قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 935 — موطأ مالك 20:8
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ تَعَالَ حَتَّى أَحْكُمَ أَنَا وَأَنْتَ ‏.‏ قَالَ فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ فَوَلَّى الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْكُمَ فِي ظَبْىٍ حَتَّى دَعَا رَجُلاً يَحْكُمُ مَعَهُ ‏.‏ فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ الرَّجُلِ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ تَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي حَكَمَ مَعِي فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ لَوْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ لأَوْجَعْتُكَ ضَرْبًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ‏}‏ وَهَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏
محمد بن سرین سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ گھوڑے ڈالے ایک تنگ گھاٹی میں تو مارا ہم نے ہرن کو اور ہم دونوں احرام باندھے ہوئے تھے حضرت عمر نے ایک شخص کو جو ان کے پہلو میں بیٹھا تھا بلایا اور کہا آؤ ہم تم مل کر حکم کر دیں تو دونوں نے مل کر ایک بکری کا حکم کیا وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا یہ ہیں امیر المومنین ایک ہرن کا فیصہ اکیلے نہ کر سکے جب تک کہ ایک اور شخص کو اپنے ساتھ نہ بلایا۔ حضرت عمر نے یہ بات سن لی تو اس پکارا اور کہا تو نے سورت مائدہ پڑھی ہے وہ بولا نہیں حضرت عمر بولے تو اس شخص کو پہچانتا ہے جس نے میرے ساتھ مل کر فیصلہ کیا اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا اگر تو یہ کہتا کہ میں نے سورت مائدہ پڑھی ہے تو اس وقت میں تجھے مارتا پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنی کتاب میں تجویز کردیں جزا کر دو عادل تم میں سے وہ ہدی ہو جو پہنچے مکہ میں اور یہ شخص عبدالرحمن بن عوف ہے
حدیث 936 — موطأ مالك 20:9
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يَقُولُ فِي الْبَقَرَةِ مِنَ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ وَفِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عرہ کہتے تھے نیل گائے میں ایک گائے لازم اور ہرن میں ایک بکری لازم ہے ۔
حدیث 937 — موطأ مالك 20:10
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي حَمَامِ مَكَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُحْرِمُ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَفِي بَيْتِهِ فِرَاخٌ مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ فَيُغْلَقُ عَلَيْهَا فَتَمُوتُ فَقَالَ أَرَى بِأَنْ يَفْدِيَ ذَلِكَ عَنْ كُلِّ فَرْخٍ بِشَاةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ فِي النَّعَامَةِ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ بَدَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنَّ فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ عُشْرَ ثَمَنِ الْبَدَنَةِ كَمَا يَكُونُ فِي جَنِينِ الْحُرَّةِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقِيمَةُ الْغُرَّةِ خَمْسُونَ دِينَارًا وَذَلِكَ عُشْرُ دِيَةِ أُمِّهِ وَكُلُّ شَىْءٍ مِنَ النُّسُورِ أَوِ الْعِقْبَانِ أَوِ الْبُزَاةِ أَوِ الرَّخَمِ فَإِنَّهُ صَيْدٌ يُودَى كَمَا يُودَى الصَّيْدُ إِذَا قَتَلَهُ الْمُحْرِمُ وَكُلُّ شَىْءٍ فُدِيَ فَفِي صِغَارِهِ مِثْلُ مَا يَكُونُ فِي كِبَارِهِ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ دِيَةِ الْحُرِّ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فَهُمَا بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ سَوَاءٌ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے مکہ کے کبوتر کو جب قتل کیا جائے تو ایک بکری لازم ہے ۔
حدیث 938 — موطأ مالك 20:11
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَصَبْتُ جَرَادَاتٍ بِسَوْطِي وَأَنَا مُحْرِمٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر کے پاس اور کہا کہ میں نے چند ٹڈیوں کو کوڑے سے مار ڈالا اور میں احرام باندھے ہوئے تھا آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی بھر کھانا کسی کو کھلا دے ۔
حدیث 939 — موطأ مالك 20:12
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ، قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ تَعَالَ حَتَّى نَحْكُمَ ‏.‏ فَقَالَ كَعْبٌ دِرْهَمٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ إِنَّكَ لَتَجِدُ الدَّرَاهِمَ لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر بن خطاب کے پاس اور پوچھا آپ سے میں نے ایک ٹڈی مار ڈالی حالت احرام میں حضرت عمر نے کہا آؤ ہم تم مل کر فیصلہ کریں کعب نے کہا ایک درہم لازم ہے حضرت عمر نے کہا تیرے پاس بہت دراہم ہیں میرے نزدیک ایک کھجور بہتر ہے ایک ٹڈی سے ۔
حدیث 940 — موطأ مالك 20:13
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ ‏ "‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ أَىَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے، ان کی سر میں جوئیں پڑ گئیں تو حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سر منڈانے کا اور کہا تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو دو دو مد کھانا دے یا ایک بکری ذبح کر ان میں سے جو بھی کرے گا کافی ہے۔
حدیث 941 — موطأ مالك 20:14
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تجھ کو تکلیف دیتی ہیں جوئیں انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا منڈاو ڈال سر اپنا اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک بکری ذبح کر ۔
حدیث 942 — موطأ مالك 20:15
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ، بِسُوقِ الْبُرَمِ بِالْكُوفَةِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَنْفُخُ تَحْتَ قِدْرٍ لأَصْحَابِي وَقَدِ امْتَلأَ رَأْسِي وَلِحْيَتِي قَمْلاً فَأَخَذَ بِجَبْهَتِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ احْلِقْ هَذَا الشَّعَرَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ بِهِ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ آئے میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہانڈی پھونک رہا تھا اپنے ساتھیوں کی اور میرے سر اور ڈاڑھی کے بال جوؤں سے بھر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی تھام کر فرمایا ان بالوں کو منڈوا ڈال اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے واسطے کچھ نہیں ہے ۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے ناک کے بال اکھاڑے یا بغل کے یا بدن پر نورہ لگایا یا سر میں زخم ہوا اور ضروت کی وجہ سے سر منڈوایا یا گدی کے بال منڈوائے پچھنے لگانے کے واسطے احرام میں، اگر بھولے سے یا نادانی سے یہ کام کرے تو ان سب صورتوں میں اس پر فدیہ ہے اور محرم کو درست نہیں کہ پچھنے لگانے کی جگہ مونڈے ۔ کہا مالک نے جو شخص نادانی سے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لے تو فدیہ دے۔
حدیث 943 — موطأ مالك #943
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَنْ نَسِيَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي قَالَ تَرَكَ أَوْ نَسِيَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ هَدْيًا فَلاَ يَكُونُ إِلاَّ بِمَكَّةَ وَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ نُسُكًا فَهُوَ يَكُونُ حَيْثُ أَحَبَّ صَاحِبُ النُّسُكِ ‏.‏
کہا مالک نے جو شخص چاہے ایسے کپڑے پہننا جو احرام میں درست نہیں ہیں یا بال کم کرنا چاہے یا خوشبو لگانا چاہے بغیر ضرورت کے فدیہ کو آسان سمجھ کر تو یہ جائز نہیں ہے بلکہ رخصت ضرورت کے وقت ہے جو کوئی ایسا کرے فدیہ دے ۔ کہا مالک نے جو شخص حج میں تین روزے رکھنا بھول جائے یا بیماری کی وجہ سے نہ رکھ سکے یہاں تک کہ اپنے شہر چلا جائے تو اس کو اگر ہدی کی قدرت ہو تو ہدی دے ورنہ تین روزے اپنے گھر میں رکھ کر پھر سات روزے رکھے۔
حدیث 944 — موطأ مالك 20:17
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ بِمِنًى وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ‏"‏ ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے منی میں حجة الوداع میں اور لوگ مسئلہ پوچھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سو ایک شخص آیا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سر منڈا لیا قبل نحر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب ذبح کر لے کچھ حرج نہیں ہے پھر دوسرا شخص آیا وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نادانی سے نحر کیا قبل رمی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمی کر لے کچھ حرج نہیں ہے عبداللہ بن عمر نے کہا پھر جب سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے مقدم یا موخر کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لے اور کچھ حرج نہیں ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔