حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَرَادَ أَنْ يَتَّخِذَ خَشَبَتَيْنِ يُضْرَبُ بِهِمَا لِيَجْتَمِعَ النَّاسُ لِلصَّلاَةِ فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ خَشَبَتَيْنِ فِي النَّوْمِ فَقَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ لَنَحْوٌ مِمَّا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ أَلاَ تُؤَذِّنُونَ لِلصَّلاَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالأَذَانِ .
یحیی بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصد کیا دو لکڑیاں بنانے کا اس لئے کہ جب ان کو ماریں تو آواز پہنچے لوگوں کو اور جمع ہوں لوگ نماز کے لئے پس دکھائے گئے عبداللہ بن زید دو لکڑیاں اور کہا کہ یہ لکڑیاں تو ایسی ہیں جیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہیں پھر کہا گیا ان سے خواب میں کہ تم نماز کے لئے اذان کیوں نہیں دیتے تو جب جاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان سے خواب بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا حکم دیا۔
حدیث 147 — موطأ مالك 3:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ " .
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سنو تم اذان کو تو کہو جیسا کہ کہتا جاتا ہے مؤذن ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صف اول میں ثواب میں پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اول وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر ہو نماز کی تو نہ دوڑتے ہوئے آؤ تم بلکہ اطمینان اور سہولت سے تو جتنی نماز تم کو ملے پڑھ لو اور جو نہ ملے اس کو پورا کرلو کیونکہ جب کوئی تم میں سے قصد کرتا ہے نماز کا تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔
عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے ابوسعید خدری نے کہا کہ تو بکریوں کو اور جنگل کو دوست رکھتا ہے تو جب جنگل میں ہو اپنی بکریوں میں اذان دے نماز کی بلند آواز سے کیونکہ نہیں پہنچتی آواز مؤذن کی نہ جن کو نہ آدمی کو اور نہ کسی شئے کو مگر وہ گواہ ہوتا ہے اس کا قیامت کے روز کہا ابوسعید نے سنا میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
سہل بن سعد سے روایت ہے کہا انہوں نے دو وقت کھل جاتے ہیں دراوزے آسمان کے اور کم ہوتا ہے ایسا دعا کر نیوالا کہ نہ قبول ہو دعا اس کی ایک جس وقت اذان ہو نماز کی دوسری جس وقت صف باندھی جائے جہاد کے لئے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جب اذان ہوتی ہے نماز کے لئے شیطان پیٹھ موڑ کر پادتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ نہ سنے اذان کو پھر جب اذان ہو چکتی ہے چلا آتا ہے پھر جب تکبیر ہوتی ہے بھاگ جاتا ہے پیٹھ موڑ کر پھر جب تکبیر ہو چکتی ہے چلا آتا ہے یہاں تک کہ وسوسہ ڈالتا ہے نمازی کے دل میں اور کہتا ہے اس سے خیال کر فلاں چیز کا خیال کر جس کو خیال نماز کو اول بھی نہ تھا یہاں تک کہ رہ جاتا ہے نماز اور خبر نہیں ہوتی اس کو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں ۔