قرآني·Qurani
اردو

الصيام

60 احادیث · #630–689

حدیث 650 — موطأ مالك 18:21
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَةِ، لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِيهَا لِلشَّيْخِ وَكَرِهَهَا لِلشَّابِّ ‏.‏
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا روزہ دار کو بوسہ لینا کیسا ہے تو اجازت دی بوڑھے کو اور مکروہ رکھا جوان کے لئے ۔
حدیث 651 — موطأ مالك 18:22
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَنْهَى عَنِ الْقُبْلَةِ، وَالْمُبَاشَرَةِ، لِلصَّائِمِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر منع کرتے تھے روزہ دار کو بوسہ اور مباشرت سے ۔
حدیث 652 — موطأ مالك 18:23
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالأَحْدَثِ فَالأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کو جس سال مکہ فتح ہوا رمضان میں تو روزہ رکھا یہاں تک کہ پہنچے کدید کو پھر افطار کیا تو لوگوں نے بھی افطار کیا اور صحابہ کا یہ قاعدہ تھا کہ نئے کام کو لیتے تھے پھر لیا اس نئے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں
حدیث 653 — موطأ مالك 18:24
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ ‏ "‏ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ - قَالَ - فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ ‏.‏
بعض صحابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا لوگوں کو سفر میں جس سال مکہ فتح ہوا ہے روزہ نہ رکھنے کا فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکہ تم قوی رہو دشمن کے مقابلہ میں اور روزہ رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا اس صحابی نے جس نے حدیث بیان کی مجھ سے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرج میں کہ پانی ڈالا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے پھر کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے سبب سے تو جب پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدید میں ایک پیالہ پانی کا منگا یا اور پانی پیا تب لوگوں نے بھی روزہ کھول ڈالا ۔
حدیث 654 — موطأ مالك 18:25
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ہم نے سفر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں تو نہ عیب کیا روزہ دار نے روزہ کھولنے والے پر اور نہ بے روزہ دار نے روزہ دار پر ۔
حدیث 655 — موطأ مالك 18:26
صحیح
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں روزہ رکھا کرتا ہوں تو کیا روزہ رکھو سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا جی چاہے تو روزہ رکھ چاہے نہ رکھ ۔
حدیث 656 — موطأ مالك 18:27
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر روزہ نہیں رکھتے تھے سفر میں۔
حدیث 657 — موطأ مالك 18:28
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ وَنُسَافِرُ مَعَهُ فَيَصُومُ عُرْوَةُ وَنُفْطِرُ نَحْنُ فَلاَ يَأْمُرُنَا بِالصِّيَامِ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زیبر سفر کرتے تھے رمضان میں اور ہم سفر کرتے تھے ساتھ ان کے تو روزہ رکھتے تھے اور ہم نہ رکھتے تھے سو ہم کو حکم نہیں کرتے تھے روزہ رکھنے کا ۔
حدیث 658 — موطأ مالك 18:29
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ الْمَدِينَةَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ مَنْ كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ وَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي رَمَضَانَ فَطَلَعَ لَهُ الْفَجْرُ وَهُوَ بِأَرْضِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ فَإِنَّهُ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ مِنْ سَفَرِهِ وَهُوَ مُفْطِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُفْطِرَةٌ حِينَ طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا فِي رَمَضَانَ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا إِنْ شَاءَ ‏.‏
امام مالک سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب رمضان میں سفر میں ہوتے پھر ان کو معلوم ہوتا کہ آج کے روز شہر میں داخل ہوں گے دوپہر سے اول تو روزہ رکھ کر داخل ہوتے
حدیث 659 — موطأ مالك 18:30
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏.‏ فَقَالَ لاَ أَجِدُ ‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقِ تَمْرٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كُلْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ ڈالا رمضان میں تو حکم کیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بردہ آزاد کرنے کا یا دو مہینہ روزے رکھنے کا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا سو اس نے کہا مجھ سے یہ کوئی کام نہیں ہو سکتا اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیا اور کہا کہ اس کو صدقہ کر دے وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں کھل گئیں پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہی کھا لے اس کو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔