قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 845 — موطأ مالك 20:141
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى بَدَنَتِكَ فَارْكَبْهَا رُكُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى لَبَنِهَا فَاشْرَبْ بَعْدَ مَا يَرْوَى فَصِيلُهَا فَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا ‏.‏
ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ کہتے تھے کہ اگر تجھ کو ضرورت پڑے تو اپنی ہدی پر سوار ہو جا مگر ایسا نہ ہو کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے اور جب ضرورت ہو تجھ کو اس کے دودھ کی تو پی لے جبکہ بچہ اس کا سیر ہو جائے، پھر جب تو اس کو نحر کرے تو اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ نحر کر ۔
حدیث 846 — موطأ مالك 20:142
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَهْدَى هَدْيًا مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ وَذَلِكَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ يُقَلِّدُهُ بِنَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهُ مِنَ الشِّقِّ الأَيْسَرِ ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ حَتَّى يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا فَإِذَا قَدِمَ مِنًى غَدَاةَ النَّحْرِ نَحَرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ وَكَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر جب ہدی لے جاتے مدینہ سے تو تقلید کرتے اس کی اور اشعار کرتے اس کا ذوالحلیفہ میں، مگر تقلید اشعار سے پہلے کرتے لیکن دونوں ایک ہی مقام میں کرتے اس طرح پر کہ ہدی کا منہ قبلہ کی طرف کر کے پہلے اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دیتے پھر اشعار کرتے بائیں طرف سے اور ہدی کو اپنے ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ عرفہ کے روز عرفات میں بھی سب لوگوں کے ساتھ رہتے پھر جب لوگ لوٹتے تو ہدی بھی لوٹ کر آتی، جب منی میں صبح کو یوم النحر میں پہنچتے تو اس کو نحر کرتے قبل حلق یا قصر کے اور عبداللہ بن عمر اپنی ہدی کو آپ نحر کرتے ان کو کھڑا کرتے صف باندھ کر منہ ان کا قبلہ کی طرف کرتے پھر اس کو نحر کرتے اور ان کا گوشت بھی کھاتے دوسروں کو بھی کھلاتے ۔
حدیث 847 — موطأ مالك 20:143
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا طَعَنَ فِي سَنَامِ هَدْيِهِ وَهُوَ يُشْعِرُهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب اپنی ہدی کے کوہان میں زخم لگاتے اشعار کے لئے کہتے اللہ کے نام سے اللہ بڑا ہے
حدیث 848 — موطأ مالك 20:144
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الْهَدْىُ مَا قُلِّدَ وَأُشْعِرَ وَوُقِفَ بِهِ بِعَرَفَةَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر فرماتے تھے کہ ہدی وہ جانور ہے جس کی تقلید اور اشعار ہو اور کھڑا کیا جائے اس کو عرفات میں ۔
حدیث 849 — موطأ مالك 20:145
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ الْقُبَاطِيَّ وَالأَنْمَاطَ وَالْحُلَلَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْكَعْبَةِ فَيَكْسُوهَا إِيَّاهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کو جو ہدی کے ہوتے تھے مصری کپڑے اور چارجامی اور جوڑے اوڑھاتے تھے (قربانی کے بعد) ان کپڑوں کو بھیج دیتے تھے کعبہ شریف اوڑھانے کو ۔
حدیث 850 — موطأ مالك 20:146
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلاَلِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتِ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ قَالَ كَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا ‏.‏
امام مالک نے پوچھا عبداللہ بن دینار سے کہ عبداللہ بن عمر اونٹ کی جھول کا کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا؟ انہوں نے کہا صدقہ میں دے دیتے تھے
حدیث 851 — موطأ مالك 20:147
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے قربانی کے لئے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔
حدیث 852 — موطأ مالك 20:148
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَشُقُّ جِلاَلَ بُدْنِهِ وَلاَ يُجَلِّلُهَا حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ عرفہ کو جاتے منی سے۔
حدیث 853 — موطأ مالك 20:149
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ يَا بَنِيَّ لاَ يُهْدِيَنَّ أَحَدُكُمْ مِنَ الْبُدْنِ شَيْئًا يَسْتَحْيِي أَنْ يُهْدِيَهُ لِكَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمُ الْكُرَمَاءِ وَأَحَقُّ مَنِ اخْتِيرَ لَهُ ‏.‏
عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے اے میرے بیٹو! اللہ کے لئے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو آپ اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے ہو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کر دی جائے۔
حدیث 854 — موطأ مالك 20:150
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ صَاحِبَ، هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْهَدْىِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنَ الْهَدْىِ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قِلاَدَتَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کا کیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔