ام فضل نے عبداللہ بن عباس کو سورت المرسلات عرفا پڑھتے سنا تو کہا اے بیٹے میرے! یاد دلا دیا تو نے یہ سورت پڑھ کر اخیر جو سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سورت کو پڑھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب اکیلے نماز پڑھتے تھے تو چاروں رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی دو دو تین سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے فرض کی نماز میں اور مغرب کی نماز میں دو رکعتوں میں فاتحہ اور سورت پڑھتے تھے ۔
حدیث 174 — موطأ مالك 3:7
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ .
برا بن عازب سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاء کی تو پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں والتین والزیتوں ۔
حدیث 175 — موطأ مالك 3:8
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ .
حضرت علی سے روایت ہے کہ منع کیا حضرت نے ریشمی کپڑا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور قرآن کو رکوع میں پڑھنے سے ۔