ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے ولیمہ کا کھانا سب کھانوں سے برا ہے اس میں امیر بلائے جاتے ہیں اور فقیر چھوڑ دیئے جاتے ہیں اور جو شخص دعوت میں نہ آئے اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول کی ۔
حدیث 1143 — موطأ مالك 28:53
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ . قَالَ أَنَسٌ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ . قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
انس بن مالک کہتے تھے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ کھانا پکا کر دعوت کی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا وہ درزی جو کی روٹی اور کدو کا سالن سامنے لایا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں سے کدو ڈھونڈھ کر کھاتے تھے اس روز سے میں بھی کدؤں کو پسند کرنے لگا ۔
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی پکڑ کر برکت کی دعا کرے اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان پر ہاتھ رکھے اور شیطان مردود سے پناہ مانگے ۔
ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کا پیام دیا ایک شخص کی بہن کو اس نے بیان کیا کہ وہ عورت بدکار ہے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر پہنچی آپ نے اس شخص کو بلا کر مارا یا مارنے کا قصد کیا اور کہا کہ تجھے اس خبر پہنچانے سے کیا غرض تھی ۔
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر کہتے تھے جس شخص کی چار عورتیں ہوں پھر وہ اس میں سے ایک عورت کو تین طلاق دے دے تو ایک عورت نئی کر سکتا ہے اس کی عدت گزرنے کا انتظار ضروری نہیں ۔ ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر نے ولید بن عبدالملک کو جس سال وہ مدینہ میں آیا تھا ایسا ہی فتوی دیا تھا مگر قاسم بن محمد نے یہ کہا کہ اس عورت کو کئی مجلسوں میں طلاق دی ہو ۔
رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہیں جب بڑھیاں ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی پھر جب عدت اس کی گرزنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے پھر جب عدت گرنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا اب تجھے کیا منظور ہے ایک طلاق اور رہ گئی ہے اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں اس نے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔