قرآني·Qurani
اردو

البيوع

96 احادیث · #1290–1385

حدیث 1360 — موطأ مالك 31:22
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَجُلٍ ابْتَعْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ بِنَقْدٍ حَتَّى أَبْتَاعَهُ مِنْكَ إِلَى أَجَلٍ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَجُلٍ ابْتَعْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ بِنَقْدٍ حَتَّى أَبْتَاعَهُ مِنْكَ إِلَى أَجَلٍ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ ‏.‏
حدیث 1361 — موطأ مالك 31:23
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، اشْتَرَى سِلْعَةً بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ ابْتَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَتْ لِلْمُشْتَرِي بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي ذَلِكَ لأَنَّهُ إِنْ أَخَّرَ الْعَشَرَةَ كَانَتْ خَمْسَةَ عَشَرَ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ نَقَدَ الْعَشَرَةَ كَانَ إِنَّمَا اشْتَرَى بِهَا الْخَمْسَةَ عَشَرَ الَّتِي إِلَى أَجَلٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً بِدِينَارٍ نَقْدًا أَوْ بِشَاةٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لاَ يَنْبَغِي لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهَذَا مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ أَشْتَرِي مِنْكَ هَذِهِ الْعَجْوَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الصَّيْحَانِيَّ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ أَوِ الْحِنْطَةَ الْمَحْمُولَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الشَّامِيَّةَ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ بِدِينَارٍ قَدْ وَجَبَتْ لِي إِحْدَاهُمَا إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لاَ يَحِلُّ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ أَوْجَبَ لَهُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ صَيْحَانِيًّا فَهُوَ يَدَعُهَا وَيَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْعَجْوَةِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْحِنْطَةِ الْمَحْمُولَةِ فَيَدَعُهَا وَيَأْخُذُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ مِنَ الشَّامِيَّةِ فَهَذَا أَيْضًا مَكْرُوهٌ لاَ يَحِلُّ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهُوَ أَيْضًا مِمَّا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُبَاعَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنَ الطَّعَامِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا دو بیعوں سے ایک بیع میں ۔ ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میرے واستے یہ اونٹ نقد خرید کرلو میں تم سے وعدے پر خرید کر لوں گا عبداللہ بن عمر نے اس کا برا جانا اور منع کیا قاسم بن محمد سے سوال ہوا ایک شخص نے ایک چیز خریدی دس دینار کے بدلے میں یا پندہ دینار اور ادھار کے بدلے میں تو قاسم بن محمد نے اس کو برا جانا اور اس سے منع کیا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک کپڑا اس شرط سے خریدا اگر نقد دے تو دس دینار دے اگر وعدے پر دے تو پندرہ دینار دے بہر حال مشتری (خریدنے والا) کو دونوں میں ایک قمیت دینا ضروری ہے تو یہ جانق نہیں کیونکہ اس نے اگر دس دینار نقد نہ دیئے تو دس کے بدلے پندرہ ادھار ہوئے اور جو دس نقد دے دیئے تو گویا پندرہ ادھار اس کے بدلے میں لیے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی کھجور پندرہ صاع یا اس قسم کی دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لی دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا یا یوں کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی گیہوں پندرہ صاع یا اس قسم کی گیہوں دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لئے دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا تو یہ درست نہیں گویا اس نے دس صاع کھجور لے کر پھر اس کو چھوڑ کر پندرہ صاع کھجور لی یا دس صاع گیہوں چھوڑ کر اس کے عوض میں پندرہ صاع لئے یہ بھی اس میں داخل ہے یعنی دو بیع کرنا ایک بیع میں ۔
حدیث 1362 — موطأ مالك 31:24
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنَ الْغَرَرِ وَالْمُخَاطَرَةِ أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ قَدْ ضَلَّتْ دَابَّتُهُ أَوْ أَبَقَ غُلاَمُهُ وَثَمَنُ الشَّىْءِ مِنْ ذَلِكَ خَمْسُونَ دِينَارًا فَيَقُولُ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُ مِنْكَ بِعِشْرِينَ دِينَارًا ‏.‏ فَإِنْ وَجَدَهُ الْمُبْتَاعُ ذَهَبَ مِنَ الْبَائِعِ ثَلاَثُونَ دِينَارًا وَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ ذَهَبَ الْبَائِعُ مِنَ الْمُبْتَاعِ بِعِشْرِينَ دِينَارًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَفِي ذَلِكَ عَيْبٌ آخَرُ إِنَّ تِلْكَ الضَّالَّةَ إِنْ وُجِدَتْ لَمْ يُدْرَ أَزَادَتْ أَمْ نَقَصَتْ أَمْ مَا حَدَثَ بِهَا مِنَ الْعُيُوبِ فَهَذَا أَعْظَمُ الْمُخَاطَرَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَالْغَرَرِ اشْتِرَاءَ مَا فِي بُطُونِ الإِنَاثِ مِنَ النِّسَاءِ وَالدَّوَابِّ لأَنَّهُ لاَ يُدْرَى أَيَخْرُجُ أَمْ لاَ يَخْرُجُ فَإِنْ خَرَجَ لَمْ يُدْرَ أَيَكُونُ حَسَنًا أَمْ قَبِيحًا أَمْ تَامًّا أَمْ نَاقِصًا أَمْ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى وَذَلِكَ كُلُّهُ يَتَفَاضَلُ إِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا وَإِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي بَيْعُ الإِنَاثِ وَاسْتِثْنَاءُ مَا فِي بُطُونِهَا وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ ثَمَنُ شَاتِي الْغَزِيرَةِ ثَلاَثَةُ دَنَانِيرَ فَهِيَ لَكَ بِدِينَارَيْنِ وَلِي مَا فِي بَطْنِهَا ‏.‏ فَهَذَا مَكْرُوهٌ لأَنَّهُ غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَحِلُّ بَيْعُ الزَّيْتُونِ بِالزَّيْتِ وَلاَ الْجُلْجُلاَنِ بِدُهْنِ الْجُلْجُلاَنِ وَلاَ الزُّبْدِ بِالسَّمْنِ لأَنَّ الْمُزَابَنَةَ تَدْخُلُهُ وَلأَنَّ الَّذِي يَشْتَرِي الْحَبَّ وَمَا أَشْبَهَهُ بِشَىْءٍ مُسَمًّى مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهُ لاَ يَدْرِي أَيَخْرُجُ مِنْهُ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَهَذَا غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا اشْتِرَاءُ حَبِّ الْبَانِ بِالسَّلِيخَةِ فَذَلِكَ غَرَرٌ لأَنَّ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ حَبِّ الْبَانِ هُوَ السَّلِيخَةُ وَلاَ بَأْسَ بِحَبِّ الْبَانِ بِالْبَانِ الْمُطَيَّبِ لأَنَّ الْبَانَ الْمُطَيَّبَ قَدْ طُيِّبَ وَنُشَّ وَتَحَوَّلَ عَنْ حَالِ السَّلِيخَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ عَلَى أَنَّهُ لاَ نُقْصَانَ عَلَى الْمُبْتَاعِ إِنَّ ذَلِكَ بَيْعٌ غَيْرُ جَائِزٍ وَهُوَ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهُ كَأَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُ بِرِبْحٍ إِنْ كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ وَإِنْ بَاعَ بِرَأْسِ الْمَالِ أَوْ بِنُقْصَانٍ فَلاَ شَىْءَ لَهُ وَذَهَبَ عَنَاؤُهُ بَاطِلاً فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ وَلِلْمُبْتَاعِ فِي هَذَا أُجْرَةٌ بِمِقْدَارِ مَا عَالَجَ مِنْ ذَلِكَ وَمَا كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ مِنْ نُقْصَانٍ أَوْ رِبْحٍ فَهُوَ لِلْبَائِعِ وَعَلَيْهِ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَاتَتِ السِّلْعَةُ وَبِيعَتْ ‏.‏ فَإِنْ لَمْ تَفُتْ فُسِخَ الْبَيْعُ بَيْنَهُمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا أَنْ يَبِيعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً يَبُتُّ بَيْعَهَا ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي فَيَقُولُ لِلْبَائِعِ ضَعْ عَنِّي فَيَأْبَى الْبَائِعُ وَيَقُولُ بِعْ فَلاَ نُقْصَانَ عَلَيْكَ ‏.‏ فَهَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ لأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَإِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ وَضَعَهُ لَهُ وَلَيْسَ عَلَى ذَلِكَ عَقَدَا بَيْعَهُمَا وَذَلِكَ الَّذِي عَلَيْهِ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا دھوکے کی بیع سے کہا مالک نے دھوکے کی بیع میں یہ داخل ہے کسی شخص کا جانور گم ہوگیا ہو یا غلام بھاگ گیا ہو اور اس کی قیمت پچاس دینار ہو ایک شخص اس سے کہے میں تیرے اس جانور یا غلام کو بیس دینار کو لیتا ہوں اگر وہ مل گیا تو بائع (بچنے والا) کے تیس دینار نقصان ہوئے اور جو نہ ملا تو مشتری (خریدنے والا) کے پاس بیس دینار گئے۔ کہا مالک نے اس میں ایک بڑا دھوکا ہے معلوم نہیں وہ جانور یا غلام اسی حال میں ہے یا اس میں کوئی عیب ہوگیا یا ہنر ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قیمت گھٹ بڑھ گئی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ حمل کا خریدنا بھی دھوکے کی بیع میں داخل ہے معلوم نہیں بچہ نکلتا ہے یا نہیں اگر نکلے تو خوبصورت ہوگا یا بدصورت پورا ہوگا یا لنڈورا۔ نر ہو یا مادہ اور ہر ایک کی قیمت کم وبیش ہے۔ کہا مالک نے مادہ کو بیچنا اور اس کے حمل کو مشتثنی کرلینا درست نہیں جیسے کوئی کسی سے کہے میری دودھ والی بکری کی قیمت تین دینار ہیں تو دو دینار کو لے لے مگر اس کے پیٹ کا بچہ جب پیدا ہوگا تو میں لے لوں گا یہ مکروہ ہے درست نہیں ۔ کہا مالک نے زیتون کی لکڑی اس کے تیل کے اور تل تیل کے بدلے میں اور مکھن گھی کے بدلے میں بیچنا درست نہیں اس لئے کہ یہ مزابنہ میں داخل ہے۔ اور اس میں دھوکہ ہے معلوم نہیں اس تل یا لکڑی یا مکھن میں اسی قدر تیل یا گھی نکلتا ہے یا اس سے کم یا زیادہ۔ کہا مالک نے اسی طرح حب البان کا بیچنا روغن بان کے بدلے میں نادرست ہے البتہ حب البان کو خوشبودار بان کے بدلے میں بیچنا درست ہے کیونکہ وہ خوشبو ملانے سے تیل کے حکم میں نہ رہا۔ کہا مالک نے ایک شخص نے اپنی چیز کسی کے ہاتھ اس شرط پر بیچی کہ مشتری (خریدنے والا) کو نقصان نہ ہوگا تو یہ جائز نہیں گویا بائع (بچنے والا) نے مشتری (خریدنے والا) کو نوکر رکھا اگر اس چیز میں نفع ہو اور اگر اتنے ہی کو بکے جتنے کو خریدا ہے یا کم کو مشتری (خریدنے والا) کی محنت برباد ہوئی تو یہ درست نہیں مشتری (خریدنے والا) کو اس کی محنت کے موافق مزدوری ملے گی اور جو کچھ نفع نقصان ہو بائع (بچنے والا) کا ہوگا مگر یہ حکم جب ہے کہ مشتری (خریدنے والا) اس چیز کو بیچ چکا ہو اگر اس نے نہیں بیچا تو بیع کو فسخ کریں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی چیز بیچ ڈالی پھر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہنے لگا کچھ قیمت کم کردے بائع (بچنے والا) نے انکار کیا اور کہا تو غم نہ کھابیچ دے تجھے نقصان نہ ہوگا اس میں کچھ قباحت نہیں نہ دھوکا ہے بلکہ بائع (بچنے والا) نے ایک رائے اپنی بیان کی کچھ اس شرط پر نہیں بیچا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
حدیث 1363 — موطأ مالك 31:25
صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ملامسے اور منابذے سے ۔ کہا مالک نے ملامسہ اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایک کپڑے کو چھوڑ کر خرید کرلے نہ اس کو کھولے نہ اندر سے دیکھے یا اندھیری رات میں خریدے نہ جانے اس میں کیا ہے اور منابذہ اس کو کہتے ہیں کہ بائع (بچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے اور مشتری (خریدنے والا) اپنا کپڑا بائع (بچنے والا) کی طرف نہ سوچیں نہ بچاریں یہ اس کے بدلے میں اور وہ اس کے بدلے میں یہ دونوں بیع ممنوع ہیں ۔ کہا مالک نے جوتھان تہہ کیا یا چادر بستے میں بندھی ہو تو اس کو بیچنا درست نہیں جب تک کھول کر اندر نہ دیکھے۔
حدیث 1364 — موطأ مالك 31:26
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص ایک شہر سے کپڑا خرید کرکے دوسرے شہر میں لائے پھر مرابحہ کے طور پر بیچنا چاہے تو اصل لاگت میں دلالوں کی دلالی اور تہہ کرنے کی مزدوری اور باندھا بوندھی کی اجرت اور اپنا خرچ اور مکان کا کرایہ شریک نہ کرے البتہ کپڑے کی بار برداری اس میں شریک کرلے مگر اس پر نفع نہ لے مگر جب مشتری (خریدنے والا) کو اطلاع دے اور وہ اس پر بھی نفع دینے کو راضی ہوجائے تو کچھ قباحت نہیں ۔ کہا مالک نے کپڑوں کی دھلائی اور نگوائی اس لاگت میں داخل ہوگی اور اس پر نفع لیا جائے گا۔ جیسے کپڑے پر نفع لیا جاتا ہے۔ اگر کپڑوں کو بیچا اور ان چیزوں کا حال بیان نہ کیا تو ان پر نفع نہ ملے گا اب اگر کپڑا تلف ہوگیا تو کرایہ باربرداری کا محسوب ہوگا مگر اس پر نفع نہ لگایا جائے گا۔ اگر کپڑا موجود ہے تو بیع کو فسخ کردیں گے جب دونوں راضی ہوجائیں کسی امر پر۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب سونے یا چاندی کے بدلے میں خریدا تو اس دن چاندی سونے کا بھاؤ یہ تھا کہ دس درہم کو ایک دینار آتا تھا پھر مشتری (خریدنے والا) اس مال کو لے کر دوسرے شہر میں آیا اور اسی شہر میں مرابحہ کے کے طور پر بیچنا چاہا اسی نرخ پر جو سونے چاندی کا اس دن تھا اگر اس نے دراہم کے بدلے میں خریدا تھا اور دیناروں کے بدلے میں بیچا یا دیناروں کے بدلے میں خریدا تھا اور درہموں کے بدلے میں بیچا اور اسباب موجود ہے۔ تلف نہیں ہوا تو خریدار کو اختیار ہوگا چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر وہ اسباب تلف ہوگیا تو مشتری (خریدنے والا) سے وہ ثمن جس کے عوض میں بائع (بچنے والا) نے خریدا تھا نفع حساب کرکے بائع (بچنے والا) کو دلادیں گے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے اپنی چیز جو سو دینار کو پڑی تھی دس فی صدی کے نفع پر بیچی پھر معلوم ہوا کہ وہ چیز نوے دینار کو پڑی تھی اور وہ چیز مشتری (خریدنے والا) کے پاس تلف ہوگئی تو اب بائع (بچنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے اس چیز کی قیمت بازار کی لے لے اس دم کی قیمت جس دن وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے پاس آئی تھی مگر جس صورت میں قیمت بازار کی اس ثمن سے جو اول میں ٹھہری تھی یعنی ایک سو دس دینار سے زیادہ ہو تو بائع (بچنے والا) کو ایک سو دس دینار سے زیادہ نہ ملیں گے اور اگر چاہے تو نوے دینار پر اسی حساب سے نفع لگا کریعنی ننانوے دینار لے لے مگر جس صورت میں یہ ثمن قیمت سے کم ہو تو بائع (بچنے والا) کا اختیار ہوگا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک چیز مرابحہ پر بیچی اور کہا سو دینار کو مجھ کو پڑی ہے پھر اس کو معلوم ہوا ایک سو بیس دینار کو پڑی تو اب خریدار کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو بائع (بچنے والا) کا اس دن کی قیمت بازار کی جس دن وہ شئے لی ہے دے دے اور اگر چاہے تو جس ثمن پر خرید کیا ہے نفع لگا کر جہاں تک پہنچے دے مگر جس صورت میں قیمت بازار کی پہلی ثمن سے (یعنی جو سو دینار پر لگی ہے) کم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ نہیں پہنچتاکہ اس سے کم دے اس واسطے کہ مشتری (خریدنے والا) اس پر راضی ہوچکا ہے مگر بائع (بچنے والا) نے اس سے زیادہ بیان کیا تو خریدار کو اصلی ثمن سے کم کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
حدیث 1365 — موطأ مالك 31:27
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ ‏"‏ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1366 — موطأ مالك 31:28
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ فَعَرَضُوا عَلَىَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لاَ آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلاَ تُوكِلَهُ ‏.‏
ابو صالح نے کہا میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر جب میں کوفے جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کم کردو تم تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں میں نے یہ زید بن ثابت سے بیان کیا انہوں نے کہا میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔
حدیث 1367 — موطأ مالك 31:29
Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الآخَرُ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا ایک شخص کا میعادی قرض کسی پر آتا ہو قرضدار یہ کہے یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے اور قرض خواہ اس پر راضی ہو جائے تو عبداللہ بن عمر نے اس کو مکروہ جانا اور اس سے منع کیا ۔
حدیث 1368 — موطأ مالك 31:30
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي فَإِنْ قَضَى أَخَذَ وَإِلاَّ زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الأَجَلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الْمَكْرُوهُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ الطَّالِبُ وَيُعَجِّلُهُ الْمَطْلُوبُ وَذَلِكَ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُؤَخِّرُ دَيْنَهُ بَعْدَ مَحِلِّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَيَزِيدُهُ الْغَرِيمُ فِي حَقِّهِ قَالَ فَهَذَا الرِّبَا بِعَيْنِهِ لاَ شَكَّ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ مِائَةُ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّتْ قَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ بِعْنِي سِلْعَةً يَكُونُ ثَمَنُهَا مِائَةَ دِينَارٍ نَقْدًا بِمِائَةٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَجَلٍ هَذَا بَيْعٌ لاَ يَصْلُحُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ ثَمَنَ مَا بَاعَهُ بِعَيْنِهِ وَيُؤَخِّرُ عَنْهُ الْمِائَةَ الأُولَى إِلَى الأَجَلِ الَّذِي ذَكَرَ لَهُ آخِرَ مَرَّةٍ وَيَزْدَادُ عَلَيْهِ خَمْسِينَ دِينَارًا فِي تَأْخِيرِهِ عَنْهُ فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَلاَ يَصْلُحُ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ حَدِيثَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي بَيْعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَلَّتْ دُيُونُهُمْ قَالُوا لِلَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ إِمَّا أَنْ تَقْضِيَ وَإِمَّا أَنْ تُرْبِيَ ‏.‏ فَإِنْ قَضَى أَخَذُوا وَإِلاَّ زَادُوهُمْ فِي حُقُوقِهِمْ وَزَادُوهُمْ فِي الأَجَلِ ‏.‏
زید بن اسلم نے کہا کیا جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو جب میعاد گزر جائے تو قرضخواہ قرضدار سے کہے یا تم قرض ادا کرو یا سود دو اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے نہیں تو قرضخواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دوسرے شخص پر سو دینار آتے ہوں وعدے پر جب وعدہ گزر جائے تو قرضدار قرضخواہ سے کہے تو میرے ہاتھ کوئی ایسی چیز جس کی قیمت سو دینار ہوں ڈیڑھ سو دینار کو بیع ڈال ایک میعاد پر یہ بیع درست نہیں اور ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اس لئے کہ قرضخواہ نے اپنی چیز کی قیمت سو دینار وصول کرلی اور وہ جو سو دینار قرضے کے تھے ان کی میعاد بڑھا دی۔ بعوض پچاس دینار کے جو اس کو فائدہ حاصل ہو اس شئے کے بیچنے میں ۔ یہ بیع مشابہ ہے اس کے جو زید بن اسلم نے روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب قرض کی مدت گزر جاتی تو قرضخواہ قرضدار سے کہتا یا تو قرض ادا کر یا سود دے اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا نہیں تو اور مہلت دے کر قرضہ کو بڑھا دیتا۔
حدیث 1369 — موطأ مالك 31:31
صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار شخص کا دیر کرنا قرض ادا کرنے میں ظلم ہے اور جب تم میں سے کوئی حوالہ کیا جائے مالدار شخص پر تو چاہے کہ حوالہ قبول کرلے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔