وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ جل جلالہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا کپڑا لٹکائے غرور اور گھمنڈ کے طور پر ۔
عبدالرحمن بن یعقوب سے روایت ہے کہ کہتے ہیں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ازار کا حال انہوں نے کہا مجھے علم ہے میں بتاتا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ مومن کی ازار پنڈلیوں تک ہوتی ہے خیر ٹخنوں تک بھی رکھے تو کچھ قباحت نہیں ہے اس سے نیچے جہنم میں جانے کی بات ہے اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنی ازار لٹکائے غرو اور گھمنڈ کے طور پر ۔
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازار لٹکانے کا ذکر کی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورت کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک بالشت ازار نیچے رکھے ام سلمہ نے کہا اتنی تو کھل جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک ہاتھ نیچے رکھے اس سے زیادہ نہیں ۔
حدیث 1665 — موطأ مالك 48:15
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعَلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ چلے تم میں کوئی ایک جوتی پہن کر چاہئے کہ دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے ۔
حدیث 1666 — موطأ مالك 48:16
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب جوتا پہنے کوئی تم میں سے چاہے کہ داہنے پیر میں اول پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے تو داہنا پیر پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں رہے ۔
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری کعب الاحبار نے کہا تم نے کیوں جوتیاں اتاریں شاید تو نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علی نبینا سے جب وہ طور پر جانے لگے فرمایا اتار جوتیاں اپنی مگر تو جانتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں کا ہے کی تھیں ۔ کہا مالک نے مجھ معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا کعب نے کہا حضرت موسیٰ کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ نے دو لباسوں سے اور دو بیعوں سے ایک بیع ملامسہ اور دوسرے بیع منابذہ سے اور ایک کپڑے اوڑھ کر اختباء کرنے سے جب کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہوا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے ۔
حدیث 1669 — موطأ مالك 48:19
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کپڑا ریشمی بکتا ہوا دیکھا مسجد کے دروازے پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وفد کے لوگ آیا کرتے ہیں پہنا کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کپڑے کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے پھر اسی قسم کے چند کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک کپڑا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطارد کے کپڑے کی بابت فرمایا تھا کہ اس کو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تجھے یہ کپڑا پہننے کو تھوڑی دیا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کپڑا اپنے ایک کافر بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا ۔
انس بن مالک نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا جب کہ وہ امیر المومنی تھے ان کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کرتے میں تین پیوند لگے تھے ایک کے اوپر ایک ۔