قرآني·Qurani
اردو

التهجد

33 احادیث · #254–286

حدیث 264 — موطأ مالك 7:11
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - وَهِيَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ - أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ - اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک رات رہے اپنی خالہ میمونہ کے پاس جو بی بی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہا ابن عباس نے لیٹا میں بستر کے عرض کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی لیٹیں بستر کے طرل میں پس سو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی یا کچھ پہلے یا کچھ بعد اس کے جاگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ملنے لگے آنکھیں اپنے ہاتھ سے پھر پڑھیں دس آیتیں اخیر کی سورت آل عمران سے یعنی (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ) 3۔ ال عمران : 190) سے اخیر سورت تک پھر گئے آپ ایک مشک کی پاس جو لٹک رہی تھی اور وضو کیا اس سے اچھی طرح پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ابن عباس نے کہا میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ویسا ہی میں نے بھی کیا تو جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر ملنے لگے پھر پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر وتر پڑھے پھر لیٹے رہے جب مؤذن آیا تو دو رکعتیں ہلکی پڑھیں پھر باہر نکلے اور نماز پڑھی صبح کی ۔
حدیث 265 — موطأ مالك 7:12
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ - أَوْ فُسْطَاطَهُ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں ضرور دیکھوں گا نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو کہا زید نے کہ تکیہ لگایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کی چوکھٹ پر یا گھر جو بالوں سے ڈھپا ہوا تھا پھر کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو پڑھیں دو رکعتیں بہت لمبی بہت لمبی بہت لمبی پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر ایک رکعت وتر کی پڑھی سب تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔
حدیث 266 — موطأ مالك 7:13
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کا تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز دو رکعتیں ہیں اور جب ڈر ہو صبح ہونے کا پڑھ لے ایک رکعت جو طاق کر دے اس کی نماز کو ۔
حدیث 267 — موطأ مالك 7:14
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ ‏.‏ فَقَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی کنانہ سے جس کو مخدجی کہتے تھے سنا ایک شخص سے شام میں جن کی کنیت ابومحمد ہے کہتے تھے وتر واجب ہے مخدجی نے کہا کہ میں عبادہ بن صامت کے پاس گیا اور ابومحمد کے قول کو نقل کیا عبادہ نے کہا کہ جھوٹ کہا ابومحمد نے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے پانچ نمازیں ہیں جو فرض کیں اللہ نے اپنے بندوں پر جو شخص ان کو پڑھے گا اور ہلکا جان کر ان کو نہ چھوڑے گا تو اللہ جل جلالہ نے اس کے لئے عہد کر رکھا ہے کہ جنت میں اس کو لے جائے گا اور جو شخص ان کو چھوڑ دے گا اللہ کے پاس اس کا کچھ عہد نہیں ہے چاہے اس کو عذاب کر دیں چاہے جنت میں پہنچا دے ۔
حدیث 268 — موطأ مالك 7:15
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ - قَالَ سَعِيدٌ - فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ لَهُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ ‏.‏
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ رات کو سفر میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے راہ میں مکہ کی کہا سعید نے جب مجھے ڈر ہوا صبح کا تو میں اونٹ پر سے اترا وتر پڑھے پھر ان کو آگے بڑھ کر پالیا تو عبداللہ بن عمر نے مجھ سے پوچھا کہ تو کہاں تھا میں نے کہا مجھے صبح ہونے کا اندیشہ ہوا اس لئے میں نے اتر کر وتر پڑھے تو عبداللہ نے کہا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا میں نے کہا واہ کیوں نہیں کہا عبداللہ نے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وتر پڑھتے تھے اونٹ پر۔
حدیث 269 — موطأ مالك 7:16
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ، فِرَاشَهُ أَوْتَرَ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوبکر جب سونے کو آتے اپنے بستر پر وتر پڑھ لیتے اور عمر بن خطاب آخر رات میں وتر پڑھتے تھے بعد تہجد کے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کیا وتر واجب ہے تو کہا عبداللہ بن عمر نے وتر ادا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی عائشہ فرماتی تھیں جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھلے گی صبح تک تو وہ وتر پڑھ لے سونے سے پیشتر اور جو امید رکھے جاگنے کی آخر شب میں تو وہ دیر کرے وتر میں ۔
حدیث 270 — موطأ مالك 7:17
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏
حدیث 271 — موطأ مالك 7:18
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ مَنْ خَشِيَ أَنْ يَنَامَ حَتَّى يُصْبِحَ فَلْيُوتِرْ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَمَنْ رَجَا أَنْ يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُؤَخِّرْ وِتْرَهُ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ مَنْ خَشِيَ أَنْ يَنَامَ حَتَّى يُصْبِحَ فَلْيُوتِرْ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَمَنْ رَجَا أَنْ يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُؤَخِّرْ وِتْرَهُ ‏.‏
حدیث 272 — موطأ مالك 7:19
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغِيمَةٌ فَخَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ الْغَيْمُ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلاً فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ تھا میں عبداللہ بن عمر کے ساتھ مکہ کے راستہ میں اور آسمان پر ابر چھایا ہوا تھا تو ڈرے عبداللہ بن عمر صبح ہوجانے سے پس پڑھی ایک رکعت وتر کی پھر کھل گیا ابر تو دیکھا ابھی رات باقی ہے پس دوگانہ کیا اس رکعت کو ایک رکعت اور پڑھ کر پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر جب خوف ہوا صبح کا تو ایک رکعت وتر پڑھی ۔
حدیث 273 — موطأ مالك 7:20
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَالرَّكْعَةِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سلام پھیر تے تھے دو رکعت وتر کی پڑھ کر اور کچھ کام ہوتا تو اس کو کہہ دیتے پھر ایک رکعت پڑھتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔