قرآني·Qurani
اردو

الجهاد

50 احادیث · #959–1008

حدیث 959 — موطأ مالك 21:1
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الدَّائِمِ الَّذِي لا يَفْتُرُ مِنْ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر عبادت کرے، نہ تھکے نماز سے اور نہ روزے سے یہاں تک کہ لوٹے جہاد سے
حدیث 960 — موطأ مالك 21:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ - لاَ يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ - أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ضامن ہے اس شخص کا جو جہاد کرے اس کی راہ میں، اور نہ نکلے گھر سے مگر جہاد کی نیت سے، اللہ کے کلام کو سچا جان کر؛ اس بات کا کہ داخل کرے گا اللہ اس کو جنت میں یا پھیر لائے گا اس کو اس کے گھر میں جہاں سے نکلا ہے ثواب اور غنیمت کے ساتھ ۔
حدیث 961 — موطأ مالك 21:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا ذَلِكَ فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ لَهُ حَسَنَاتٍ فَهِيَ لَهُ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلاَ فِي ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ ‏"‏ لَمْ يَنْزِلْ عَلَىَّ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ ‏{‏فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏}‏‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے ایک شخص کے واسطے اجر ہیں اور ایک شخص کے واسطے درست ہیں اور ایک شخص کے واسطے گناہ ہیں؛ اجر اس کے واسطے ہیں جو باندھے ان کو جہاد کے واسطے پھر لمبی کردے اس کی رسی ، ان کی کسی موضع یا چراگاہ میں تو جس قدر دور تک اس رسی کے سبب سے چرے اس کی واسطے نیکیاں لکھی جائیں گی ، اگر وہ رسی توڑا کر ایک اونچان یا نیچان چڑھیں ان کے ہر قدم اور لید پر نیکیاں لکھی جائیں گی اور اگر وہ کسی نہر پر جا نکلے اور پانی پائے اور مالک کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تب بھی اس کے واسطے نیکیاں لکھی جائیں۔ اور درست اس کے واسطے ہیں جو تجارت کے واسطے باندھے اور ان کی زکوة ادا کرے۔ اور گناہ اس کے واسطے ہیں جو فخر اور ریا اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھے۔ اور حضرت سے سوال ہوا گدھوں کے باب میں، آپ نے فرمایا کہ اس مقدمے میں میرے اوپر کچھ نہیں اترا مگر یہ آیت جو اکیلی تمام نیکیوں کو شامل ہے "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه Ċ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه Ď " 99۔ الزلہ۔
حدیث 962 — موطأ مالك 21:4
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلاً بَعْدَهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَتِهِ يُقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ شخص جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے؛ وہ شخص ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے جہاد کرتا ہے اللہ کی راہ میں، کیا نہ بتاؤں میں تم کو اس کے بعد جو سب سے بڑھ کر درجہ رکھتا ہے وہ شخص ہے جو ایک گوشے میں بکریوں کا غلہ لے کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کو پوجتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
حدیث 963 — موطأ مالك 21:5
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ‏.‏
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر آسانی اور سختی میں خوشی اور غم میں، اور بیعت کی ہم نے اس بات پر کہ جو مسلماں حکومت کے لائق ہوگا اس سے نہ جھگڑیں گے اور اس امر پر کہ ہم سچ کہیں گے یا سچ پر جمے رہیں گے جہاں ہوں گے، اللہ کے کام میں کسی کے برا کہنے سے نہ ڈریں گے ۔
حدیث 964 — موطأ مالك 21:6
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ كَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَذْكُرُ لَهُ جُمُوعًا مِنَ الرُّومِ وَمَا يَتَخَوَّفُ مِنْهُمْ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَنْزِلْ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مُنْزَلِ شِدَّةٍ يَجْعَلِ اللَّهُ بَعْدَهُ فَرَجًا وَإِنَّهُ لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ‏}‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت عمر کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا ؛ حضرت عمر نے جواب لکھا کہ بعد حمد ونعت کے معلوم ہو کہ بندہ مومن پر جب کوئی سختی اترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے؛ اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی؛ اور بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ؛ " اے ایمان والو صبر کرو مصیبتوں پر اور صبر کرو کفار کے مقابلہ میں اور قائم رہو جہاد پر اور ڈرو اللہ سے شاید کہ تم نجات پاؤ" ۔
حدیث 965 — موطأ مالك 21:7
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا قرآن شریف کو دشمن کے ملک میں لے جانے سے؛ کہا مالک نے منع اس واسطے کیا "تاکہ ایسا نہ ہو کہ دشمن قرآن شریف کو لے کر اس کی توہین کرے"۔
حدیث 966 — موطأ مالك 21:8
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ - قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ - قَالَ - فَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَقُولُ بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِالصِّيَاحِ فَأَرْفَعُ السَّيْفَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَذْكُرُ نَهْىَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكُفُّ وَلَوْلاَ ذَلِكَ اسْتَرَحْنَا مِنْهَا ‏.‏
عبدالرحمن بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا ان لوگوں کو جہنوں نے قتل کیا ابن ابی حقیق کو عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے ; ابن کعب نے کہا کہ ایک شخص ان میں سے کہتا تھا کہ ابن ابی حقیق کی عورت نے چیخ کر ہمارا حال کھول دیا تھا; تو میں تلوار اس پر اٹھاتا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو یاد کر کے رک جاتا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کردیتے ۔
حدیث 967 — موطأ مالك 21:9
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لڑائیوں میں ایک عورت کو قتل کئے ہوئے پایا تو ناپسند کیا اس کے قتل کو ، اور منع کیا عورتوں اور بچوں کے قتل سے ۔
حدیث 968 — موطأ مالك 21:10
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الأَرْبَاعِ - فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَاىَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلاَ صَبِيًّا وَلاَ كَبِيرًا هَرِمًا وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا إِلاَّ لِمَأْكُلَةٍ وَلاَ تَحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُفَرِّقَنَّهُ وَلاَ تَغْلُلْ وَلاَ تَجْبُنْ ‏.‏
یحیی بن سیعد سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام کو لشکر بھیجا تو یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل چلے اور وہ حاکم تھے ایک چوتھائی لشکر کے؛ تو یزید نے ابوبکر سے کہا آپ سوار ہو جائیں نہیں تو میں اترتا ہوں، ابوبکر صدیق نے کہا نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوں گا ، میں ان قدموں کو اللہ کی راہ میں ثواب سمجھتا ہوں پھر کہا یزید سے کہ تم پاؤ گے کچھ لوگ ایسے جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں کو روک رکھا ہے اللہ کے واسطے سو چھوڑ دے ان کو اپنے کام میں اور کچھ لوگ ایسے پاؤ گے جو بیچ میں سے سر منڈاتے ہیں تو مار ان کے سر پر تلوار سے اور میں تجھ کو دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں عورت کو مت مار اور نہ بچوں کو نہ بڈھے پھونس کو اور نہ کاٹنا پھل دار درخت کو اور نہ اجاڑنا کسی بستی کو اور نہ کونچیں کاٹنا کسی بکری اور اونٹ کی مگر کھانے کے واسطے اور مت جلانا کھجور کے درخت کو اور مت ڈبانا اس کو اور غنیمت کے مال میں چوری نہ کرنا اور نامردی نہ کرنا ۔ امام مالک نے روایت نقل کی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں میں سے ایک عامل کو لکھا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت پہنچی ہے؛ کہ جب فوج روانہ کرتے تھے تو کہتے تھے ان سے جہاد کرو اللہ کا نام لے کر، اللہ کی راہ میں تم لڑتے ہو ان لوگوں سے جہنوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ، نہ چوری کرو نہ اقرار توڑو نہ ناک کان کاٹو نہ مارو بچوں اور عورتوں کو اور کہہ دے یہ امر اپنی فوجوں اور لشکروں سے، اگر اللہ نے چاہا تو تم پر سلامتی ہوگی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔