زید بن ثابت کہتے تھے جو شخص لونڈی کو تین طلاقیں دے کر خرید لے تو صحبت کرنا درست نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرلے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کا اپنی لونڈی سے نکاح کر دیا غلام نے لونڈی کو دو طلاقیں دیں اس کے بعد مولیٰ نے وہ لونڈی غلام کو ہبہ کر دی اب وہ لونڈی غلام کو درست ہے یا نہیں ان دونوں نے جواب دیا درست نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے ۔
مسنگ کہا مالک نے ایک شخص نکاح کرے ایک لونڈی سے پھر اس سے بچہ پیدا ہو اس کے بعد لونڈی کو خرید کرلے تو وہ لونڈی پہلے بچے کی وجہ سے اس کی ام ولد نہ ہوگی البتہ اگر خریدنے کے بعد دوسرا بچہ مالک سے پیدا ہوا تو ام ولد ہو جائے گی اور جس نے اس لونڈی کو خریدا حمل کی حالت میں وہ حمل خریدنے والے کا تھا اس کے پاس آ کر جنے تو ام ولد ہو جائے گی۔
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ دو بہنوں کو ملک یمین سے رکھنا درست ہے یا نہیں حضرت عثماں نے فرمایا کہ ایک آیت کی رو سے درست ہے اور دوسری آیت کی رو سے درست نہیں ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا پھر وہ شخص چلا گیا اور ایک اور صحابی سے ملا ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا اور کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو سخت سزا دیتا ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ صحابی حضرت علی تھے ۔ زبیر بن عوام سے بھی ایسی ہی روایت ہے ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس سے جماع کرے پھر اس کی بہن سے جماع کرنا چاہے تو یہ درست نہیں ہے جب تک پہلی بہن کی فرج اپنے اوپر حرام نہ کرے مثلا اس کا نکاح کر دے یا اپنے غلام سے بیاہ کر دے۔
عبدالرحمن بن مجبر نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا کہ اس سے جماع نہ کرنا کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا اس سے جماع کا میں رک گیا ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ابونہشل بن اسود نے قاسم بن محمد سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو ننگا دیکھا چاندنی میں تو میں اس کے پاؤں اٹھا کر جماع کو مستعد ہو گیا وہ بولی حائضہ ہوں تو میں اٹھ کھڑا ہوا اب میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے قاسم بن محمد نے منع کیا ۔
عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں ۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں ۔