وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ قَالَ وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلاً أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ - قَالَ - فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلاَ جِلْدَ عَذْرَاءَ . قَالَ فَوُعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْكُهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلاً وُعِكَ وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلاَمَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَلاَّ بَرَّكْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ " . فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اس کے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گر پڑے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم اللہ کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے ۔
حدیث 1713 — موطأ مالك 50:3
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنَىْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا " مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ " . فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلاَّ أَنَّا لاَ نَدْرِي مَا يُوَافِقُكَ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَىْءٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
حدیث 1714 — موطأ مالك 50:4
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْكِي فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ - قَالَ عُرْوَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے ۔
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسے خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے بعد اس کے، فرماتا ہے اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلالوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
حدیث 1716 — موطأ مالك 50:6
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةُ إِلاَّ قُصَّ بِهَا أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " . لاَ يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ نے کہ مومن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یزید نے کہا مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے قص اور کفر میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصبتیں ڈالتا ہے ۔
حدیث 1718 — موطأ مالك 50:8
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلاَهُ بِمَرَضٍ يُكَفِّرُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مر گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص بولا واہ کیا اچھی موت ہوئی نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بھلا یہ کیا کہتا ہے تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر جل جلالہ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
عثمان بن ابی عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ان کے ایسا درد ہوتا تھا جس سے قریب ہلاکت کے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا داہنا ہاتھ اپنے درد کے مقام پر سات بار پھیر اور کہہ " اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد " عثمان کہتے ہیں میں نے یہی کہا اللہ نے میرا درد دور کر دیا پھر میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دیا کرتا ۔
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو قل ہو اللہ احدا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داہنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک پر پھیرتی برکت کے واسطے