کہا مالک نے جس شخص نے کئی قسم کا کپڑا بیچا اور چند رقم کے کپڑے مستثنی کرلینے کی شرط کرلی تو کچھ قباحت نہیں اگر شرط نہیں کی تو وہ ان کپڑوں میں شریک ہو جائے گا ۔ اس لئے کہ ایک رقم کے کپڑوں میں بھی کم وبیش ہوتی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کھانے کی چیزوں میں درست ہے ہے خواہ ان پر قبضہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر یہ ضروری ہے کہ نقد ہو میعاد نہ ہو اور کمی بیشی نہ ہوا اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا میعاد ہوگی تو یہ معاملے بیع سمجھے جائیں گے شرکت اور تولیہ اور اقالہ نہ ہوں گے ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب جیسے کپڑا یا غلام یا لونڈی خرید کیا پھر ایک شخص نے اس سے کہا کہ مجھ کو بھی اس میں شریک کرلو اس نے قبول کیا اور دونوں نے مل کر بائع (بچنے والا) کو قیمت ادا کردی پھر وہ اسباب کسی اور کا نکلا تو جو شخص شریک ہو وہ اپنے دام پہلے مشتری (خریدنے والا) سے لے لے گا۔ اور وہ بائع (بچنے والا) سے لے گا مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) نے خریدتے وقت بائع (بچنے والا) کے سامنے اس شریک سے کہہ دیا ہو کہ اگر مبیع میں فتور نکلے تو اس کی جواب وہی بائع (بچنے والا) پر ہوگی تو اس صورت میں وہ شریک اپنا نقصان بائع (بچنے والا) سے لے گا اگر ایسا نہ ہو تو مشتری (خریدنے والا) کی شرط کچھ کام نہ آئے گی اور تاوان کا نقصان اسی پر ہوگا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو سے یہ کہا تو اس شئے کو خرید کرلے میرے اور اپنے ساجھے میں بکوادوں گا۔ تو میری طرف سے بھی دام دے دے تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سلف (قرض) ہے بکوادینے کی شرط پر اگر وہ شئے تلف ہوجائے تو عمروزید سے اس کے حصہ کے دام لے لے گا البتہ اگر عمرو ایک شئے خرید کرچکا پھر زید نے کہا مجھے بھی اس میں شریک کرلے نصف کا میں بکوادوں گا تو یہ درست ہے۔
ابی بکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہو گیا اور بائع (بچنے والا) کو ثمن وصول نہیں ہوئی لیکن بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بجنسہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس چیز کا زیادہ حقدار ہوگا اگر مشتری (خریدنے والا) مر گیا تو اس چیز میں بائع (بچنے والا) اور قرضخواہوں کے برابر ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہو گیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ کہا مالک نے جس شخص نے کوئی اسباب بیچا پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس کو لے لے گا اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس میں سے کچھ بیچ ڈالا ہے تو جس قدر باقی ہے اس کا بائع (بچنے والا) زیادہ حقدار ہے بہ نسبت اور قرضخواہوں کے ۔ اگر بائع (بچنے والا) تھوڑی سی ثمن پاچکا ہے پھر بائع (بچنے والا) یہ چاہے کہ اس ثمن کو پھیر کر جس قدر اسباب اپنا باقی ہے اس کو لے لے اور جو کچھ باقی رہ جائے اس میں اور قرضخواہوں کے برابر ہے تو ہو سکتا ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے سوت یا زمین خریدی پھر سوت کا کپڑا بن لیا اور زمین پر مکان بنایا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اب زمین کا بائع (بچنے والا) یہ کہے کہ میں زمین اور مکان سب لئے لیتا ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ زمین کی اور عملے کی قیمت لگائیں کے پھر دیکھیں گے اس قیمت کا حصہ زمین پر کتنا آتا ہے اور عملے پر کتنا آتا ہے اب بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں اس میں شریک رہیں گے زمین کا مالک اپنے حصہ کے موافق اور باقی قرضخواہ عملے کے موافق ۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے جیسے زمین اور عملے کی قیمت پندرہ سو ہوئی اس میں سے زمین کی قیمت پانچ سو ہے اور عملے کی ہزار ہے تو زمین والے کا ایک ثلث ہوگا اور باقی قرضخواہوں کے دو ثلث ہوں گے ۔ کہا مالک نے یہی حکم سوت میں ہے جب کہ مشتری (خریدنے والا) نے اس کو بن لیا بعد اس کے قرضدار ہو کر مفلس ہوگیا۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس چیز میں تصرف نہیں کیا مگر اس چیز کی قیمت بڑھ گئی اب بائع (بچنے والا) یہ چاہتا ہے کہ اپنی شئے پھیر لے اور قرضخواہ چاہتے ہیں کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو نہ دیں گو قرضخواہ ہوں کو اختیار ہے خواہ بائع (بچنے والا) کی ثمن پوری پوری حوالے کردیں ۔ اگر اس چیز کی قیمت گھٹ گئی تو بائع (بچنے والا) کو اختیار ہے خواہ اپنی چیز لے لے پھر اس کو مشتری (خریدنے والا) کے مال سے کچھ غرض نہ ہوگی خواہ اپنی چیز نہ لے اور قرضخواہوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔ کہا مالک رحمة اللہ علیہ نے اگر کسی شخص نے لونڈی خریدی یا جانور خریدا پھر اس لونڈی یا جانور کا مشتری (خریدنے والا) کے پاس آن کر بچہ پیدا ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا تو وہ بچہ بائع (بچنے والا) ہوگا البتہ اگر قرضخواہ بائع (بچنے والا) کی پوری ثمن ادا کردیں تو بچہ کو اور اس کی ماں کو دونوں کو رکھ سکتے ہیں ۔
حدیث 1373 — موطأ مالك 31:35
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِيَارًا رَبَاعِيًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
ابو رافع سے روایت ہے کہ جو مولیٰ (غلام آزاد کئے ہوئے) تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض لیا ایک چھوٹا اونٹ جب صدقے کے وقت کے وقت اونٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم کیا ویسا ہی اونٹ ادا کرنے کو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹوں میں سب اونٹ اچھے بڑے بڑے ہیں چھ چھ برس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں سے دے دے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرض اچھے طور پر ادا کریں۔
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک شخص سے روپے قرض لئے پھر اس سے اچھے ادا کئے وہ شخص بولا اے عبدالرحمن یہ تو میرے روپوں سے اچھے ہیں عبداللہ بن عمر نے کہا ہاں میں جانتا ہوں مگر میں اپنی خوشی سے دئے ہیں ۔ کہا مالک نے جو شخص سونا چاندی یا اناج یا جانور قرض لے پھر اس سے بہتر ادا کرے تو کچھ قباحت نہیں جب کہ اس کی شرط نہ ہوئی ہو یا ایسی رسم نہ ہو یا اس کا وعدہ نہ کیا ہو اگر شرط یا رسم یاوعدے کے سبب سے ہو تو مکروہ ہے۔ بہتر نہیں ۔ کہا مالک نے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹا اونٹ قرض لے کر اچھا بڑا اونٹ دیا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روپے قرض لے کر اس سے بہت دیئے مگر اس کی شرط یا وعدہ نہیں ہوا تھا تو جو کوئی خوشی سے ایسا کرے حلال ہے۔
حضرت عمر بن خطابن سے کسی نے کہا جو شخص کسی کو اناج قرض دئیے اس شرط پر کہ فلانے شہر میں ادا کرنا انہوں نے اس کو مکروہ جانا اور کہا بار برداری کی اجرت کہاں جائے گی ۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شخص کو قرض دیا اور عمدہ اس سے ٹھہرایا عبداللہ بن عرمں نے کہا یہ ربا ہے اس نے کہا پھر کیا حکم کرتے ہو عبداللہ بن عمر نے کہا قرض تین طور پر ہے ایک اللہ کے واسطے اس میں تو اللہ کی رضا مندی ہے ایک اپنے دوست کی خوشی کے لئے اس میں دوست کی رضا مندی ہے ایک قرض اس واسطے ہے کہ حلال مال دے کر حرام مال لے یہ سود ہے پھر وہ شخص بولا اب مجھ کو کیا حکم کرتے ہو ابوعبدالرحمن انہوں نے کہا میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ تو دستاویز کو پھاڑ ڈال اگر وہ شخص جس کو تو نے قرض دیا ہے جیسا مال تو نے دیا ہے ویسا ہی دے تو لے لے اگر اس سے برا دے اور تو لے لے تو تجھے اجر ہوگا اگر وہ اپنی خوشی سے اس سے اچھا دے تو اس نے تیرا شکریہ ادا کیا اور تو نے جو اتنے دنوں تک اس کو مہلت دی اس کا ثواب تجھے ملا۔
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے تو سوائے قرض ادا کرنے کے اور کوئی شرط نہ کرائے ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے اس سے زیادہ نہ ٹھہرائے اگر ایک مٹھی گھاس کی ہو ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کوئی جانور جس کا حلیہ اور صفت معلوم ہو کسی کو قرض دے تو کچھ قباحت نہیں اب مقروض ویسا ہی جانور ادا کرے۔ مگر لونڈی کو قرض لینا درست نہیں کیونکہ یہ ذریعہ ہے حرام کے حلال کرنے کا لوگ ایک درسرے کی لونڈی قرض لے آئیں گے پھر جب تک جی چاہے گا اس سے جماع کریں گے بعد اس کے مالک کو پھیر دیں گے یہ تو حلال نہیں ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اور کسی کو اس کی اجازت نہ دی۔
حدیث 1379 — موطأ مالك 31:41
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ بیچیں بعض تمہارے اوپر بعض کے ۔