حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا " . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ .
عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آفتاب نکلتا ہے تو شیطان اس کے نزدیک ہوتا ہے اور جب بلند ہو جاتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے پھر جب سر پر آجاتا ہے نزدیک ہو جاتا ہے پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے پھر جب ڈوبنے لگتا ہے تو نزدیک ہو جاتا ہے پھر جب ڈوب جاتا ہے الگ ہو جاتا ہے اور منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساعتوں میں نماز پڑھنے سے ۔
حدیث 514 — موطأ مالك 15:45
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کنارہ آفتاب کا نکلے تو نماز میں تو قف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب نکل آئے اور جب کنارہ آفتاب کا ڈوب جائے تو توقف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے ۔
علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ہم گئے انس بن مالک کے پاس بعد ظہر کے تو کھڑے ہوئے وہ نماز عصر کے واسطے پس جب فارغ ہوئے نماز سے بیان کیا ہم نے یا انہوں نے نماز جلد پڑھنے کا حال تو کہا انس نے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھے رہتا ہیں جب آفتاب زرد ہو جاتا ہے یا اس کے اوپر ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے لگا لیتا ہے اس میں، نہیں یاد کرتا اللہ کو مگر تھوڑا ۔
حدیث 516 — موطأ مالك 15:47
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلاَ عِنْدَ غُرُوبِهَا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے قصد کر کے نماز نہ پڑھے آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت ۔
حدیث 517 — موطأ مالك 15:48
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نماز سے بعد عصر کے یہاں تک کہ ڈوب جائے آفتاب اور بعد صبح کے یہاں تک کہ نکل آئے آفتاب ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب فرماتے تھے قصد نہ کرو نماز کا آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت کیونکہ شیطان کے دو جانب سر کے ساتھ نکلتے ہیں آفتاب کے اور ساتھ ہی ڈوبتے ہیں اور عمر مارتے تھے لوگوں کو اس وقت نماز پڑھنے پر ۔