حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عائشہ کا قول یہی تھا کہ جب مس کرے ختنہ ختنہ سے یعنی سر ذکر عورت کی قبل میں غائب ہو جائے تو واجب ہوا غسل ۔
ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں نے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے تو کہا حضرت عائشہ نے کہ تو جانتا ہے اپنی صفت کو اے ابوسلمہ صفت تیری مثل چوزہ مرغ کے ہے جب مرغ کو بانگ کرتے سنتا ہے تو آپ بھی بانگ کرنے لگتا ہے جب تجاوز کرے ختنہ ختنے سے تو واجب ہوا غسل ۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری آئے حضرت عائشہ کے پاس اور کہا ان سے کہ بہت سخت گزرا مجھ کو اختلاف صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مسئلے میں شرماتا ہوں کہ ذکر کروں اس کو تمہارے سامنے تو فرمایا عائشہ نے کہ کیا ہے وہ مسئلہ جو تو اپنی ماں سے پوچھ لے مجھ سے کہا ابوموسیٰ نے کوئی جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے اس نے کہا کہ جب تجاوز کر جائے ختنہ ختنے سے واجب ہوا غسل کہا ابوموسیٰ نے کہ اب نہ پوچھوں گا اس مسئلے کو کسی سے بعد تمہارے ۔
محمود بن لبید انصاری نے پوچھا زید بن ثابت انصاری سے کہا ایک شخص جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو کہا زید نے غسل کرے کہا محمود نے کہ ابی بن کعب اس صورت میں غسل کو واجب نہیں جانتے تھے کہا زید نے کہ ابی بن کعب قبل موت کے پھر گئے اس قول سے ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ذکر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اسے رات کو نہانے کی حاجت ہوتی ہے تو فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرلے اور دھولے ذکر اپنے کو پھر سو جائے۔
حدیث 108 — موطأ مالك 2:77
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ إِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلاَ يَنَمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں جب کوئی تم میں سے جماع کرے اپنی عورت سے پھر سونا چاہے قبل غسل کرے تو یہ سوئے یہاں تک کہ وضو کر لے جیسے کہ وضو ہوتا ہے نماز کے لئے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب سو رہنے یا کھانے کا ارادہ رکھتے حالت جنابت میں منہ دھوتے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور سر پر مسح کرتے پھر کھانا کھاتے یا سو رہتے ۔
حدیث 110 — موطأ مالك 2:79
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ فِي صَلاَةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ امْكُثُوا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ .
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی کسی نماز میں نمازوں میں سے پھر اشارہ کیا مقتدیوں کو اپنے ہاتھ سے اس بات کا کہ اپنی جائے پر جمے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے گھر میں بعد اس کے لوٹ کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر پانی کے نشان تھے ۔
زیبد بن صلت سے روایت ہے کہ نکلا میں ساتھ عمر بن خطاب کے جرف تک تو دیکھا عمر نے اپنے کپڑے کو اور پایا نشان احتلام کا اور نماز پڑھ چکے تھے بغیر غسل کے تب کہا قسم اللہ کی نہیں دیکھتا ہوں میں اپنے کو مگر مجھے احتلام ہوا اور خبر نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا کہا زبید نے پس غسل کیا حضرت عمر نے اور دھویا جو نشان دکھائی دیا کپڑے میں اور جو نہ دکھائی دیا اس پر پانی چھڑک دیا اور اذان کہی یا اقامت کہی پھر نماز پڑھی جب آفتاب بلند ہو گیا اطمینان سے ۔