سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا اپنے باپ عبداللہ بن عمر کو غسل کر کے پھر وضو کرتے ہیں تو پوچھا میں نے اے باپ میرے کیا غسل کافی نہیں ہے وضو سے کہا ہاں کافی ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعد غسل کے چھو لیتا ہوں ذکر اپنا تو وضو کرتا ہوں ۔
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سفر میں ساتھ تھا عبداللہ بن عمر کے تو دیکھا میں نے جب آفتاب نکلا تو وضو کیا انہوں نے اور نماز پڑھی میں نے کہا کہ آج آپ نے ایسی نماز پڑھی جس کو آپ نہ پڑھتے تھے کہا عبداللہ بن عمر نے کہ آج میں نے وضو کر کے اپنے ذکر کو چھو لیا تھا پھر وضو کرنا بھول گیا اور نماز صبح کی میں نے پڑھ لی اس لئے میں نے اب وضو کیا اور نماز کو دوبارہ پڑھ لیا۔
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ بوسہ لینا مرد کا اپنی عورت کو اور چھونا اس کا ہاتھ سے ملامست میں داخل ہے تو جو شخص بوسہ لے اپنی عورت کا یا چھوئے اس کو اپنے ہاتھ سے تو اس پر وضو ہے ۔ مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہتے تھے بوسہ سے مرد کے اپنی عورت کو وضو لازم آتا ہے ۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ آنحضرت جب غسل کرتے جنابت سے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو کرتے جیسے وضو ہوتا ہے نماز کے لئے پھر انگلیاں اپنی پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا انگلیوں سے خلال کرتے پھر اپنے سر پر تین چلو دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالتے پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے ۔
حدیث 99 — موطأ مالك 2:68
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ - هُوَ الْفَرَقُ - مِنَ الْجَنَابَةِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے اس برتن میں جس میں تین صاع پانی آتا تھا جنابت سے۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب غسل جنابت شروع کرتے تو پہلے اپنا داہنا ہاتھ پانی ڈال کر دھوتے پھر اپنی شرمگاہ دھوتے پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے پھر منہ دھوتے اور آنکھوں کے اندر پانی مارتے پھر داہنا ہاتھ دھوتے پھر بایاں ہاتھ دھوتے پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کرتے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عائشہ ام المومنین سے پوچھا گیا کس طرح غسل کرے عورت جنابت سے کہا کہ ڈالے اپنے سر پر تین چلو دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر اور ملے اپنے سر کر دونوں ہاتھوں سے ۔