قرآني·Qurani
اردو

الحدود

37 احادیث · #1500–1536

حدیث 1510 — موطأ مالك 41:11
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاَثُونَ شَهْرًا‏}‏ وَقَالَ ‏{‏وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ‏}‏ فَالْحَمْلُ يَكُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلاَ رَجْمَ عَلَيْهَا ‏.‏ فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاَثُونَ شَهْرًا‏}‏ وَقَالَ ‏{‏وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ‏}‏ فَالْحَمْلُ يَكُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلاَ رَجْمَ عَلَيْهَا ‏.‏ فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ ‏.‏
حدیث 1511 — موطأ مالك 41:12
ضعیف
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَوْطٍ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ مَكْسُورٍ فَقَالَ ‏"‏ فَوْقَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ جَدِيدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُهُ فَقَالَ ‏"‏ دُونَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ رُكِبَ بِهِ وَلاَنَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجُلِدَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تَنْتَهُوا عَنْ حُدُودِ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَاتِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِي لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آپ نے کوڑا منگوایا تو نیا کوڑا آیا جس کا سرا بھی نہیں کٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے نرم لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو بالکل ٹوٹا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما اس سے سخت لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو سواری میں کام آیا تھا اور نرم ہو گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا اس کوڑے سے مارنے کا بعد اس کے فرمایا اے لوگوں اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم باز رہو اللہ کی حدوں سے جو شخص اس قسم کا کوئی گناہ کرے تو چاہیے کہ چھپا رہے اللہ کے پردے میں اور جو کوئی کھول دے گا اپنے پردے کو تو ہم موافق کتاب اللہ کے اس پر حد قائم کریں گے ۔
حدیث 1512 — موطأ مالك 41:13
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةٍ بِكْرٍ فَأَحْبَلَهَا ثُمَّ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا وَلَمْ يَكُنْ أَحْصَنَ فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ نُفِيَ إِلَى فَدَكَ ‏.‏
صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص کو لائے جس نے ایک باکرہ لونڈی سے زنا کر کے اس کو حاملہ کر دیا تھا بعد اس کے زنا کا اقرار کیا اور وہ محصن نہ تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم کیا اس کو کوڑا مارنے کا اس کو حد پڑی بعد اس کے نکال دیا گیا فدک کی طرف ایک موضع ہے مدینہ سے دو دن کی راہ پر ۔ کہا مالک نے جو شخص زنا کا اقرار کرے بعد اس کے منکر ہوجائے اور کہے میں نے زنا نہیں کیا بلکہ میں نے فلانا کام کیا (جیسے اپنی عورت سے حالت حیض میں جماع کیا اس کو زنا سمجھا) تو اس پر حد نہ پڑے گی کیونکہ حد پڑنے میں یا تو گواہ عادل ہونے چاہئیں یا اقرار ہو جس پر وہ قائم رہے حد پڑنے تک۔
حدیث 1513 — موطأ مالك 41:14
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ لونڈی غیر محصنہ جب زنا کرے تو کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے مار پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو بعد اس کے چوتھی مرتبہ یا تیسری مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیچ ڈالو ایسی لونڈی کو اگرچہ ایک رسی کے عوض میں ہو۔
حدیث 1514 — موطأ مالك 41:15
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدًا، كَانَ يَقُومُ عَلَى رَقِيقِ الْخُمُسِ وَأَنَّهُ اسْتَكْرَهَ جَارِيَةً مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فَوَقَعَ بِهَا فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَنَفَاهُ وَلَمْ يَجْلِدِ الْوَلِيدَةَ لأَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام مقرر تھا ان غلام اور لونڈیوں پر جو خمس میں آئی تھیں اس نے انہیں غلام اور لونڈیوں میں سے ایک لونڈی سے زبردستی جماع کیا حضرت عمر بن خطاب نے اس کو کوڑے مارے اور نکال دیا اور لونڈی کو نہ مارا کیونکہ اس پر جبر ہوا تھا۔
حدیث 1515 — موطأ مالك #1515
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَلَدْنَا وَلاَئِدَ مِنْ وَلاَئِدِ الإِمَارَةِ خَمْسِينَ خَمْسِينَ فِي الزِّنَا ‏.‏
کہا مالک نے اگر عورت حاملہ ہوجائے اور اس کا خاوند نہ ہو پھر وہ کہنے لگے کہ مجھ سے زبردستی کسی نے جماع کیا تھا یا میں نے نکاح کیا تھا تو یہ قول اس کا قبول نہ کیا جائے گا بلکہ حد ماری جائے گی جب تک کہ اس نکاح پر گواہ نہ لائے یا اپنی مجبوری کا ثبوت نہ دے گواہوں سے یا قرینے سے مثلا باکرہ (کنواری) ہو تو چلی آئے فریاد کرتی ہوئی اس حال میں کہ خون نکل رہا ہو اس کی شرمگاہ سے یا چلانے لگے یہاں تک کہ لوگ آجائیں ۔ بغیر ان باتوں کے اس کا قول مقبول نہ ہوگا اور حد پڑے گی۔ کہا مالک نے جس عورت سے زبردستی کوئی جماع کرے تو وہ نکاح نہ کرے جب تک کہ اس کو تین حیض نہ آ لیں اگر حمل کا شبہ ہو تو بھی نکاح نہ کرے جب تک کہ یہ شبہ دور نہ ہو۔
حدیث 1516 — موطأ مالك 41:17
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ قَالَ جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ ثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَدْرَكْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَاءَ هَلُمَّ جَرًّا فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ ‏.‏
ابو زناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک غلام کو حد قذف کے اسی کوڑے لگائے تو میں نے عبداللہ بن عامر سے پوچھا انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان اور خلفاء کو ان کے بعد دیکھا کہ کسی نے غلام کو حد قذف میں چالیس کوڑے سے زیادہ نہیں لگائے ۔
حدیث 1517 — موطأ مالك 41:18
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ الأَيْلِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، يُقَالُ لَهُ مِصْبَاحٌ اسْتَعَانَ ابْنًا لَهُ فَكَأَنَّهُ اسْتَبْطَأَهُ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ لَهُ يَا زَانٍ ‏.‏ قَالَ زُرَيْقٌ فَاسْتَعْدَانِي عَلَيْهِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَجْلِدَهُ قَالَ ابْنُهُ وَاللَّهِ لَئِنْ جَلَدْتَهُ لأَبُوأَنَّ عَلَى نَفْسِي بِالزِّنَا ‏.‏ فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ أَشْكَلَ عَلَىَّ أَمْرُهُ فَكَتَبْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ - أَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَىَّ عُمَرُ أَنْ أَجِزْ عَفْوَهُ ‏.‏ قَالَ زُرَيْقٌ وَكَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَيْضًا أَرَأَيْتَ رَجُلاً افْتُرِيَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا ‏.‏ قَالَ فَكَتَبَ إِلَىَّ عُمَرُ إِنْ عَفَا فَأَجِزْ عَفْوَهُ فِي نَفْسِهِ وَإِنِ افْتُرِيَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَخُذْ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ سِتْرًا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَذَلِكَ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ الْمُفْتَرَى عَلَيْهِ يَخَافُ إِنْ كُشِفَ ذَلِكَ مِنْهُ أَنْ تَقُومَ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَإِذَا كَانَ عَلَى مَا وَصَفْتُ فَعَفَا جَازَ عَفْوُهُ ‏.‏
زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام مصباح تھا اپنے بیٹے کو کسی کام کے واسطے بلایا اس نے دیر کی جب آیا تو مصباح نے کہا کہ اے زانی، کہا زریق نے اس لڑکے نے میرے پاس فریاد کی میں نے جب اس کے باپ کو حد مارنی چاہی تو وہ لڑکا بولا اگر تم میرے باپ کو کوڑوں سے مارو گے تو میں زنا کا اقرار کر لوں گا میں یہ سن کر حیران ہوا اور اس مقدمے کا فیصلہ کرنا مجھ پر دشوار ہوا تو میں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں حاکم تھے مدینہ کے (سلمان بن عبدالملک کی طرف سے) عمر بن عبدالعزیز نے جواب لکھا کہ لڑکے کے عفو کو جائز رکھ(یعنی بیٹے نے اگر باپ کو حد معاف کردی ہے تو عفو صحیح ہے) زریق نے کہا میں نے عمربن عبدالعزیز کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر تہمت زنا کی لگائے یا اس کے ماں باپ کو اور ماں باپ اس کے مر گئے ہوں یا دونوں میں سے ایک مر گیا ہو تو پھر کیا کرے، عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ جس شخص کو تہمت زنا کی لگائے اگر وہ معاف کر دے تو عفو درست ہے لیکن اگر اس کے والدین کو تہمت زنا کی لگائے تو اس کا عفو کر دینا درست نہیں جب کہ والدین مر گئے ہوں یا ان دو میں سے ایک مر گیا ہو بلکہ حد لگا اس کو موافق کتاب اللہ کے مگر جب بیٹا اپنے والدین کا حال چھپانے کے واسطے عفو کر دے تو عفو درست ہے ۔ کہا مالک نے یعنی اس کو خوف ہو اگر میں تہمت لگانے والے کو معاف نہ کروں گا تو والدین کا زنا گواہوں سے ثابت ہوجائے گا اس وجہ سے عفو کردے تو عفو درست ہے۔
حدیث 1518 — موطأ مالك 41:19
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ تَفَرَّقُوا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ ‏.‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلاَ أُمِّي بِزَانِيَةٍ ‏.‏ فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ كَانَ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ ‏.‏ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ حَدَّ عِنْدَنَا إِلاَّ فِي نَفْىٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَى أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْحَدُّ تَامًّا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَى رَجُلٌ رَجُلاً مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوكَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ تَفَرَّقُوا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ ‏.‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلاَ أُمِّي بِزَانِيَةٍ ‏.‏ فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ كَانَ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ ‏.‏ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ حَدَّ عِنْدَنَا إِلاَّ فِي نَفْىٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَى أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْحَدُّ تَامًّا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَى رَجُلٌ رَجُلاً مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوكَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ ‏.‏
حدیث 1519 — موطأ مالك #1519
Mauquf Daif
کہا مالک نے جو کوئی شریک مشترک لونڈی سے صحبت کرلے تو اس پر حد نہیں ہے اب جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اسی سے لگایا جائے گا اور لونڈی کی قیمت لگا کر باقی شریکوں کو ان کے حصے کو موافق قیمت ادا کرنی ہوگی اور لونڈی پوری اسی کی ہوجائے گی ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص اپنی لونڈی کسی کو مباح کردے (یعنی اس سے جماع کرنے کی اجازت دے دے ہر چند یہ درست نہیں) وہ شخص اس سے جماع کرے تو لونڈی کی قیمت دینی ہوگی خواہ حاملہ ہو یا نہ ہو لیکن حد نہ پڑے گی۔ اگر حاملہ ہوجائے گی تو بچے کا نسب اس سے ثابت کردیں گے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔