قرآني·Qurani
اردو

حسن الخلق

18 احادیث · #1633–1650

حدیث 1633 — موطأ مالك 47:1
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ ‏ "‏ أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا یہ تھی کہ اے معاذ خوش خلقی کر لوگوں سے۔
حدیث 1634 — موطأ مالك 47:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ نے آسان امر کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔
حدیث 1635 — موطأ مالك 47:3
حسن
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1636 — موطأ مالك 47:4
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنِ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ ‏"‏ ‏.‏
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی بہتریوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بے کار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا برا آدمی ہے یہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آنے کی اجازت دی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برا کہا تھا ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہنسنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے ۔
حدیث 1637 — موطأ مالك 47:5
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ الأَحْبَارِ، أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَعْلَمُوا مَا لِلْعَبْدِ عِنْدَ رَبِّهِ فَانْظُرُوا مَاذَا يَتْبَعُهُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ ‏.‏
کعب احبار نے کہا کہ جب تم کسی بندہ کا حال جاننا چاہو اس کے پروردگار کے پاس تو دیکھو لوگ اس کو کیسا کہتے ہیں ۔
حدیث 1638 — موطأ مالك 47:6
حسن
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَرْءَ، لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ الظَّامِي بِالْهَوَاجِرِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ پہنچا کہ آدمی حسن خلق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر پیاسے رہنے والے کا درجہ حاصل کرتا ہے۔
حدیث 1639 — موطأ مالك 47:7
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرٍ، مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ إِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِيَّاكُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا کیا میں بہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے لوگوں نے کہا بتاؤ سعید نے کہا ایک دوسرے کے بیچ صلح کرادیں اور بچو تم بغض اور عدوات سے یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس واسطے بھیجا گیا کہ اخلاق کی خوبیوں کو پورا کردوں
حدیث 1640 — موطأ مالك 47:8
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بُعِثْتُ لأُتَمِّمَ حُسْنَ الأَخْلاَقِ ‏"‏ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بُعِثْتُ لأُتَمِّمَ حُسْنَ الأَخْلاَقِ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1641 — موطأ مالك 47:9
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقٌ وَخُلُقُ الإِسْلاَمِ الْحَيَاءُ ‏"‏ ‏.‏
زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیاء ہے ۔
حدیث 1642 — موطأ مالك 47:10
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو نصیحت کر رہا تھا اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جانے دے کیونکہ حیاء ایمان میں سے ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔