قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 925 — موطأ مالك 20:221
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا - إِنْ كَانَ مَعَهُ - فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلاَّ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص کنکریاں مارے اور سر منڈائے یا بال کتروائے اور اس کے ساتھ اگر ہدی ہو تو نحر کرے پس حلال ہو جائیں گیں اس پر وہ چیزیں جو حرام تھیں مگر صحبت کرنا عورتوں سے اور خوشبو لگانا درست نہ ہوگا طواف الزیارہ تک ۔
حدیث 926 — موطأ مالك #926
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا مَكَانُ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا مِنْهَا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہوں اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے جیسے زمین اور گھر اور جانور تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا بلکہ راہن کا نقصان ہوگا اور جو شئے مرہوں ایسی ہو جس کا تلف ہوناصرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ) تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا) اب اگر راہن اور مرتہن زر رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا تو خلفاًشئے مرہوں کے اوصاف اور زررہن کو بیان کر جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے اگر قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کرلے گا اگر قیمت زر رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف کرلے گا تو جس قدر مرتہن نے زر رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا اگر مرتہن نے کہا میں شئے مرہوں کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہوں کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے جب کہ وہ کوئی امرخلاف واقعہ بیان نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر ایک شئے دو آدمیوں کے پاس رہن ہو تو ایک مرتہن اپنے دین کا تقاضا کرے اور شئے مرہوں کو بیچنا چاہے اور ایک مرتہن راہن کو مہلت دے اگر شئے مرہوں ایسی ہے کہ اس کے نصف بیچ ڈالنے سے دوسرے مرتہن کا نقصان نہیں ہوتا تو آدھی بیچ کر ایک مرتہن کا دین ادا کردیں گے اور جو نقصان ہوتا ہے تو کل شئے مرہوں کو بیچ کر جو مرتہنتقاضا کرتا ہے اس کو نصف دے دیں گے اور جس مرتہن نے مہلت دی ہے وہ اگر خوشی ہے چاہے تو نصف ثمن کو راہن کے حوالہ کر دے نہیں تو حلف کرے میں نے اس واسطے مہلت دی تھی کہ شئے مرہوں اپنے حال پر میرے پاس رہے پھر اس کا حق اسی وقت ادا کردیا جائے۔ کہا مالک نے اگر غلام کو رہن رکھے تو غلام کا مال راہن لے لے گا مگر جب مرتہن شرط کرلے کہ اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہن رہے۔
حدیث 927 — موطأ مالك #927
صحیح
حدیث 928 — موطأ مالك 20:1
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى تَطْهُرِي ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں آئی مکہ میں حالت حیض میں اور میں نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا اور نہ سعی کی صفا اور مرہ کی تو میں نے شکوہ کیا اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کام حاجی کرتے ہیں وہ تو بھی کر فقط طواف اور سعی نہ کر جب تک کہ پاک نہ ہو ۔ کہا مالک نے جو عورت عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ میں آئے اور وہ حیض سے ہو اور حج کے دن آجائیں اور طواف نہ کر سکے تو اگر حج کے فوت ہونے کا خوف ہو تو حج کا احرام باندھ لے اور ہدی دے اور اس کا حکم قارن جیسا ہوگا ایک طواف اس کو کافی ہے اور وقوف عرفہ اور وقوف مزدلفہ اور رمی جمار حیض کی حالت میں ادا کر سکتی ہے مگر طواف الزیارة نہ کرے جب تک حیض سے پاک نہ ہو ۔
حدیث 929 — موطأ مالك 20:2
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، حَاضَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ صفیہ کو حیض آیا تو بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہمیں روکنے والی ہے لوگوں نے کہا وہ طواف الافاضہ کر چکی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں ۔
حدیث 930 — موطأ مالك 20:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاخْرُجْنَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ کو حیض آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہم کو روکے گی کیا اس نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا، عورتوں نے کہا ہاں کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلو۔
حدیث 931 — موطأ مالك 20:4
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏.‏ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ وَمَعَهَا نِسَاءٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْهُنَّ فَتَنْفِرُ بِهِنَّ - وَهُنَّ حُيَّضٌ - إِذَا كُنَّ قَدْ أَفَضْنَ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عائشہ جب حج کرتیں عورتوں کے ساتھ اور خوف ہوتا ان کو حیض آجانے کا تو یوم النحر کو ان کو روانہ کر دیتیں طواف الافاضہ کے واسطے، جب وہ طواف کر چکتیں اب اگر ان کو حیض آتا تو ان کے پاک ہونے کا انتظار نہ کرتیں بلکہ چل کھڑی ہوتیں۔
حدیث 932 — موطأ مالك 20:5
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَقِيلَ لَهُ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ هِشَامٌ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ‏.‏ وَنَحْنُ نَذْكُرُ ذَلِكَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ إِنْ كَانَ ذَلِكَ لاَ يَنْفَعُهُنَّ وَلَوْ كَانَ الَّذِي يَقُولُونَ لأَصْبَحَ بِمِنًى أَكْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلاَفِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ كُلُّهُنَّ قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا صفیہ کا تو لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو حیض آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والے ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ طواف کر چکیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ نہیں۔ ہشام نے کہا عروہ نے کہا عائشہ نے جب ہم اس کا ذکر کرتے تھے کہ اگر پہلے سے عورتوں کو طواف کے لئے روانہ کر دینا مفید نہیں تو لوگ کیوں بھیج دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ جیسے سمجھتے ہیں کہ طواف الوداع کے لئے ٹھہرنا لازم ہے صحیح ہوتا تو منی میں چھ ہزرار عورتوں سے زیادہ حیض کی حالت میں پڑی ہوتیں طواف الوداع کے انتظار میں ۔
حدیث 933 — موطأ مالك 20:6
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَاضَتْ - أَوْ وَلَدَتْ - بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَتْ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ام سلیم نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کو حیض آگیا تھا یا زچگی ہوئی تھی بعد طواف الافاضہ کے یوم النحر کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی اور وہ چلی گئیں کہا مالک نے جس عورت کو حیض آجائے منی میں تو وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ وہ طواف الافاضہ کرے اور اگر طواف الافاضہ کے بعد اس کو حیض آیا تو اپنے شہر کو چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو رخصت پہنچی ہے حائضہ کے واسطے اور اگر حیض آیا طواف الافاضہ سے پہلے پھر خون بند نہ ہوا تو اکثر مدت لگا لیں گے حیض کی۔
حدیث 934 — موطأ مالك 20:7
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ وَفِي الْغَزَالِ بِعَنْزٍ وَفِي الأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ وَفِي الْيَرْبُوعِ بِجَفْرَةٍ ‏.‏
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حکم کیا بجو کے مارنے میں (جزا) ایک مینڈھے کا اور ہرن میں ایک بکری اور خرگوش میں بکری کے بچے کا جو سال بھر کا ہو اور جنگلی چوہے میں بکری کے چار ماہ کے بچے کا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔