نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اذان دی رات کو جس میں سردی اور ہوا بہت تھی پھر کہا کہ نماز پڑھ لو اپنے اپنے ڈیروں میں پھر کہا ابن عمر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے تھے مؤذن کو جب رات ٹھنڈی ہوتی تھی پانی برستا تھا یہ کہ پکارے نماز پڑھ لو اپنے ڈیروں میں ۔
نافع سے روایت ہے عبداللہ بن عمر سفر میں صرف تکبیر کہتے تھے مگر نماز فجر میں اذان بھی کہتے تھے اور عبداللہ بن عمر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اذان اس امام کے لئے ہے جس کے پاس لوگ جمع ہوں ۔
سعید بن مسیب نے کہا جو شخص نماز پڑھتا ہے چٹیل میدان میں تو داہنی طرف اس کے ایک فرشتہ اور بائیں طرف اس کے ایک فرشتہ نماز پڑھتا ہے اور اگر اس نے اذان دے کر تکبیر کہہ کر نماز پڑھی تو اس کے پیچھے بہت سے فرشتے نماز پڑھتے ہیں مثل پہاڑوں کے ۔
حدیث 160 — موطأ مالك 3:15
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رات رہے سے اذان دے دیتے ہیں تو کھایا پیا کرو جب تک اذان دے عبداللہ بیٹا ام مکتوم کا ۔
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال اذان دیتا ہے رات کو تو کھایا پیا کرو جب تک اذان نہ دے بیٹا ام مکتوم کا کہا ابن شہاب نے یا سالم نے یا عبداللہ بن عمر نے کہا تھا بیٹا ام مکتوم کا نابینا اذان نہ دیتا تھا جب تک لوگ اس سے نہ کہتے تھے صبح ہوگئی صبح ہوگئی ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شروع کرتے تھے نماز کو اٹھاتے تھے دونوں ہاتھ برابر دونوں مونڈھوں کے اور جب سر اٹھاتے تھے رکوع سے تب بھی دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے اور کہتے سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد اور سجدوں کے بیچ میں ہاتھ نہ اٹھاتے نہ سجدے کو جاتے وقت ۔
حدیث 163 — موطأ مالك 3:18
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُ فِي الصَّلاَةِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلاَتَهُ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
امام زین العابدین سے جن کا اسم مبارک علی ہے اور وہ بیٹے ہیں حضرت امام حسین بن علی بن ابی طالب کے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیبر کہتے نماز میں جب جھکتے اور جب اٹھتے اور ہمیشہ رہے اسی طور سے نماز ان کی یہاں تک کہ مل گئے اللہ جل جلالہ سے ۔
حدیث 164 — موطأ مالك 3:19
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلاَةِ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھاتے تھے ہاتھوں کو نماز میں
حدیث 165 — موطأ مالك 3:20
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ابوہریرہ امام ہوتے تھے ان کے تو تکبیر کہتے تھے جب جھکتے اور جب اٹھتے اور پھر جب فارغ ہوئے تو کہا قسم اللہ کی میں زیادہ مشابہ ہوں تم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں ۔