قرآني·Qurani
اردو

الصيام

60 احادیث · #630–689

حدیث 660 — موطأ مالك 18:31
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْرِبُ نَحْرَهُ وَيَنْتِفُ شَعْرَهُ وَيَقُولُ هَلَكَ الأَبْعَدُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي وَأَنَا صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلْهُ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَطَاءٌ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا سینہ کوٹتا ہوا اور بال نوچتا ہوا اور کہتا تھا ہلاک ہوا وہ شخص جو دور ہے نیکیوں سے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہوا بولا میں نے صحبت کی اپنی بی بی سے رمضان کے روزہ میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک بردہ آزاد کر سکتا ہے بولا نہیں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ یا گائے ہدی کر سکتا ہے بولا نہیں اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو لے اور صدقہ کر وہ بولا مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھالے اس کو اور ایک روزہ رکھ لے اس دن کے بدلے میں جس دن تو نے یہ کام کیا ہے ۔
حدیث 661 — موطأ مالك 18:32
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ - قَالَ - ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا صَامَ لَمْ يَحْتَجِمْ حَتَّى يُفْطِرَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر اس کو چھوڑ دیا پھر جب روزہ دار ہوتے پچھنے نہ لگواتے یہاں تک کہ روزہ افطار کر تے ۔
حدیث 662 — موطأ مالك 18:33
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَا يَحْتَجِمَانِ وَهُمَا صَائِمَانِ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر پچھنے لگواتے تھے روزے میں
حدیث 663 — موطأ مالك 18:34
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لاَ يُفْطِرُ ‏.‏ قَالَ وَمَا رَأَيْتُهُ احْتَجَمَ قَطُّ إِلاَّ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ تُكْرَهُ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ إِلاَّ خَشْيَةً مِنْ أَنْ يَضْعُفَ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَمْ تُكْرَهْ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ سَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَمْ آمُرْهُ بِالْقَضَاءِ لِذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي احْتَجَمَ فِيهِ لأَنَّ الْحِجَامَةَ إِنَّمَا تُكْرَهُ لِلصَّائِمِ لِمَوْضِعِ التَّغْرِيرِ بِالصِّيَامِ فَمَنِ احْتَجَمَ وَسَلِمَ مِنْ أَنْ يُفْطِرَ حَتَّى يُمْسِيَ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ ‏.‏
عروہ بن زبیر پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر افطار نہیں کر تے تھے کہا ہشام نے میں نے کبھی نہیں دیکھا عروہ کو پچھنے لگاتے ہوئے مگر وہ روزہ سے ہوتے تھے ۔
حدیث 664 — موطأ مالك 18:35
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا عاشورہ کے دن لوگ روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے زمانہ جاہلیت میں پھر جب آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تو روزہ رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اور لوگوں کو بھی حکم کیا اس دن روزہ رکھنے کا پھر جب فرض ہوا رمضان تو رمضان ہی کے روزے فرض رہ گئے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا سو جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔
حدیث 665 — موطأ مالك 18:36
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ ‏ "‏ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے انہوں نے سنا معاویہ بن ابی سفیان سے کہتے تھے جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے اے اہل مدینہ کہاں ہیں علماء تمہارے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے اس دن کو یہ دن عاشورہ کا ہے اس دن روزہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور میں روزہ دار ہوں سو جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہلا بھیجا حارث بن ہشام کو کہ کل عاشورے کا روزہ ہے تو روزہ رکھ اور حکم کر اپنے گھر والوں کو وہ روزہ رکھیں۔
حدیث 666 — موطأ مالك 18:37
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرْسَلَ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ غَدًا، يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُمْ وَأْمُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَصُومُوا ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرْسَلَ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ غَدًا، يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُمْ وَأْمُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَصُومُوا ‏.‏
حدیث 667 — موطأ مالك 18:38
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن روزے رکھنے سے ایک یوم الفطر دوسرے یوم الاضحی میں ۔
حدیث 668 — موطأ مالك 18:39
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ لاَ بَأْسَ بِصِيَامِ الدَّهْرِ إِذَا أَفْطَرَ الأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهَا وَهِيَ أَيَّامُ مِنًى وَيَوْمُ الأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِيمَا بَلَغَنَا ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ لاَ بَأْسَ بِصِيَامِ الدَّهْرِ إِذَا أَفْطَرَ الأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهَا وَهِيَ أَيَّامُ مِنًى وَيَوْمُ الأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ فِيمَا بَلَغَنَا ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
حدیث 669 — موطأ مالك 18:40
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سے ورایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے ہیں فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں کھلایا جاتا ہوں پلایا جاتا ہوں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔