ابی نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ انصاری سے کہتے تھے جس شخص نے ایک رکعت پڑھی اور اس میں سورت فاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز نہ پڑھی مگر جب امام کے پیچھے ہو
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص نے پڑھی نماز اور نہ پڑھی اس میں سورت فاتحہ تو نماز اس کی ناقص ہے ناقص ہے ہرگز تمام نہیں ہے ابوالسائب نے کہا اے ابوہریرہ کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو دبا دیا ابوہریرہ نے میرا بازو اور کہا پڑھ لے اپنے دل میں اے فارس کے رہنے والے کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بٹ گئی نماز میرے اور میرے بندے کے بیچ میں آدھوں آدھ آدھی میری اور آدھی اس کی اور جو بندہ میرا مانگے اس کو دوں گا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھو بندہ کہتا ہے کہ سب تعریف اللہ کو ہے جو صاحب ہے سارے جہاں کا پروردگار کہتا ہے میری تعریف کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے بڑی رحمت کرنے والا مہربان پروردگار کہتا ہے خوبی بیان کی میرے بندے نے بندہ کہتا ہے کہ وہ مالک بدلے کے دن کا پروردگار کہتا ہے بڑائی کی میری میرے بندے نے بندہ کہتا ہے خاص تجھ کو پوجتے ہیں ہم اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں ہم تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے بیچ میں ہے بندہ کہتا ہے دکھا ہم کو سیدھی راہ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے اپنا کرم کیا نہ دشمنوں کی اور گمراہوں کی تو یہ آیتیں بندہ کے لئے ہیں اور میر ابندہ جو مانگے سو دوں ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب کوئی پوچھتا کہ سورت فاتحہ پڑھی جائے امام کے پیچھے تو جواب دیتے کہ جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے امام کے پیچھے تو کافی ہے اس کو قرأت امام کی اور جو اکیلے پڑھے تو پڑھ لے کہا نافع نے اور تھے عبداللہ بن عمر نہیں پڑھتے تھے پیچھے امام کے ۔
حدیث 192 — موطأ مالك 3:25
صحیح
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ " هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا " . فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے ایک نماز جہری سے پھر فرمایا کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ کلام اللہ پڑھا تھا ایک شخص بول اٹھا کہ ہاں میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہی میں کہتا تھا اپنے دل میں کیا ہوا ہے مجھ کو چھینا جاتا ہے مجھ سے کلام اللہ کہا ابن شہاب یا ابوہریرہ نے تب لوگوں نے موقوف کیا قرأت کو حضرت کے پیچھے نماز جہری میں جب سے یہ حدیث سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
حدیث 193 — موطأ مالك 3:26
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ آمِينَ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام کہے آمین تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین مل جائے گی ملائکہ کی آمین سے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے کہا ابن شہاب نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس کا آمین کہنا برابر ہو جائے گا ملائکہ کے کہنے کے بخش دئیے جائیں گے اگلے گناہ اس کے ۔
ابویرہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے فرشتے بھی آسمان میں آمین کہتے ہیں پس اگر برابر ہو جائے ایک آمین دوسری آمین سے تو بخش دئیے جاتے ہیں اگلے گناہ اس کے ۔