قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

76 احادیث · #146–221

حدیث 176 — موطأ مالك 3:9
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْبَيَاضِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ بِهِ وَلاَ يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
فروہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے لوگوں کے پاس اور وہ نماز پڑھ رہے تھے آوازیں ان کی بلند تھیں کلام اللہ پڑھنے سے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کانا پھوسی کرتا ہے اپنے پروردگار سے تو چاہئے کہ سمجھ کر کانا پھوسی کرے اور نہ پکارے ایک تم میں دوسرے پر قرآن میں ۔
حدیث 177 — موطأ مالك 3:10
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ قُمْتُ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ كَانَ لاَ يَقْرَأُ ‏{‏بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏}‏ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ‏.‏
انس بن مالک نے کہا نماز کو کھڑا ہوا میں پیچھے ابوبکر اور عمر اور عثمان کے جب نماز شروع کرتے تو کوئی ان میں سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھتا ۔
حدیث 178 — موطأ مالك 3:11
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نَسْمَعُ قِرَاءَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلاَطِ ‏.‏
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ ہم سنتے تھے قرأت عمر بن خطاب کی اور وہ ہوتے تھے نزدیک دار ابی جہم کے اور ہم ہوتے تھے بلاط میں
حدیث 179 — موطأ مالك 3:12
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا فَاتَهُ شَىْءٌ مِنَ الصَّلاَةِ مَعَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ أَنَّهُ إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ - قَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَرَأَ لِنَفْسِهِ فِيمَا يَقْضِي وَجَهَرَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے عبداللہ بن عمر جب فوت ہو جاتی کچھ نماز ان کی ساتھ امام کے جس میں پکار کر قرأت کی ہوتی تو جب سلام پھیرتا امام، اٹھتے عبداللہ بن عمر اور پڑھتے جو رہ گئی تھی نماز میں پکار کر ۔
حدیث 180 — موطأ مالك 3:13
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى جَانِبِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَغْمِزُنِي فَأَفْتَحُ عَلَيْهِ وَنَحْنُ نُصَلِّي ‏.‏
یزید بن رومان سے روایت ہے کہ میں نماز پڑھتا تھا نافع کے ایک جانب تو اشارہ کر دیتے تھے مجھ کو واپس بتا دیتا تھا میں ان کو جہاں وہ بھول جاتے تھے اور ہم نماز میں ہوتے تھے ۔
حدیث 181 — موطأ مالك 3:14
Mauquf Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے نماز پڑھائی صبح کی تو پڑھی اس میں سورت بقرہ دو رکعتوں میں
حدیث 182 — موطأ مالك 3:15
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَقُولُ صَلَّيْنَا وَرَاءَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِسُورَةِ يُوسُفَ وَسُورَةِ الْحَجِّ قِرَاءَةً بَطِيئَةً فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِذًا لَقَدْ كَانَ يَقُومُ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ‏.‏ قَالَ أَجَلْ ‏.‏
عروہ بن زبیر نے سنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے کہتے تھے نماز پڑھی ہم نے پیچھے عمر بن خطاب کے صبح کی تو پڑھی انہوں نے سورت یوسف اور سورت حج ٹھہر ٹھہر کر عروہ نے کہا قسم اللہ کی پس اس وقت کھڑے ہوتے ہوں گے نماز کو جب نکلتی ہے صبح صادق کہا عبداللہ نے ہاں
حدیث 183 — موطأ مالك 3:16
Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ الْفُرَافِصَةَ بْنَ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيَّ، قَالَ مَا أَخَذْتُ سُورَةَ يُوسُفَ إِلاَّ مِنْ قِرَاءَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ إِيَّاهَا فِي الصُّبْحِ مِنْ كَثْرَةِ مَا كَانَ يُرَدِّدُهَا لَنَا ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ فرافصہ بن عمیر حنفی نے کہا کہ میں نے سورت یوسف یاد کرلی حضرت عثمان کے پڑھنے سے آپ صبح کی نماز میں اس کو بہت پڑھا کرتے تھے ۔
حدیث 184 — موطأ مالك 3:17
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ فِي السَّفَرِ بِالْعَشْرِ السُّوَرِ الأُوَلِ مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سفر میں مفصل کے پہلی دس سورتوں میں سے ہر ایک رکعت میں سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھا کرتے تھے ۔
حدیث 185 — موطأ مالك 3:18
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَادَى أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ لَحِقَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى يَدِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لاَ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الْقُرْآنِ مِثْلَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُبَىٌّ فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْىِ رَجَاءَ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةَ الَّتِي وَعَدْتَنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأْتُ ‏{‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ابی بن کعب کو اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوئے مل گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پس رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اپنا ابی کے ہاتھ پر اور وہ نکلنا چاہتے تھے مسجد کے دروازے سے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں چاہتا ہوں کہ نہ نکلے تو مسجد کے دروازے سے یہاں تک کہ سیکھ لے ایک سورت ایسی کہ نہیں اتری تورات اور انجیل اور قرآن میں مثل اس کے کہا ابی نے پس ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگا میں اسی امید میں پھر کہا میں نے اے اللہ کے رسول وہ سورت جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا تھا بتلائیے مجھ کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکر پڑھتا ہے تو جب شروع کرتا ہے نماز کو کہا ابی نے تو میں پڑھنے لگا الحمد للہ رب العالمین یہاں تک کہ ختم کیا میں نے سورت کو پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ یہی سورت ہے اور یہ سورت سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔