قرآني·Qurani
اردو

الرؤيا

9 احادیث · #1747–1755

حدیث 1747 — موطأ مالك 52:1
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا خواب نیک بخت آدمی کا نبوت کا ایک جز ہے چھیالس جزوں میں سے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی روایت کیا ہے ۔
حدیث 1748 — موطأ مالك #1748
صحیح
حدیث 1749 — موطأ مالك 52:1
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ ‏"‏ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُ ‏"‏ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فارغ ہوتے صبح کی نماز سے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے اور فرماتے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا سوائے اچھے خواب کے ۔
حدیث 1750 — موطأ مالك 52:2
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَنْ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ نہ رہے گا مگر مبشرات، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب جس کو نیک بخت آدمی دیکھے یا دوسرا اس کے واسطے دیکھے یہ جز ہے نبوت کے چھیالیس جزوں میں سے ۔
حدیث 1751 — موطأ مالك 52:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الشَّىْءَ يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَىَّ مِنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا كُنْتُ أُبَالِيهَا ‏.‏
ابو قتادہ بن ربعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے تو جب کوئی تم میں سے برا خواب دیکھے تو چاہئے کہ بائیں طرف تھتکار دے تین بار اور پناہ مانگے اللہ سے اس کے شر سے پھر وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا اگر اللہ چاہئے ابوسلمہ نے کہا پہلے میں خواب ایسے دیکھتا جن کا بوجھ میرے اوپر پہاڑ سے بھی زیادہ رہتا جب سے میں نے اس حدیث کو سنا ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتا ۔
حدیث 1752 — موطأ مالك 52:4
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ‏}‏ ‏.‏ قَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ ‏.‏
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ یہ جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا ان کے واسطے خوشخبریاں ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس سے مراد نیک خواب ہیں جس کو آدمی خود دیکھے یا کوئی اس کے واسطے دیکھے ۔
حدیث 1753 — موطأ مالك 52:5
حسن
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جس نے چوسر کھیلا تو اس نے نافرمانی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی ۔
حدیث 1754 — موطأ مالك 52:6
Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا كَانُوا سُكَّانًا فِيهَا وَعِنْدَهُمْ نَرْدٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لأُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ دَارِي وَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا ان کے پاس شطرنج ہے تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کر دو میرے گھر سے نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا اور برا جانا اس کو۔
حدیث 1755 — موطأ مالك 52:7
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ وَكَسَرَهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لاَ خَيْرَ فِي الشَّطْرَنْجِ ‏.‏ وَكَرِهَهَا وَسَمِعْتُهُ يَكْرَهُ اللَّعِبَ بِهَا وَبِغَيْرِهَا مِنَ الْبَاطِلِ وَيَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ ‏}‏‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے کہا یحیی نے سنا میں نے مالک سے شطرنج کھلینا بہتر نہیں ہے نہ اس میں کوئی فائدہ بھلائی ہے اور مکروہ جانتے تھے اس کو اور سنا میں نے مالک سے کہتے تھے شطرنج کھلینا اور لغو بے ہودہ کھیل سب مکروہ ہیں اور پڑھتے تھے اس آیت کو پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔