مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ وہ گئے حضرت عمر کے پاس اس رات کو جس میں وہ زخمی ہوئے تھے تو جگائے گئے حضرت عمر نماز صبح کے واسطے پس فرمایا کہ ہاں اور اچھا نہیں حصہ اس شخص کا اسلام میں جو ترک کرے نماز کو تو نماز پڑھی حضرت عمر نے اور زخم سے ان کے خوں بہتا تھا۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ جس شخص کا خون نکسیر پھوٹنے سے جاری رہے اور خون بند نہ ہو تو اس کے حق میں تم کیا کہتے ہو یحیی بن سعید نے پھر کہا سعید بن مسیب نے کہ میرے نزدیک نماز اشارہ سے پڑھ لے ۔
حدیث 84 — موطأ مالك 2:53
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ، لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْىُ مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ عَلِيٌّ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ . قَالَ الْمِقْدَادُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ " .
مقداد بن الاسود کو حکم کیا حضرت علی نے کہ پوچھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی مرد نزدیکی کرے اپنی عورت سے اور نکل آئے مذی تو کیا لازم ہوتا ہے اس شخص پر؟ کہا علی نے کہ آنحضرت کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں اس سبب سے مجھے پوچھنے میں شرم آتی ہے تو پوچھا مقداد نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو دھو ڈالو ذکر کو پانی سے اور وضو کرے جیسے وضو ہوتا ہے نماز کے لئے ۔
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے کہا مذی اس طرح گرتی ہے مجھ سے جیسے بلور کا دانہ تو جب ایسا اتفاق ہو تم میں کسی کو تو دھو ڈالے اپنے ذکر کو اور وضو کرے جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لئے ۔
جندب سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے عبداللہ بن عمر سے مذی کا حکم تو کہا انہوں نے جب دیکھے تو مذی کو دھو ڈال ذکر کو اپنے اور وضو کر جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لئے ۔
یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب سے پوچھا ایک شخص نے اور میں سنتا تھا کہ مجھے تری معلوم ہوتی ہے نماز میں کیا توڑ دوں میں نماز کو تو کہا سعید نے کہ اگر بہہ آئے میری ران تک تو نہ توڑوں میں نماز کو یہاں تک کہ تمام کروں نماز کو۔
صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سلیمان بن یسار سے کہ تری پاتا ہوں میں۔ کہا پانی چھڑک لے اپنے تہبند یا ازار پر اور غافل ہو جا اس سے یعنی اس کا خیال مت کر اور بھلادے اس کو۔
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا عروہ بن زبیر سے کہ میں گیا مروان بن الحکم کے پاس اور ذکر کیا ہم نے ان چیزوں کا جن سے وضو لازم آتا ہے عروہ نے کہا میں اس کو نہیں جانتا مروان نے کہا مجھے خبر دی بسرہ بنت صفوان نے اس نے سنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جب چھوئے تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو تو وضو کرے ۔
مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ میں کلام اللہ لئے رہتا تھا اور سعد بن ابی وقاص پڑھتے تھے ایک روز میں نے کھجایا تو سعد نے کہا کہ شاید تو نے اپنے ذکر کو چھوا میں نے کہا ہاں تو سعد نے کہا اٹھ وضو کو سو میں کھڑا ہوا اور وضو کیا پھر آیا۔