سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب صبح کو گئے اپنی زمین میں جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا پھر کہا میں مبتلا ہو گیا احتلام میں جب سے خلیفہ ہوا پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے صبح کی نماز پڑھائی لوگوں کو پھر گئے اپنی زمین کی طرف جو جرف میں تھی پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا تو کہا کہ جب سے ہم کھانے لگے چربی نرم ہوگئیں رگیں پھر غسل کیا اور دھویا احتلام کے نشان کو اپنے کپڑے سے اور لوٹا یا نماز کو۔
یحیی بن عبداللہ بن حاطب سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کیا ساتھ عمر بن خطاب سے کئی شتر سواروں میں ان میں عمرو بن عاص بھی تھے اور عمر بن خطاب رات کو اترے قریب پانی کے تو احتلام ہوا حضرت عمر کو اور صبح قریب تھی اور قافلہ میں پانی نہ تھا تو سوار ہو کے حضرت عمر یہاں تک کہ آئے پانی کے پاس اور دھونے لگے کپڑے اپنے یہاں تک کہ روشنی ہوگئی اور عمر بن عاص نے کہا حضرت عمر سے صبح ہوگئی ہمارے پاس کپڑے ہیں اپنا کپڑا چھوڑ دیجئے دھو ڈالا جائے گا اور ہمارے کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیجئے تو کہا عمر بن خطاب نے کہ تعجب ہے اے عمرو بن عاص کیا تمہارے پاس کپڑے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ سب آدمیوں کے پاس کپڑے ہوں گے قسم اللہ کی اگر میں ایسا کروں تو یہ امر سنت ہو جائے بلکہ دھو ڈالتا ہوں میں یہاں نجاست معلوم ہوتی ہے اور پانی چھڑک دیتا ہوں جہاں نہیں معلوم ہوتی ۔
حدیث 115 — موطأ مالك 2:84
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَرْأَةُ تَرَى فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ أَتَغْتَسِلُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ " . فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ أُفٍّ لَكِ وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَرِبَتْ يَمِينُكِ وَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت دیکھے خواب میں جیسا کہ مرد دیکھتا ہے کیا غسل کرے تو کہا عائشہ نے ام سلیم کو نوج نگوڑی کیا عورت بھی دیکھتی ہے خواب میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاک آلود ہو داہنا ہاتھ تیرا اور کہاں سے ہوتی ہے مشابہت۔
حدیث 116 — موطأ مالك 2:85
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ فَقَالَ " نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " .
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ام سلیم آئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں شرماتا اللہ سچ سے کیا عورت پر بھی غسل ہے جو اس کو احتلام ہو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں جب کہ دیکھے پانی کو ۔
ابن عمر کی لونڈیاں ان کے پاؤں دھوتی تھیں اور ان کو جائے نماز اٹھا کر دیتی تھیں حالت حیض میں ۔
حدیث 120 — موطأ مالك 2:89
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا . فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
عائشہ سے روایت ہے کہ ہم نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں تو جب پہنچے ہم بیدا یا ذات الجیش کو گلوبند میرا ٹوٹ کر گر پڑا تو ٹھہر گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لئے اور لوگ بھی ٹھہر گئے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور وہاں پانی نہ تھا اور نہ ساتھ لوگوں کے پانی تھا تب لوگ آئے ابوبکر صدیق کے پاس اور کہا کہ دیکھا تم نے کیا عائشہ نے ٹھہرا دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو اور نہ یہاں پانی ہے نہ ہمارے ساتھ پانی ہے تو ابوبکر آئے میرے پاس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے تو کہا ابوبکر نے روک دیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو اور نہ پانی ملتا ہے نہ ان کے پاس پانی ہے کہا عائشہ نے غصہ ہوئے میرے اوپر ابوبکر اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مارنے لگے تو میں ہل جاتی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں نہ ہل سکتی تھی پس سوتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ صبح ہوئی اور پانی نہ تھا تو اتاری اللہ جل جلالہ نے آیت تیمم کی تب کہا اسی دن اسید بن الحضیر نے کہا اے ابوبکر کے گھر والوں یہ کچھ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے یعنی تم سے ہمیشہ ایسی ہی برکتیں اور راحتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہیں کہا عائشہ نے جب ہم چلنے لگے تو وہ گلو بن اس اونٹ کے نیچے سے نکلا جس پر ہم سوار تھے ۔
نافع کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر جرف سے آئے تو جب پہنچے مربد کو اترے عبداللہ اور متوجہ ہوئے پاک زمین کی طرف تو مسح کیا اپنے منہ کا اور ہاتھوں کا کہنیوں تک پھر نماز پڑھی ۔