اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے سو کہا کہ یہ خوشبو کس شخص سے آتی ہے معاویہ بن ابی سفیان بولے مجھ سے اے امیر المومنین، حضرت عمر نے کہا ہاں تمہیں قسم ہے خداوند کریم کے بقا کی، معاویہ بولے کہ حبیبہ نے خوشبو لگا دی میرے اے امیر المومنین۔ حضرت عمر نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم دھو ڈالو اس کو جا کر ۔
صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی اپنے عزیزوں سے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے اور آپ کے پہلو میں کثیر بن صلت تھے تو کہا عمر نے کس میں سے یہ خوشبو آتی ہے کثیر نے کہا مجھ میں سے میں نے اپنے بال جمائے تھے کیونکہ میرا ارادہ سر منڈانے کا نہ تھا بعد احرام کھولنے کے، حضرت عمر نے کہا شربہ (وہ گڑھا جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے جس میں پانی بھرا رہتا ہے) کے پاس جا اور سر کو مل کر دھو ڈال تب ایسا کیا کثیر بن صلت نے ۔
یحیی بن سعید اور عبداللہ بن ابی بکر اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا سالم بن عبداللہ اور خارجہ بن زید سے کہ بعد کنکریاں مارنے کے اور سر منڈانے کے قبل طواف الافاضہ کے خوشبو لانگا کیسا ہے تو منع کیا سالم نے اور جائز رکھا خارجہ بن زید بن ثابت نے ۔
حدیث 728 — موطأ مالك 20:24
صحیح
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ احرام باندھیں اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اور اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے کہا عبداللہ بن عمر نے پہنچا مجھ کو کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے ۔
حدیث 729 — موطأ مالك 20:25
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا هَؤُلاَءِ الثَّلاَثُ فَسَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا اور اہل شام کو جحفہ سے اور اہل نجد کو قرن سے عبداللہ بن عمر نے کہا ان تینوں کو تو سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مجھے خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا فرع سے ۔ مالک نے ایک معتبر شخص سے سنا کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا بیت المقدس سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا عمرہ کا جعرانہ سے ۔
حدیث 732 — موطأ مالك 20:28
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ بِعُمْرَةٍ .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ بِعُمْرَةٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک یہ تھی لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنمعة لک والملک لا شریک لک اور عبداللہ بن عمر اس میں زیادہ کرتے لیبک لبیک لبیک وسعدیک والخیر بیدیک لبیک الرغباء الیک والعمل ۔
حدیث 734 — موطأ مالك 20:30
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ذوالحلیفہ میں مسجد میں دو رکعتیں پھر جب اونٹ پر سوار ہو جاتے لبیک پکار کر کہتے ۔