قرآني·Qurani
اردو

السلام

7 احادیث · #1756–1762

حدیث 1756 — موطأ مالك 53:1
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الْقَوْمِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سلام کرے سوار پیادے کو اور جب ایک آدمی قوم میں سے سلام کرے تو ان سب سے کافی ہو جائے گا ۔
حدیث 1757 — موطأ مالك 53:2
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ‏.‏ ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِكَ أَيْضًا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْيَمَانِيُّ الَّذِي يَغْشَاكَ ‏.‏ فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلاَمَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يُسَلَّمُ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلاَ أَكْرَهُ ذَلِكَ وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلاَ أُحِبُّ ذَلِكَ ‏.‏
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عباس کے پاس اتنے میں ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور بولا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اور اس پر بھی کچھ زیادہ کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ان دنوں بینائی جاتی رہی تھی انہوں نے کہا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ وہی یمن کا رہنے والا ہے جو آیا کرتا ہے آپ کے پاس اور پتہ دیا اس کا یہاں تک کہ ابن عباس پہچان گئے اس کو ابن عباس نے کہا سلام ختم ہو گیا وبرکاتہ پر اس سے زیادہ نہ بڑھانا چاہئے کہا یحیی نے سوال ہوا مالک سے مرد سلام کرے عورت پر انہوں نے کہا بڑھیا پر تو کچھ قباحت نہیں لیکن جوان پر اچھا نہیں ۔
حدیث 1758 — موطأ مالك 53:3
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ ‏.‏ فَقُلْ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم کہتے ہیں تم بھی علیک کہا کرو ۔
حدیث 1759 — موطأ مالك 53:4
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلاَثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تھے مسجد میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں تین آدمی آئے دو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو سلام کیا اور ایک شخص ان میں سے حلقے میں جگہ پا کر بیٹھ گیا اور ایک پیچھے بیٹھا رہا اور تیسرا تو پہلے ہی چلا گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو ان تینوں آدمیوں کا حال نہ بتلاؤں؟ ایک تو ان میں سے اللہ کے پاس آیا اللہ نے بھی اس کو جگہ دی ایک نے ان میں سے شرم کی اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور ایک نے ان میں سے منہ پھیر لیا اللہ نے بھی اس طرف سے منہ پھیر لیا۔
حدیث 1760 — موطأ مالك 53:5
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَسَلَّمَ، عَلَيْهِ رَجُلٌ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ كَيْفَ أَنْتَ فَقَالَ أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ذَلِكَ الَّذِي أَرَدْتُ مِنْكَ ‏.‏
انس بن مالک نے سنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کو ایک شخص نے سلام کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا جواب دیا پھر اس سے مزاج پوچھا اس نے کہا شکر کرتا ہوں اللہ کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرا یہی مطلب تھا۔
حدیث 1761 — موطأ مالك 53:6
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَى السُّوقِ قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى سَقَاطٍ وَلاَ صَاحِبِ بَيْعَةٍ وَلاَ مِسْكِينٍ وَلاَ أَحَدٍ إِلاَّ سَلَّمَ عَلَيْهِ - قَالَ الطُّفَيْلُ - فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَى السُّوقِ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لاَ تَقِفُ عَلَى الْبَيِّعِ وَلاَ تَسْأَلُ عَنِ السِّلَعِ وَلاَ تَسُومُ بِهَا وَلاَ تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ قَالَ وَأَقُولُ اجْلِسْ بِنَا هَا هُنَا نَتَحَدَّثْ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَا أَبَا بَطْنٍ - وَكَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ - إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلاَمِ نُسَلِّمُ
طفیل بن ابی بن کعب عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ایک ردی ودی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر نے کہا اے پیٹ والے بازار میں سلام کرنے کو جاتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے اس کو سلام کرتے ہیں ۔
حدیث 1762 — موطأ مالك 53:7
Mauquf Daif
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سلام کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو کہا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ والغایات الرائحات عبداللہ بن عمر نے کہا وعلیک الفا اور اس طرح کہا جیسے کہ اس کو برا جانا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ جب کوئی آدمی ایسے گھر میں جائے جو خالی پڑا ہو تو کہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحیں یعنی سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔