ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق سے تو نے اللہ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ۔، ایک شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں ابن مسعود نے کہا لوگوں نے تجھ سے کیا کہا وہ بولا مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی ابن مسعود نے کہا سچ ہے جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کر دی اور جو گڑبڑ کرے گا اس کی بلا اس کے سر لگا دیں گے گڑبڑ مت کرو تاکہ ہم کو مصیبت نہ اٹھانا پڑے وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی ۔
ابو بکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں ابوبکر نے کہا ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔
حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا ۔ ابن شہاب کہتے تھے اگر مرد عورت سے کہے میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے ۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے تو خلیہ ہے یا بریہ ہے یا بائنہ ہے تو اگر اس عورت سے صحبت کر چکا ہے تین طلاق پڑیں گی اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی اگر اس نے کہا میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہو جائے گی اب رجعت نہیں کر سکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کر سکتا ہے کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہو جاتی ہے جس سے صحبت کر چکا اور وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے ۔ کہا مالک نے یہ روایت مجھے بہت پسند ہے ۔
امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے اپنے آپ کو تین طلاق دے لی اب کیا کہتے ہو ابن عمر نے کہا کہ طلاق پڑ گئی وہ شخص بولا ایسا تو مت کرو ابن عمرو نے کہا میں نے کیا کیا تو نے اپنے آپ کیا۔