قرآني·Qurani
اردو

الجمعة

21 احادیث · #225–245

حدیث 225 — موطأ مالك 5:1
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الأُولَى فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو ۔
حدیث 226 — موطأ مالك 5:2
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ كَغُسْلِ الْجَنَابَةِ ‏.‏
ابوہریرہ کہتے تھے جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے ہر بالغ پر مثل غسل جنابت کے ۔
حدیث 227 — موطأ مالك 5:3
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص آئے اصحاب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے دن اور حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے تھے تو بولے حضرت عمر کیا وقت ہے یہ آنے کا جواب دیا اس شخص نے کہ میں لوٹا بازار سے تو سنا میں نے اذان کو پس وضو کیا اور چلا آیا تو کہا حضرت عمر نے یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے تھے غسل کا ۔
حدیث 228 — موطأ مالك 5:4
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غسل جمعہ کا واجب ہے ہر شخص بالغ پر ۔
حدیث 229 — موطأ مالك 5:5
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص آئے جمعہ کو تو غسل کر کے آئے یا جو شخص نماز جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کر لے ۔
حدیث 230 — موطأ مالك 5:6
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی ۔
حدیث 231 — موطأ مالك 5:7
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، كَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ - قَالَ ثَعْلَبَةُ - جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَخُرُوجُ الإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ وَكَلاَمُهُ يَقْطَعُ الْكَلاَمَ ‏.‏
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب مؤذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔
حدیث 232 — موطأ مالك 5:8
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لاَ يَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتِ الصَّلاَةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ ‏.‏ ثُمَّ لاَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَيُكَبِّرُ ‏.‏
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔
حدیث 233 — موطأ مالك 5:9
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنِ اصْمُتَا ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنِ اصْمُتَا ‏.‏
حدیث 234 — موطأ مالك 5:10
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ لاَ تَعُدْ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔