قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 715 — موطأ مالك 20:11
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَاتِ الْمُشَبَّعَاتِ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ لَيْسَ فِيهَا زَعْفَرَانٌ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ ثَوْبٍ مَسَّهُ طِيبٌ ثُمَّ ذَهَبَ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ هَلْ يُحْرِمُ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ صِبَاغٌ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ ‏.‏
اسما بنت ابوبکر خوب گہرے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں احرام میں لیکن زعفران اس میں نہ ہوتی تھیں ۔
حدیث 716 — موطأ مالك 20:12
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ لُبْسَ الْمِنْطَقَةِ لِلْمُحْرِمِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے پیٹی کا باندھنا واسطے محرم کے ۔
حدیث 717 — موطأ مالك 20:13
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ فِي الْمِنْطَقَةِ يَلْبَسُهَا الْمُحْرِمُ تَحْتَ ثِيَابِهِ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا جَعَلَ طَرَفَيْهَا جَمِيعًا سُيُورًا يَعْقِدُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن مسیب کہتے تھے کہ اگر محرم اپنے کپڑوں کے نیچے پیٹی باندھے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب اس کے دونوں کناروں میں تسمے ہوں وہ ایک دوسرے سے باندھ دیئے جاتے ہوں ۔
حدیث 718 — موطأ مالك 20:14
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْفُرَافِصَةُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ يُغَطِّي وَجْهَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏
فرافصہ بن عمیر حنفی سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا عثمان بن عفان کو عرج (ایک گاؤں کا نام ہے مدینہ سے تین منزل پر) میں ڈھانپتے تھے منہ اپنا احرام میں
حدیث 719 — موطأ مالك 20:15
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَا فَوْقَ الذَّقَنِ مِنَ الرَّأْسِ فَلاَ يُخَمِّرْهُ الْمُحْرِمُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے ٹھوڑی کے اوپر ( والا حصہ) سر میں داخل ہے محرم اس کو نہ چھپائے ۔
حدیث 720 — موطأ مالك 20:16
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَفَّنَ ابْنَهُ وَاقِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَاتَ بِالْجُحْفَةِ مُحْرِمًا وَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَوَجْهَهُ وَقَالَ لَوْلاَ أَنَّا حُرُمٌ لَطَيَّبْنَاهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَعْمَلُ الرَّجُلُ مَا دَامَ حَيًّا فَإِذَا مَاتَ فَقَدِ انْقَضَى الْعَمَلُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کفن دیا اپنے بیٹے واقد بن عبداللہ کو اور وہ مر گئے تھے جحفہ میں احرام کی حالت میں اور کہا کہ اگر ہم احرام نہ باندھے ہوتے تو ہم اس کو خوشبو لگاتے، پھر ڈھانپ دیا سر اور منہ ان کا ۔
حدیث 721 — موطأ مالك 20:17
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلاَ تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو وہ نقاب نہ ڈالے منہ پر اور دستانے نہ پہنے ۔
حدیث 722 — موطأ مالك 20:18
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نُخَمِّرُ وُجُوهَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ وَنَحْنُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ‏.‏
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ ہم اپنے منہ ڈھانپتی تھیں احرام میں اور ہم ساتھ ہوتے اسما بنت ابی ابکر صدیق کے سو انہوں نے منع نہ کیا ہم کو۔
حدیث 723 — موطأ مالك 20:19
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں خوشبو لگاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے وقت طواف زیارت سے پہلے ۔
حدیث 724 — موطأ مالك 20:20
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِحُنَيْنٍ وَعَلَى الأَعْرَابِيِّ قَمِيصٌ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْزِعْ قَمِيصَكَ وَاغْسِلْ هَذِهِ الصُّفْرَةَ عَنْكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَفْعَلُ فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے اور وہ اعرابی ایک کرتہ پہنے ہوئے تھا جس میں زرد رنگ کا نشان تھا تو کہا اس نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نیت کی ہے عمرہ کی پس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کرتہ اتار اور زردی دھو ڈال اپنے بدن سے اور جو حج میں کرتا ہے وہی عمرہ میں کر ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔