قرآني·Qurani
اردو

القرآن

50 احادیث · #470–519

حدیث 490 — موطأ مالك 15:21
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کہا سبحان اللہ وبحمدہ ایک دن میں سو بار مٹائے جائیں گے گناہ اس کے اگرچہ ہوں مثل سمندر کے پھین کے ۔
حدیث 491 — موطأ مالك 15:22
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَبَّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَخَتَمَ الْمِائَةَ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ نے کہا جو شخص ہر نماز کے بعد سبحان اللہ کہے تینتیس بار اور اللہ اکبر کہے تینتیس بار اور الحمد للہ کہے تینتیس بار اور ختم کرے سو کے عددلا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل چیز قدیر ۔ پس بخش دیئے جائیں گے گناہ اس کے اگرچہ ہوں مثل سمندر کی جھاگ کے ۔
حدیث 492 — موطأ مالك 15:23
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ إِنَّهَا قَوْلُ الْعَبْدِ اللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا باقیات صالحات یہ کلمے ہیں اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ لا الہ الا اللہ ولاحول ولا قوة الا باللہ ۔
حدیث 493 — موطأ مالك 15:24
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ، أَعْمَالِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى ‏.‏ قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏.‏
ابو الدردا نے کہا کیا تم کو نہ بتاؤں وہ کام جو تمہارے سب کاموں سے بہتر ہے تمہارے لئے اور درجہ میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمہارے مالک کے نزدیک سب کاموں سے زیادہ عمدہ ہے اور بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے اور بہتر ہے اس سے کہ تم اپنے دشمن سے لڑ کر اس کی گردن مارو اور وہ تمہاری گردن مارے کہا صحابہ نے ہاں بتاؤ کہا انہوں نے ذکر اللہ سبحانہ کا ۔ معاذ بن جبل نے کہا آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو زیادہ نجات دینے والا ہو اس کو اللہ کے عذاب سے سوا ذکر الٰہی کے ۔
حدیث 494 — موطأ مالك 15:25
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهُنَّ أَوَّلاً ‏"‏ ‏.‏
رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تو جب سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے اور کہا سمع اللہ لمن حمدہ ایک شخص بولا ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پس جب فارغ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فرمایا کون شخص بولا تھا ابھی اس شخص نے کہا میں تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے دیکھا کہ تیس سے زیادہ کچھ فرشتے جلدی کر رہے تھے کہ کون پہلے لکھے اس کو ۔
حدیث 495 — موطأ مالك 15:26
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نبی کے لئے ایک دعا مقرر ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دعا کو اٹھا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے واسطے دن آخرت کے۔
حدیث 496 — موطأ مالك 15:27
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ فَالِقَ الإِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَقُوَّتِي فِي سَبِيلِكَ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے پس فرماتے تھے اے اللہ پیدا کرنے والے صبح کو اور رات کو راحت بنانے والے اور سورج اور چاند کے حساب سے چلانے والے ادا کر تو قرض میرا اور غنی کر مجھ کو محتاجی سے اور فائدہ دے مجھ کو میرے کان اور آنکھ سے اور میری قوت سے اپنی راہ میں ۔
حدیث 497 — موطأ مالك 15:28
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَعَا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے یا اللہ بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو اور رحم کر ہم پر اگر چاہے تو بلکہ یوں کہے بخش دے مجھ کو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے ۔
حدیث 498 — موطأ مالك 15:29
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا قبول ہوتی ہے جب تک دعا مانگنے والا جلدی نہ کرے اور یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی سو دعا میری قبول نہ ہوئی ۔
حدیث 499 — موطأ مالك 15:30
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمان دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے سو فرماتا ہے کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔