عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوٹتے جہاد یا حج یا عمرہ سے تو تکبیر کہتے ہر چڑھاؤ پر تین بار فرمایا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر۔ ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اللہ کی طرف پوجنے والے ہیں سجدہ کرنے والے ہیں اللہ اپنے پروردگار کی طرف سچا کیا اللہ نے وعدہ اپنا اور مدد کی اپنے بندے کی اور بھگادیا فوجوں کو اکیلے ۔
حدیث 946 — موطأ مالك 20:19
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا فَقِيلَ لَهَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَتْ بِضَبْعَىْ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " .
کریب سے روایت ہے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عباس کے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا ایک عورت پر اور وہ اپنے محافہ میں تھی تو کہا گیا اس سے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نے اپنے لڑکے کا بازو پکڑ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکے کا بھی حج ہے فرمایا ہاں اور تجھ کو اجر ہے ۔
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں دیکھا جاتا شیطان کسی روز ذلیل اور منحوس اور غضبناک زیادہ عرفے کے روز سے اس وجہ سے کہ دیکھتا ہے اس دن اللہ کی رحمت اترتی ہوئی اور بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہوئے مگر بدر کے روز بھی شیطان کا یہی حال تھا لوگوں نے کہا اس دن کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھا اس نے جبرائیل کو فرشتوں کی صف باندھے ہوئے ۔
عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر دعاؤں میں عرفے کی دعا ہے اور بہتر اس میں جو کہا میں نے اور میرے سے پہلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے ۔
حدیث 949 — موطأ مالك 20:22
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهُ " .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن خطل کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو مار ڈالو۔ امام مالک نے کہا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے مکے سے جب قدید میں پہنچے تو مدینے کے فساد کی خبر پہنچی پس آپ مکہ میں بغیر احرام کے لوٹ آئے ۔ ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے
عمران انصاری سے روایت ہے کہ میرے پاس عبداللہ بن عمر آئے اور میں مکے کی راستے میں ایک درخت کے تلے ٹھہرا ہوا تھا ، تو انہوں نے پوچھا کیوں ٹھہرا تو اس درخت کے تلے ، میں نے کہا سایہ کے واسطے انہوں نے کہا یا اور کسی کام کے واسطے میں نے کہا نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے ٹھہرا ہوں، عبداللہ بن عمر نے کہا : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو منی میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف وہاں ایک جگہ ہے جس کو سُرر کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی یا ستر نبیوں کو نبوت ملی پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے ۔
ابن ابی ملکیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک جذامی عورت کے پاس سے گزرے جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی، تو (عمر نے) کہا اے اللہ کی لونڈی لوگوں کو تکلیف مت دے، کاش تو اپنے گھر میں بیٹھتی ، وہ اپنے گھر میں بیٹھی رہی یہاں تک کہ ایک شخص اس سے ملا اور بولا کہ جس شخص نے تجھ کو منع کیا تھا وہ مر گیا، اب نکل؛ عورت بولی میں ایسی نہیں کہ زندگی میں تو میں اس شخص کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے کہ "ملتزم " حجر اسود اور کعبہ کے دروازہ کے درمیان میں ہے ۔