ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص وتر پڑھتے تھے بعد عشاء کے ایک رکعت ۔
حدیث 275 — موطأ مالك 7:22
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُالمغرب وتر صلاة النهار . قال مالك من أوتر أول الليل ثم نام ثم قام فبدا له أن يصلي فليصل مثنى مثنى فهو أحب ما سمعت إلى
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُالمغرب وتر صلاة النهار . قال مالك من أوتر أول الليل ثم نام ثم قام فبدا له أن يصلي فليصل مثنى مثنى فهو أحب ما سمعت إلى
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سو رہے پھر جاگے تو کہا آپ نے خادم سے دیکھو لوگ کیا کر رہے ہیں اور ان دنوں میں عبداللہ بن عباس کی بصارت جاتی رہی تھی سو گیا خادم پھر آیا اور کہا کہ لوگ پڑھ چکے صبح کی نماز تو کھڑے ہوئے عبداللہ بن عباس اور وتر پڑھے پھر نماز پڑھی صبح کی ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت امامت کرتے تھے ایک قوم کی تو نکلے ایک روز صبح کی نماز کے لئے اور مؤذن نے تکبیر کہی پس خاموش کیا عبادہ نے مؤذن کو یہاں تک کہ وتر پڑھا پھر نماز پڑھائی صبح کی ۔
عبدالرحمن بن قاسم سے روایت ہے کہ سنا انہوں نے عبداللہ بن عامر سے وہ کہتے تھے میں وتر پڑھتا ہوں اور سنا کرتا ہوں تکبیر صبح کی یا وتر پڑھتا ہوں بعد فجر کے شک ہے عبدالرحمن کو کس طرح کہا انہوں نے۔
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا اپنے باپ سے وہ کہتے تھے میں وتر پڑھتا ہوں بعد فجر ہوجانے کے ۔
حدیث 282 — موطأ مالك 7:29
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ عَنِ الأَذَانِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ .
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ جب اذان ہو چکتی صبح کی تو پڑھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ہلکی، جماعت کھڑی ہونے سے پیشتر ۔
حدیث 283 — موطأ مالك 7:30
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُخَفِّفُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ أَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَمْ لاَ
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد پڑھتے فجر کی سنتوں کو یہاں تک کہ میں کہتی تھی سورت فاتحہ بھی پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا نہیں ۔