قرآني·Qurani
اردو

العتق والولاء

25 احادیث · #1464–1488

حدیث 1474 — موطأ مالك 38:11
Maqtu Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ، هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ فَقَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لاَ يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا لأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ لأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ أَنْ يُعْتَقَ فِيهَا نَصْرَانِيٌّ وَلاَ يَهُودِيٌّ وَلاَ يُعْتَقُ فِيهَا مُكَاتَبٌ وَلاَ مُدَبَّرٌ وَلاَ أُمُّ وَلَدٍ وَلاَ مُعْتَقٌ إِلَى سِنِينَ وَلاَ أَعْمَى وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ النَّصْرَانِيُّ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ تَطَوُّعًا لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً‏}‏ فَالْمَنُّ الْعَتَاقَةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الرِّقَابُ الْوَاجِبَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لاَ يُعْتَقُ فِيهَا إِلاَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ فِي إِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ فِي الْكَفَّارَاتِ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُطْعَمَ فِيهَا إِلاَّ الْمُسْلِمُونَ وَلاَ يُطْعَمُ فِيهَا أَحَدٌ عَلَى غَيْرِ دِينِ الإِسْلاَمِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجبہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے کہا نہیں ۔ کہا مالک نے جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لئے اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع (بچنے والا) رعایت کرکے اس کی قیمت کم کردے گا اس صورت میں وہ پورارقبہ نہ ہوگا۔
حدیث 1475 — موطأ مالك 38:12
ضعیف
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أُمَّهُ، أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَكَتْ وَقَدْ كَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا پھر صبح تک دیر کی رات کو مر گئیں اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا عبدالرحمن نے کہا میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا قاسم نے کہا سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دں کیا اس کو فائدہ ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہان ۔
حدیث 1476 — موطأ مالك 38:13
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رِقَابًا كَثِيرَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
یحییٰ بن سعید نے کہا عبدالرحمن بن ابوبکرسوتے سوتے مر گئے حضرت عائشہ نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے ۔
حدیث 1477 — موطأ مالك 38:14
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الرِّقَابِ أَيُّهَا أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَغْلاَهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کون سا بررہ آزاد کرنا افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قیمت بھاری ہو اور اس کے مالکون کر بہت مرغوب ہو۔
حدیث 1478 — موطأ مالك 38:15
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنًا وَأُمَّهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے ولد الزنا کو اور اس کی ماں کو آزاد کیا ۔
حدیث 1479 — موطأ مالك 38:16
صحیح
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوْقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَنْكِ عَدَدْتُهَا وَيَكُونَ لِي وَلاَؤُكِ فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَتْ لِعَائِشَةَ إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَىَّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْوَلاَءُ لَهُمْ ‏.‏ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاَءَ فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ کے پاس بریرہ آئی اور کہا کہ مجھ کو میرے لوگوں نے مکاتب کیا ہے نو اوقیہ پر ہر سال میں ایک اوقیہ تو میری مدد کرو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو تو میں ایک دفعہ میں سب سے دیتی ہوں مگر تیری ولا میں لوں گی بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی ان سے بیان کیا انہوں نے ولا دینے سے انکار کیا پھر بریرہ لوٹ کر آئی حضرت عائشہ کے پاس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور کہا میں نے اپنے لوگوں سے بیان کیا وہ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ولا ہم لیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر پوچھا کیا حال ہے حضرت عائشہ نے سارا قصہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بریرہ کو لے لو اور ولا کی شرط انہیں لوگوں کے واسطے کر دو کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے حضرت عائشہ نے ایسا ہی کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گئے اور کھڑے ہو کر اللہ جل جلالہ کی تعریف کی پھر فرمایا کیا حال ہے لوگوں کا ایسی شرطین لگاتے ہیں جو اللہ کی کربا میں نہیں ہیں جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے گو سو بار لگائی جائے اللہ کا حکم سچا اور اس کی شرط مضبوط ہے ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے ۔
حدیث 1480 — موطأ مالك 38:17
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاَءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْنَعَنَّكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنا چاہا اس کے لوگوں نے کہا ہم اس شرط سے پیچتے ہیں کہ ولا ہم کو ملے حضرت عائشہ نے یہ امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیر کچھ حرج نہیں ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کرے ۔
حدیث 1481 — موطأ مالك 38:18
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ بریرہ آئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مدد مانگنے کو حضرت عائشہ نے کہا اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو کہ میں یک مشت ان کو تیری قیمت ادا کردوں اور تجھ کو آزاد کر دوں تو میں راضی ہوں بریرہ نے یہ اپنے لوگوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ہم نہیں بیچیں گے مگر اس شرط سے کہ ولا ہم کو ملے ۔ عمرہ نے کہا کہ پھر حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو خرید کر آزاد کر دے کیونکہ ولا اسی کو ملے گی جو آزاد کر دے گا۔
حدیث 1482 — موطأ مالك #1482
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اولاد کی بیع یا ہبہ سے ۔ کہا مالک نے جو غلام اپنے تئیں مولیٰ سے مول لے لے اس شرط سے کہ میری ولاء جس کو میں چاہوں گا اس کو ملے گی تو یہ جائز نہیں کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے اور اگر مولیٰ نے غلام کو اجازت دے دی کہ جس سے جی چاہے موالات کا عقد کرلے تو بھی جائز نہ ہوگا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کو ملے گی جو ازاد کرے اور منع کیا آپ نے ولاء کی بیع اور ہبہ سے پس اگر مولیٰ کو یہ امر جائز ہو کہ غلام سے ولاکی شرط کرلے یا اجازت دے جس کو وہ چاہے ولاء ملے اس صورت میں ولاء کا ہبہ ہوجائے گا۔
حدیث 1483 — موطأ مالك 38:20
Mauquf Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏.‏ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، اشْتَرَى عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَلِذَلِكَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ ‏.‏ وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ بَلْ هُمْ مَوَالِينَا ‏.‏ فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلاَئِهِمْ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏.‏ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، اشْتَرَى عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَلِذَلِكَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ ‏.‏ وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ بَلْ هُمْ مَوَالِينَا ‏.‏ فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلاَئِهِمْ ‏.‏
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔