وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ .
حضرت ام المومنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی رہتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے اور صبح ہو جاتی تھی رمضان میں پھر روزہ رکھتے تھے ۔
ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں اور میرے باپ عبدالرحمن دونوں بیٹھے مروان بن حکم کے پاس اور مروان ان دنوں میں حاکم تھے مدینہ کے تو ان سے ذکر کیا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص جنبی ہو اور صبح ہو جائے تو اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا قسم دیتا ہوں تم اے عبدالرحمن تم جاؤ ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ کے پاس اور پوچھو ان سے یہ مسئلہ تو گئے عبدالرحمن اور گیا میں ساتھ ان کے یہاں تک کہ پہنچے ہم ام المومنین عائشہ کے پاس تو سلام کیا ان کو عبدالرحمن نے پھر کہا اے ام المومنین ہم بیٹھے تھے مروان بن حکم کے پاس ان سے ذکر ہوا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جس شخص کو صبح ہو جائے اور وہ جنبی ہو تو اس کا روزہ نہ ہوگا فرمایا حضرت عائشہ نے ایسا نہیں ہے جیسا کہا ابوہریرہ نے اے عبدالرحمن کیا تو منہ پھیرتا ہے اس کام سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے کہا عبدالرحمن نے نہیں قسم اللہ کی فرمایا حضرت عائشہ نے میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ان کو صبح ہو جاتی تھی اور وہ جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے پھر روزہ رکھتے اس دن کا ۔ کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم یہاں تک کہ پہنچے ام المومنین سلمہ کے پاس اور پوچھا ہم نے ان سے اس مسئلہ کو انہوں نے بھی یہ کہا جو حضرت عائشہ نے کہا کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم اور آئے مروان بن حکم کے پاس ان سے عبدالرحمن نے بیان کیا قول حضرت عائشہ اور ام سلمہ کا تو کہا مروان نے قسم دیتا ہوں میں تم کو اے ابومحمد تم سوار ہو کر جاؤ میرے جانور پر جو دروازہ پر ہے ابوہریرہ کے پاس کیونکہ وہ اپنی زمین میں ہے عقیق میں اور اطلاع کرو ان کو اس مسئلہ سے تو سوار ہوئے عبدالرحمن اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ آئے ہم ابوہریرہ کے پاس تو ایک ساعت تک باتیں کیں ان سے عبدالرحمن نے پھر بیان کیا ان سے اس مسئلہ کو تو ابوہریرہ نے کہا مجھے علم نہیں تھا اس مسئلہ کا بلکہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔
حدیث 642 — موطأ مالك 18:13
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
ام المومنین عائشہ اور ام المومنین سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے اور صبح ہو جاتی تھی پھر روزہ رکھتے تھے ۔
حدیث 643 — موطأ مالك 18:14
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ لَهُ عَنْ ذَلِكَ فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَرَجَعَتْ فَأَخْبَرَتْ زَوْجَهَا بِذَلِكَ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ . ثُمَّ رَجَعَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ " . فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ أَخْبَرْتِيهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَقَالَتْ قَدْ أَخْبَرْتُهَا فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا فَأَخْبَرَتْهُ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ " .
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بوسہ دیا اپنی عورت کو اور وہ روزہ دار تھا رمضان میں سو اس کو بڑا رنج ہوا اور اس نے اپنی عورت کو بھیجا ام المومنین ام سلمہ کے پاس کہ پوچھے ان سے اس مسئلہ کو تو آئی وہ عورت ام سلمہ کے پاس اور بیان کیا ان سے، ام سلمہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے ہیں روزے میں تب وہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اس کو خبر دی پس اور زیادہ رنج ہوا اس کے خاوند کو اور کہا اس نے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں اللہ اپنے رسول کے لئے جو چاہتا ہے حلال کر دیتا ہے پھر آئی اس کی عورت ام سلمہ کے پاس اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں موجود ہیں سو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہوا اس عورت کو تو بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام سلمہ نے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہ کہہ دیا اس سے کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں ام سلمہ نے کہا میں نے کہہ دیا لیکن وہ گئی اپنے خاوند کے پاس اور اس کو خبر کی سو اس کو اور زیادہ رنج ہوا اور وہ بولا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سے نہیں ہیں حلال کرتا ہے اللہ جل جلہ لہ جو چاہتا ہے اپنے رسول کے لئے غصہ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اللہ کی تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے اور تم سب سے زیادہ پہچانتا ہوں اس کی حدوں کو ۔
حدیث 644 — موطأ مالك 18:15
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ . ثُمَّ ضَحِكَتْ .
حضرت ام المومنین عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیتے تھے اپنی بعض بیبیوں کو اور وہ رورزہ دار ہوتے تھے پھر ہنستی تھیں ۔
عائشہ بن طلحة سے روایت ہے کہ وہ ام المومنین عائشہ کے پاس بیٹھی تھیں اتنے میں ان کے خاوند عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق آئے اور وہ روزہ دار تھے تو کہا ان سے حضرت عائشہ نے تم کیوں نہیں جاتے اپنی بی بی کے پاس بوسہ لو ان کا اور کھیلو ان سے تو کہا عبداللہ نے بوسہ لوں میں ان کا اور میں روزہ دار ہوں حضرت عائشہ نے کہا ہاں ۔
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوہریرہ اور سعد بن ابی وقاص روزہ دار کو اجازت دیتے تھے بوسہ کی ۔
حدیث 648 — موطأ مالك 18:19
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ تَقُولُ وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِنَفْسِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
امام مالک کو پہنچا کہ ام المومنین جب بیان کرتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے روزہ میں تو فرماتیں کہ تم میں سے کون زیادہ قادر ہے اپنے نفس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔