قرآني·Qurani
اردو

التهجد

33 احادیث · #254–286

حدیث 254 — موطأ مالك 7:1
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عِنْدَهُ رِضًا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلاَةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلاَتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً ‏"‏ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو نماز پڑھے ہمیشہ رات کو پھر غالب آجائے اس پر نیند مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ لکھے گا اس کے لئے ثواب نماز کا اور سونا اس کو صدقہ ہوگا ۔
حدیث 255 — موطأ مالك 7:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلاَىَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَىَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ‏.‏ قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ میں سوتی تھی سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پاؤں میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تھے آپ دبا دتیے تھے مجھ کو سو سمیٹ لیتی تھی میں پاؤں اپنے کہا حضرت عائشہ نے اور گھروں میں ان دنوں چراغ نہ تھے ۔
حدیث 256 — موطأ مالك 7:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اونگھنے لگے کوئی تم میں سے نماز میں تو سو رہے یہاں تک کہ نیند بھر جائے کیونکہ اگر نماز پڑھے گا اونگھتے ہوئے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہے اور اپنے تئیں برا بولنے لگے ۔
حدیث 257 — موطأ مالك 7:4
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ تُصَلِّي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ هَذِهِ الْحَوْلاَءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ ‏.‏ فَكَرِهَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَتِ الْكَرَاهِيَةُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
اسمعیل بن ابی حکیم کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے سنا ذکر ایک عورت کا جو نماز پڑھا کرتی تھی رات بھر تو پوچھا کہ کون ہے یہ عورت کہا لوگوں نے یہ حولاء ہے بیٹی تویت کی نہیں سوتی ہے رات کو تو برا معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ امر یہاں تک کہ معلوم ہوئی ناراضگی آپ کے چہرے سے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خداوند کریم نہیں بیزار ہوتا تمہاری بیزرای تک اتنا عمل کر جسکی طاقت رکھو۔
حدیث 258 — موطأ مالك 7:5
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلاَةِ يَقُولُ لَهُمُ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاَةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لاَ نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى‏}‏
اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رات کو نماز پڑھتے جتنا اللہ کو منظور ہوتا پھر جب اخیر رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو جگاتے نماز کے لئے اور کہتے ان سے نماز نماز، پھر پڑھتے اس آیت کو اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور صبر کر اس کے لئے ہم نہیں مانگتے تجھ سے روٹی بلکہ ہم کھلاتے ہیں تجھ کو اور عاقبت کی بہتری پرہیزگاری سے ہے ۔ سعید بن مسیب کہتے تھے مکروہ ہے سونا عشاء کی نماز سے پہلے اور باتیں کرنا بعد عشاء کے ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت عمر بن خطاب سے فرماتے تھے نفل نماز رات اور دن کی دو دو رکعتیں ہیں سلام پھیرے ہر دو رکعتوں کے بعد۔
حدیث 259 — موطأ مالك 7:6
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ يُكْرَهُ النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثُ بَعْدَهَا ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ يُكْرَهُ النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثُ بَعْدَهَا ‏.‏
حدیث 260 — موطأ مالك 7:7
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
حدیث 261 — موطأ مالك 7:8
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے ایک رکعت ان میں سے وتر کی ہوتی جب فارغ ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے داہنی کروٹ پر ۔
حدیث 262 — موطأ مالك 7:9
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کہ انہوں نے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیونکہ تھی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں تو کہا حضرت عائشہ نے نہیں زیادہ کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے پوچھا حضرت عائشہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے ہیں وتر پڑھنے سے پہلے فرمایا اے عائشہ میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا ۔
حدیث 263 — موطأ مالك 7:10
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے رات کو تیرہ رکعتیں پھر جب اذان سنتے صبح کی تو پڑھ لیتے دو رکعتیں ہلکی پھلکی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔