یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن مسیب کہتے تھے کہ اگر محرم اپنے کپڑوں کے نیچے پیٹی باندھے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب اس کے دونوں کناروں میں تسمے ہوں وہ ایک دوسرے سے باندھ دیئے جاتے ہوں ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کفن دیا اپنے بیٹے واقد بن عبداللہ کو اور وہ مر گئے تھے جحفہ میں احرام کی حالت میں اور کہا کہ اگر ہم احرام نہ باندھے ہوتے تو ہم اس کو خوشبو لگاتے، پھر ڈھانپ دیا سر اور منہ ان کا ۔
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ ہم اپنے منہ ڈھانپتی تھیں احرام میں اور ہم ساتھ ہوتے اسما بنت ابی ابکر صدیق کے سو انہوں نے منع نہ کیا ہم کو۔
حدیث 723 — موطأ مالك 20:19
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں خوشبو لگاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے وقت طواف زیارت سے پہلے ۔
حدیث 724 — موطأ مالك 20:20
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِحُنَيْنٍ وَعَلَى الأَعْرَابِيِّ قَمِيصٌ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْزِعْ قَمِيصَكَ وَاغْسِلْ هَذِهِ الصُّفْرَةَ عَنْكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَفْعَلُ فِي حَجِّكَ " .
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے اور وہ اعرابی ایک کرتہ پہنے ہوئے تھا جس میں زرد رنگ کا نشان تھا تو کہا اس نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نیت کی ہے عمرہ کی پس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کرتہ اتار اور زردی دھو ڈال اپنے بدن سے اور جو حج میں کرتا ہے وہی عمرہ میں کر ۔