ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لونڈی کو سفر میں ساتھ لے کر نکلا وہاں اس سے صحبت کی عورت نے رشک کے مارے حضرت عمر سے کہہ دیا حضرت عمر نے مرد سے پوچھا وہ بولا کہ عورت نے اس لونڈی کو مجھے ہبہ کردیا تھا حضرت عمر نے کہا یا تو تو گواہ لا ہبہ کے نہیں تو تجھے رجم کروں گا۔ اس وقت عورت نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے ہبہ کر دیا تھا۔
حدیث 1521 — موطأ مالك 41:2
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کاٹا ایک ڈھال کی چوری میں جس کی قیمت تین درہم تھی
عبداللہ بن عبدالرحمن مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو میوہ درخت پر لٹکتا ہو یا جو بکری پہاڑ پر پھرتی ہو اس کے اٹھا لینے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مگر جب وہ بکری اپنے گھر میں آجائے یا میوہ کاٹ کر کھانے کو کہیں رکھا جائے پھر اس کو کوئی چرائے تو ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ قیمت اس کی ڈھال کے برابر ہو ۔
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ترنج چرایا حضرت عثمان نے اس کی قیمت لگوائی وہ تین درہم کا نکلا بارہ درہم فی دینار کے حساب سے تو حضرت عثمان نے اس کا ہاتھ کاٹا۔
حدیث 1524 — موطأ مالك 41:5
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا طَالَ عَلَىَّ وَمَا نَسِيتُ " الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ابھی کچھ زیادہ زمانہ نہیں ہوا اور نہ میں بھولی ہوں کہ چور کا ہاتھ ربع دینا میں یا زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔
حدیث 1525 — موطأ مالك 41:6
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَمَعَهَا مَوْلاَتَانِ لَهَا وَمَعَهَا غُلاَمٌ لِبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَبَعَثَتْ مَعَ الْمَوْلاَتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ قَالَتْ فَأَخَذَ الْغُلاَمُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً وَخَاطَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلاَتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا الْبُرْدَ فَكَلَّمُوا الْمَرْأَتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ كَتَبَتَا إِلَيْهَا وَاتَّهَمَتَا الْعَبْدَ فَسُئِلَ الْعَبْدُ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُطِعَتْ يَدُهُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ کو گئیں ان کے ساتھ دو لونڈیاں تھیں ان کی آزاد کی ہوئیں اور ایک غلام تھا عبداللہ بن ابی بکر کی اولاد کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مکہ سے ان دو لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں مردوں کی۔ ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا اس غلام نے کیا کیا کپڑے کی سیون ادھیڑ کر اس میں سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا پوستین رکھ دی اور پھر سی دیا جب وہ لونڈیاں مدینہ کو آئیں اور وہ امانت جن کو حضرت عائشہ نے کہا تھا کہ سپرد کی انہوں نے اڈھیر کر دیکھا تو نمدہ ہے چادر نہیں ہے لونڈیوں سے پوچھا لونڈیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کیا یا ان کولکھ بھیجا اور اپنا گمان غلام پر ظاہر کیا جب غلام سے پوچھا گیا تو اس نے اقرار کیا حضرت عائشہ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا حضرت عائشہ نے فرمایا ربع دینار یا زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام عبداللہ بن عمر کا بھاگا ہوا تھا اس نے چوری کی عبداللہ بن عمر نے اس غلام کو سعید بن العاص کے پاس بھیجا جو حاکم تھے مدینہ کے ہاتھ کاٹنے کو، سعید بن عاص نے نہ مانا اور کہا جب کوئی بھاگ جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تو نے یہ حکم کس کتاب اللہ میں پایا، پھر عمد اللہ بن عمر نے حکم کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۔
زر یق بن حکیم نے ایک بھاگے ہوئے غلام کو گر فتار کیا جس نے چوری کی تھی پھر ان کو یہ مسئلہ مشکل معلوم ہوا انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں امیرالمو منین تھے اور یہ بھی لکھا کہ میں سنتا تھا جو غلام بھاگ جائے پھر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے عمر بن عبد العز یز نے جواب میں لکھا اور میری تحریر کا حوالہ دیا اور کہا کہ تو نے لکھا ہے کہ تو سنتا تھا جو غلام بھاگا ہوا ہو وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان کے ہاتھ کاٹو یہ بدلہ ہے ان کے کام کا اور عذاب ہے اللہ کی طرف سے اللہ غالب ہے حکمت والا پس اگر اس غلام نے ربع دینار کے موافق یا اس سے زیادہ چوری کی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈال۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور عروہ بن الزبیر کہتے تھے بھاگا ہوا غلام جب اس قدر چرائے جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔
حدیث 1528 — موطأ مالك #1528
Maqtu Daif
حدیث 1529 — موطأ مالك 41:1
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ . فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ سے کسی نے کہا کہ جس نے ہجرت نہیں کی تو وہ تباہ ہوا تو صفوان مدینہ میں آئے اور مسجد نبوی میں اپنی چادر سر کے تلے رکھ کر سو رہے چور آیا اور چادر ان کی لے گیا صفوان نے اٹھ کر چور کو گرفتار کیا اور رسول اللہ کے پاس لے آئے آپ نے چور سے پوچھا کہ کیا تو نے صفوان کی چادر چرائی وہ بولا ہاں آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا صفوان نے کہا میری نیت یہ نہ تھی یا رسول اللہ وہ چادر تو اس پر صدقہ ہے آپ نے فرمایا تجھ کو یہ امر میرے پاس لانے سے پہلے کرنا تھا