قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 855 — موطأ مالك 20:151
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا ثُمَّ خَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کونحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا، عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔
حدیث 856 — موطأ مالك 20:152
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
حدیث 857 — موطأ مالك 20:153
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً جَزَاءً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْىَ تَمَتُّعٍ فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ ‏.‏
ابن شہاب نے کہا جو شخص اونٹ جزا کا یا نذر کا یا تمتع کا لے گیا پھر وہ راستے میں تلف ہو گیا تو اس پر اس کا عوض لازم ہے ۔
حدیث 858 — موطأ مالك 20:154
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ لاَ يَأْكُلُ صَاحِبُ الْهَدْىِ مِنَ الْجَزَاءِ وَالنُّسُكِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے پھر وہ راستے میں مر جائے یا گم ہو جائے تو اگر نذر کو ہو تو اس کا عوض دے اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے ۔
حدیث 859 — موطأ مالك 20:155
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ، أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَإِذَا أَهَلاَّ بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں وہ کیا کرے ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں حج کے ارکان ادا کرتے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہو جائے پھر آئندہ سال ان پر حج اور ہدی لازم ہے ۔ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ پھر آئندہ سال جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے۔
حدیث 860 — موطأ مالك 20:156
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامٍ قَابِلٍ ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَكَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْىُ وَيُهِلاَّنِ مِنْ حَيْثُ أَهَلاَّ بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ ‏.‏ وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ يُهْدِيَانِ جَمِيعًا بَدَنَةً بَدَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي الْحَجِّ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَدْفَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَيَرْمِيَ الْجَمْرَةَ إِنَّهُ يَجِبُ عَلَيْهِ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ قَالَ فَإِنْ كَانَتْ إِصَابَتُهُ أَهْلَهُ بَعْدَ رَمْىِ الْجَمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَمِرَ وَيُهْدِيَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالَّذِي يُفْسِدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَجِبَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْهَدْىُ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ الْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاءٌ دَافِقٌ ‏.‏ قَالَ وَيُوجِبُ ذَلِكَ أَيْضًا الْمَاءُ الدَّافِقُ إِذَا كَانَ مِنْ مُبَاشَرَةٍ فَأَمَّا رَجُلٌ ذَكَرَ شَيْئًا حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ مَاءٌ دَافِقٌ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ مَاءٌ دَافِقٌ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي الْقُبْلَةِ إِلاَّ الْهَدْىُ وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ مُحْرِمَةٌ مِرَارًا فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَهِيَ لَهُ فِي ذَلِكَ مُطَاوِعَةٌ إِلاَّ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ إِنْ أَصَابَهَا فِي الْحَجِّ وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا فِي الْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهَا قَضَاءُ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَفْسَدَتْ وَالْهَدْىُ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کر دیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے ۔
حدیث 861 — موطأ مالك 20:157
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَكَكَ الْحَجُّ قَابِلاً فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ابوایوب انصاری حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو ان کا اونٹ گم ہو گیا سو آئے وہ مکہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس دسویں تاریخ کو ذی الحجہ کی اور بیان کیا ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ عمرہ کر لے اور احرام کھول ڈال پھر آئندہ سال حج کے دن آئیں تو حج کر اور ہدی دے موافق اپنی طاقت کے ۔
حدیث 862 — موطأ مالك 20:158
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ، جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ كُنَّا نُرَى أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ اذْهَبْ إِلَى مَكَّةَ فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا كَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ثُمَّ فَاتَهُ الْحَجُّ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ قَابِلاً وَيَقْرِنُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَيُهْدِي هَدْيَيْنِ هَدْيًا لِقِرَانِهِ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ وَهَدْيًا لِمَا فَاتَهُ مِنَ الْحَجِّ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور عمر بن خطاب نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا تو کہا انہوں نے اے امیر المومنیں ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی ہم سمجھتے تھے کہ آج عرفہ کاروز ہے حضرت عمر نے کہا مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو پھر حلق کرو یا قصر اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، آئندہ سال آؤ اور حج کرو اور ہدی دو جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے ۔
حدیث 863 — موطأ مالك 20:159
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً ‏.‏
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے صحبت کی اپنی بی بی سے اور وہ منی میں تھا قبل طواف زیارة کے، تو حکم کیا اس کو عبداللہ بن عباس نے ایک اونٹ نحر کرنے کا ۔
حدیث 864 — موطأ مالك 20:160
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لاَ أَظُنُّهُ إِلاَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي ‏.‏
عبداللہ بن عباس نے کہا جو شخص صحبت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف زیارة کے تو وہ ایک عمرہ کرے اور ہدی دے ۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔