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا وَلاَ عُهْدَةَ عِنْدَنَا إِلاَّ فِي الرَّقِيقِ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل دونوں نے خطبے میں بیان کیا کہ غلام اور لونڈی کے عیب کی جواب دہی بائع (بچنے والا) پر تین روز تک ہے خریدنے کے وقت سے اور ایک جواب دہی سال بھر تک ہے ۔ کہا مالک نے غلام اور لونڈی کو جو عارضہ لاحق ہو تین دن کے اندر وہ بائع (بچنے والا) کی طرف سے سمجھا جائے گا اور مشتری (خریدنے والا) کو اس کے پھیر دینے کا اختیار ہوگا اور اگر جنون یا جذام یا برص نکلے تو ایک برس کے اندر پھیر دینے کا اختیار ہوگا بعد ایک سال کے پھر بائع (بچنے والا) سب باتوں سے بری ہو جائے اس کو کسی عیب کی جواب دہی لازم نہ ہوگی اگر کسی نے وارثوں میں سے یا اور لوگوں میں سے ایک غلام یا لونڈی کو پیچا اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہے تو پھر بائع (بچنے والا) پر جواب دہی لازم نہ ہوگی البتہ اگر جان بوجھ کر اس نے کوئی عیب چھپایا ہوگا تو جواب دہی اس پر لازم ہوگی اور مشتری (خریدنے والا) کو پھیر دینے کا اختیار ہوگا ۔ یہ جواب دہی خاص غلام یا لونڈی میں ہے اور چیزوں میں نہیں ۔
حدیث 1293 — موطأ مالك 31:4
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، بَاعَ غُلاَمًا لَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَبَاعَهُ بِالْبَرَاءَةِ فَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَهُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالْغُلاَمِ دَاءٌ لَمْ تُسَمِّهِ لِي ‏.‏ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَاءٌ لَمْ يُسَمِّهِ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بِعْتُهُ بِالْبَرَاءَةِ ‏.‏ فَقَضَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ لَقَدْ بَاعَهُ الْعَبْدَ وَمَا بِهِ دَاءٌ يَعْلَمُهُ فَأَبَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَحْلِفَ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَصَحَّ عِنْدَهُ فَبَاعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ كُلَّ مَنِ ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَحَمَلَتْ أَوْ عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَكُلَّ أَمْرٍ دَخَلَهُ الْفَوْتُ حَتَّى لاَ يُسْتَطَاعَ رَدُّهُ فَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ إِنَّهُ قَدْ كَانَ بِهِ عَيْبٌ عِنْدَ الَّذِي بَاعَهُ أَوْ عُلِمَ ذَلِكَ بِاعْتِرَافٍ مِنَ الْبَائِعِ أَوْ غَيْرِهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ أَوِ الْوَلِيدَةَ يُقَوَّمُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُرَدُّ مِنَ الثَّمَنِ قَدْرُ مَا بَيْنَ قِيمَتِهِ صَحِيحًا وَقِيمَتِهِ وَبِهِ ذَلِكَ الْعَيْبُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ يَرُدُّهُ مِنْهُ وَقَدْ حَدَثَ بِهِ عِنْدَ الْمُشْتَرِي عَيْبٌ آخَرُ إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْعَيْبُ الَّذِي حَدَثَ بِهِ مُفْسِدًا مِثْلُ الْقَطْعِ أَوِ الْعَوَرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْعُيُوبِ الْمُفْسِدَةِ فَإِنَّ الَّذِي اشْتَرَى الْعَبْدَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ بِقَدْرِ الْعَيْبِ الَّذِي كَانَ بِالْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وُضِعَ عَنْهُ وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَغْرَمَ قَدْرَ مَا أَصَابَ الْعَبْدَ مِنَ الْعَيْبِ عِنْدَهُ ثُمَّ يَرُدُّ الْعَبْدَ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ مَاتَ الْعَبْدُ عِنْدَ الَّذِي اشْتَرَاهُ أُقِيمَ الْعَبْدُ وَبِهِ الْعَيْبُ الَّذِي كَانَ بِهِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهُ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ يَوْمَ اشْتَرَاهُ بِغَيْرِ عَيْبٍ مِائَةَ دِينَارٍ وَقِيمَتُهُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ وَبِهِ الْعَيْبُ ثَمَانُونَ دِينَارًا وُضِعَ عَنِ الْمُشْتَرِي مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ وَإِنَّمَا تَكُونُ الْقِيمَةُ يَوْمَ اشْتُرِيَ الْعَبْدُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ رَدَّ وَلِيدَةً مِنْ عَيْبٍ وَجَدَهُ بِهَا وَكَانَ قَدْ أَصَابَهَا أَنَّهَا إِنْ كَانَتْ بِكْرًا فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي إِصَابَتِهِ إِيَّاهَا شَىْءٌ لأَنَّهُ كَانَ ضَامِنًا لَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا أَوْ وَلِيدَةً أَوْ حَيَوَانًا بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَهْلِ الْمِيرَاثِ أَوْ غَيْرِهِمْ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ فِيمَا بَاعَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ فِي ذَلِكَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ تَبْرِئَتُهُ وَكَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْجَارِيَةِ تُبَاعُ بِالْجَارِيَتَيْنِ ثُمَّ يُوجَدُ بِإِحْدَى الْجَارِيَتَيْنِ عَيْبٌ تُرَدُّ مِنْهُ قَالَ تُقَامُ الْجَارِيَةُ الَّتِي كَانَتْ قِيمَةَ الْجَارِيَتَيْنِ فَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُهَا ثُمَّ تُقَامُ الْجَارِيَتَانِ بِغَيْرِ الْعَيْبِ الَّذِي وُجِدَ بِإِحْدَاهُمَا تُقَامَانِ صَحِيحَتَيْنِ سَالِمَتَيْنِ ثُمَّ يُقْسَمُ ثَمَنُ الْجَارِيَةِ الَّتِي بِيعَتْ بِالْجَارِيَتَيْنِ عَلَيْهِمَا بِقَدْرِ ثَمَنِهِمَا حَتَّى يَقَعَ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حِصَّتُهَا مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْمُرْتَفِعَةِ بِقَدْرِ ارْتِفَاعِهَا وَعَلَى الأُخْرَى بِقَدْرِهَا ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى الَّتِي بِهَا الْعَيْبُ فَيُرَدُّ بِقَدْرِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا مِنْ تِلْكَ الْحِصَّةِ إِنْ كَانَتْ كَثِيرَةً أَوْ قَلِيلَةً وَإِنَّمَا تَكُونُ قِيمَةُ الْجَارِيَتَيْنِ عَلَيْهِ يَوْمَ قَبْضِهِمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْعَبْدَ فَيُؤَاجِرُهُ بِالإِجَارَةِ الْعَظِيمَةِ أَوِ الْغَلَّةِ الْقَلِيلَةِ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ إِنَّهُ يَرُدُّهُ بِذَلِكَ الْعَيْبِ وَتَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ وَغَلَّتُهُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ بِبَلَدِنَا وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً ابْتَاعَ عَبْدًا فَبَنَى لَهُ دَارًا قِيمَةُ بِنَائِهَا ثَمَنُ الْعَبْدِ أَضْعَافًا ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا يُرَدُّ مِنْهُ رَدَّهُ وَلاَ يُحْسَبُ لِلْعَبْدِ عَلَيْهِ إِجَارَةٌ فِيمَا عَمِلَ لَهُ فَكَذَلِكَ تَكُونُ لَهُ إِجَارَتُهُ إِذَا آجَرَهُ مِنْ غَيْرِهِ لأَنَّهُ ضَامِنٌ لَهُ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنِ ابْتَاعَ رَقِيقًا فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَوَجَدَ فِي ذَلِكَ الرَّقِيقِ عَبْدًا مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِعَبْدٍ مِنْهُمْ عَيْبًا أَنَّهُ يُنْظَرُ فِيمَا وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَإِنْ كَانَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ أَوْ أَكْثَرَهُ ثَمَنًا أَوْ مِنْ أَجْلِهِ اشْتَرَى وَهُوَ الَّذِي فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ مَرْدُودًا كُلُّهُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي وُجِدَ مَسْرُوقًا أَوْ وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فِي الشَّىْءِ الْيَسِيرِ مِنْهُ لَيْسَ هُوَ وَجْهَ ذَلِكَ الرَّقِيقِ وَلاَ مِنْ أَجْلِهِ اشْتُرِيَ وَلاَ فِيهِ الْفَضْلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ رُدَّ ذَلِكَ الَّذِي وُجِدَ بِهِ الْعَيْبُ أَوْ وُجِدَ مَسْرُوقًا بِعَيْنِهِ بِقَدْرِ قِيمَتِهِ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَى بِهِ أُولَئِكَ الرَّقِيقَ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک غلام بیچا آٹھ سو درہم کو اور مشتری (خریدنے والا) سے شرط کرلی کہ عیب کی جواب دہی سے میں بری ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) نے کہا غلام کو ایک بیماری ہے تم نے مجھ سے اس کا بیان نہیں کیا تھا پھر دونوں میں جھگڑا ہوا اور گئے عثمان بن عفان کے پاس مشتری (خریدنے والا) بولا کہ انہوں نے ایک غلام میرے ہاتھ بیچا اور اس کو ایک بیماری تھی انہوں نے بیان نہیں کیا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے شرط کرلی تھی عیب کی جواب دہی میں نہ کروں گا حضرت عثمان نے حکم کیا کہ عبداللہ بن عمر حلف کریں میں نے یہ غلام بیچا اور میرے علم میں اس کو کوئی بیماری نہ تھی عبداللہ نے قسم کھالے سے انکار کیا تو وہ غلام پھر آیا عبداللہ پاس اور اس بیماری سے اچھا ہو گیا پھر عبداللہ نے اس کو ایک ہزار پانچ سو درہم کا بیچا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ مسئلہ اتفاقی ہے کہ جو شخص خریدے ایک لونڈی کو پھر وہ حاملہ ہو جائے خریدار سے یا غلام خرید لے پھر اس کو آزاد کر دے یا کوئی اور امر ایسا کرے جس کے سبب سے اس غلام یا لونڈی کا پھیرنا نہ ہو سکے بعد اس کے گواہ گواہی دیں کہ اس غلام یا لونڈی میں بائع (بچنے والا) کے پاس سے کوئی عیب تھا یا بائع (بچنے والا) خود اقرار کر لے کہ میرے پاس یہ عیب تھا یا اور کسی صورت سے معلوم ہو جائے کہ عیب بائع (بچنے والا) کے پاس ہی تھا تو اس غلام اور لونڈی کی خرید کے روز کے عیب سمیت قیمت لگا کر بے عیب کی بھی قیمت لگا دیں دونوں قیمتوں میں جس قدر فرق ہو اس قدرت مشتری (خریدنے والا) بائع (بچنے والا) سے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک غلام خریدا پھر اس میں ایسا عیب پایا جس کی وجہ سے وہ غلام بائع (بچنے والا) کو بھیر سکتا ہے مگر مشتری (خریدنے والا) کے پاس جب وہ غلام آیا اس میں دوسرا عیب ہو گیا مثلا اس کا کوئی عضو کٹ گیا یا کانا ہو گیا تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے چاہے اس غلام کو رکھ لے اور بائع (بچنے والا) سے عیب کا نقصان لے لے چاہے غلام کو واپس کر دے اور عیب کا تاوان دے اگر وہ غلام مشتری (خریدنے والا) کے پاس مر گیا تو عیب سمیت قیمت لگا دیں گے خرید کے روز کی مثلا جس دن خریدا تھا اس روز عیب سمیت اس غلام کی قیمت اسی دینار تھی اور بے عیب سو دینار تو مشتری (خریدنے والا) بیس دینار بائع (بچنے والا) سے مجرا لے گا مگر قیمت اس کی لفائی جائے گی جس دن خریدا تھا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر ایک شخص نے لونڈی خریدی پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کر دیا مگر اس سے جماع کر چکا تھا تو اگر وہ لونڈی باکرہ تھی تو جس قدر اس کی قیمت میں نقصان ہو گیا مشتری (خریدنے والا) کو دینا ہوگا اور اگر ثییبہ تھی تو مشتری (خریدنے والا) کو کچھ دینا نہ ہو گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص غلام یا لونڈی یا اور کوئی جانور بیچے یہ شرط لگا کر کہ اگر کوئی عیب نکلے گا تو میں بری ہوں یا بائع (بچنے والا) عیب کی جواب دہی سے بری ہو جائے گا مگر جب جان بوجھ کر کوئی عیب اس میں ہو اور وہ اس کو چھپائے اگر ایسا کرے گا تو یہ شرط مفید نہ ہوگی اور وہ چیز بائع (بچنے والا) کو واپس کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر ایک لونڈی کو دو لونڈیوں کے بدلے میں بیچا پھر ان دو لونڈیوں میں سے ایک لونڈی میں کچھ عیب نکل جس کی وجہ سے وہ پھر سکتی ہے تو پہلے اس لونڈی کی قیمت لگائی جائے گی جس کے بدلے میں یہ دونوں لونڈیاں آئی ہیں پھر ان دونوں لونڈیوں کی بے عیب سمجھ کر قیمت لگا دیں گے پھر اس لونڈی کے زر ثمن کو ان دونوں لونڈیوں کی قیمت پر تقسیم کریں گے ہر ایک کا حصہ جدا ہوگا بے عیب لونڈی کا اس کے موافق اور عیب دار کا اس کے موافق پھر عیب دار لونڈی اس حصہ ثمن کے بدلے میں واپس کی جائے گی قلیل ہو یا کثیر مگر قیمت دو لونڈیوں کی اسی روز کی نگائی جائے گی جس دن وہ لونڈیاں مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہیں ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس سے مزدوری کرائی اور مزدوری کے دام حاصل کئے قلیل ہوں یا کثیر بعد اس کے اس غلام میں عیب نکلا جس کی وجہ سے وہ غلام پھیر سکتا ہے تو وہ اس غلام کو پھیر دے اور مزدوری کے پیسے رکھ لے اس کا واپس کرنا ضروری نہیں ہمارے نزدیک جماعت علماء کا یہی مذہب ہے اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک غلام خریدا اور اس کے ہاتھ سے ایک گھر بنوایا جس کی بنوائی اس کی قیمت سے دوچند سہ چند ہے پھر عیب کی وجہ سے اسے واپس کر دیا تو غلام واپس ہو جائے گا اور بائع (بچنے والا) کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ مشتری (خریدنے والا) سے گھر بنوانے کی مزدوری لے اسی طرح سے غلام کی کمائی بھی مشتری (خریدنے والا) کی رہے گی۔ کہا ملک نے اگر ایک شخص نے کئی غلام ایک ہی دفعہ (یعنی ایک ہی عقد میں) خریدے اب ان میں سے ایک غلام چوری کا نکلا یا اس میں کچھ عیب نکلا تو اگر وہی غلام سب غلاموں میں عمدہ اور ممتاز ہوگا اور اسی کی وجہ سے باقی غلام خریدے گئے ہوں تو ساری بیع فسخ ہو جائے گی اور سب غلام پھر واپس دیئے جائیں گے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو صرف اس غلام کو پھیر دے گا اور زر ثمن میں سے بقدر اس کی قیمت کے حصہ لگا کر بائع (بچنے والا) سے واپس لے گا۔
حدیث 1294 — موطأ مالك 31:5
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ابْتَاعَ جَارِيَةً مِنِ امْرَأَتِهِ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّكَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ فَسَأَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ تَقْرَبْهَا وَفِيهَا شَرْطٌ لأَحَدٍ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود نے ایک لونڈی خریدی اپنی بی بی زینب ثقفیہ سے ان کی بی بی نے اس شرط سے بیچی کہ جب تم اس لونڈی کو بیچنا عبداللہ بن مسعود اس امر کو حضرت عمر سے بیان کیا انہوں نے کہا تو اس لونڈی سے صحبت مت کر جس میں کسی کی شرط لگی ہو ۔
حدیث 1295 — موطأ مالك 31:6
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلاَّ وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِيمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً عَلَى شَرْطِ أَنْ لاَ يَبِيعَهَا أَوْ لاَ يَهَبَهَا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الشُّرُوطِ فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَطَأَهَا وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا وَلاَ يَهَبَهَا فَإِذَا كَانَ لاَ يَمْلِكُ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَمْ يَمْلِكْهَا مِلْكًا تَامًّا لأَنَّهُ قَدِ اسْتُثْنِيَ عَلَيْهِ فِيهَا مَا مَلَكَهُ بِيَدِ غَيْرِهِ فَإِذَا دَخَلَ هَذَا الشَّرْطُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ بَيْعًا مَكْرُوهًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے آدمی کو اس لونڈی سے وطی کرنا درست ہے جس پر سب طرح کا اختیار ہو اگر چاہے اس کو بیچ ڈالے چاہے ہبہ کر دے چاہے رکھ چھوڑے جو چاہے سو کر سکے ۔ کہا مالک نے جو شخص کسی لونڈی کو اس شرط پر خریدے کہ اس کو بیچوں گا نہیں یا ہبہ نہ کروں گا یا اس کی مثل اور کوئی شرط لگا دی تو اس لونڈی سے وطی کرنا درست نہیں کیونکہ جب اس کو اس لونڈی کے بیچنے یا ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اس کی ملک پوری نہیں ہوئی اور جو لوازم تھے اس کی ملک کے وہ غیر کے اختیار میں رہے اور اس طرح کی بیع مکروہ ہے۔
حدیث 1296 — موطأ مالك 31:7
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، أَهْدَى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ جَارِيَةً وَلَهَا زَوْجٌ ابْتَاعَهَا بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ لاَ أَقْرَبُهَا حَتَّى يُفَارِقَهَا زَوْجُهَا ‏.‏ فَأَرْضَى ابْنُ عَامِرٍ زَوْجَهَا فَفَارَقَهَا ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عثمان بن عفان کو ایک لونڈی ہدیہ دی مگر اس کا ایک خاوند تھا اور عبداللہ نے اس لونڈی کو بصرے میں خریدا تھا تو عثمان نے کہا میں اس لونڈی سے وطی نہ کروں گا جب تک اس کا خاوند اس کو چھوڑ نہ دے عبداللہ نے اس خاوند کو راضی کر دیا تو اس نے چھوڑ دیا ۔
حدیث 1297 — موطأ مالك 31:8
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، ابْتَاعَ وَلِيدَةً فَوَجَدَهَا ذَاتَ زَوْجٍ فَرَدَّهَا ‏.‏
ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ایک لونڈی خریدی بعد اس کے معلوم ہوا وہ خاوند رکھتی ہے تو اس کو واپس کر دیا ۔
حدیث 1298 — موطأ مالك 31:9
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھجور کا درخت تابیر کیا ہو بیچ تو اس کے پھل بائع (بچنے والا) کے ہوں گے مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) شرط کر لے کہ بھل میرے ہیں ۔
حدیث 1299 — موطأ مالك 31:10
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏
ابن عمر سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ ان کی پختگی اور بہتری کا یقین ہو جائے منع کیا بائع (بچنے والا) کو اور مشتری (خریدنے والا) کو۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔