محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوذر کے پاس سے گزرے ربذہ میں (ایک مقام کا نام ہے)، ابوذر نے پوچھا کہاں کا قصد ہے؟ اس نے کہا حج کا، ابوذر نے پوچھا اور کسی نیت سے تو نہیں نکلا ؟ بولا نہیں، ابوذر نے کہا پس شروع کر کام، اس شخص نے کہا میں نکلا یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور وہاں ٹھہرا رہا پھر دیکھا میں نے لوگوں کو کہ گھیرے ہوئے ہیں ایک شخص کو ، تو میں لوگوں کو چیر کے اندر گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہی شخص جو ربذہ میں مجھ کو ملا تھا موجود ہے یعنی ابوذر انہوں نے مجھ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا تو وہی ہے جس سے میں نے حدیث بیان کی تھی ۔
امام مالک نے کہا کہ جن عورتوں کے خاوند نہیں ہیں اور انہوں نے حج نہیں کیا، اگر ان کا کوئی محرم نہ ہو یا ہو لیکن ساتھ نہ جا سکے تو فرض حج کو ترک نہ کرے بلکہ عورتوں کے ساتھ حج کو جائے ۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ؛ وہ کہتی تھیں روزہ اس شخص کے اوپر ہے جو تمتع کرے یعنی عمرہ کر کے حج کرے اور ہدی نہ پائے حج کے احرام سے لے کر عرفہ تک روزے رکھے اگر ان دنوں میں نہ رکھے تو منی کے دنوں میں رکھے ۔ عبداللہ بن عمر بھی اس مقدمے میں مثل قول عائشہ کے کہتے ۔