حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی فضیلت رکھتی ہے اکیلی نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ ۔
حدیث 288 — موطأ مالك 8:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جماعت کی افضل ہے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس حصہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے قصد کیا کہ حکم کروں لکڑیاں توڑ کر جلا نے کا پھر حکم کروں میں نماز اور اذان ہو پھر حکم کروں ایک شخص کو امامت کا اور وہ امامت کرے پھر جاؤں میں پیچھے سے ان لوگوں کے پاس جو نہیں آئے جماعت میں اور جلادوں ان کے گھروں کو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کسی کو ان میں سے معلوم ہو جائے کہ ایک ہڈی عمدہ گوشت کی یا دو کھر بکری کے اچھے ملیں گے تو ضرور آئیں عشاء کی نماز میں ۔
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن ثابت نے کہا افضل نماز وہ ہے جو گھروں میں پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے ۔
حدیث 291 — موطأ مالك 8:5
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ لاَ يَسْتَطِيعُونَهُمَا " . أَوْ نَحْوَ هَذَا .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور منافقوں کے درمیاں میں یہ فرق ہے کہ وہ صبح اور عشاء کی جماعت میں نہیں آسکتے یا مثل اس کے کچھ کہا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص جا رہا تھا راہ میں اس نے ایک کانٹا پایا تو اس کو ہٹا دیا پس راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ اس سے تو بخش دیا اس کو اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید پانچ قسم کے لوگ ہیں جو طاعون سے مر جائے یا دستوں کی راہ میں ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مر جائے یا اللہ جل جلالہ کی راہ میں شہید ہو جائے ۔
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نہ پایا سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی نماز میں اور عمر بن خطاب گئے بازار کو اور گھر سلیمان کا بازار اور مسجد کے بیچ میں سو ملی ان کو شفا ماں سلیمان کی تو پوچھا حضرت عمر نے شفا سے کہ میں نے نہیں دیکھا سلیمان کو صبح کی نماز میں تو کہا شفا نے کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہے اس لئے ان کی آنکھیں لگ گئیں تب فرمایا عمر نے البتہ مجھے صبح کی نماز میں حاضر ہونا رات کی عبادت سے بہتر معلوم ہوتا ہے ۔
عبدالر حمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان آئے مسجد میں نماز عشاء کے لئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں تو لیٹ رہے مسجد میں اخیر میں انتظار کر تے تھے لوگوں کے جمع ہونے کا پس آئے بن ابی عمرہ اور بیٹھے عثمان کے پاس پس پوچھا عثمان نے کہ کون ہو تم بیان کیا ان سے ابن ابی عمرہ نے نام اپنا پھر پوچھا عثمان نے کہ کتنا قرآن تم کو یاد ہے تو بیان کیا انہوں نے پھر فرمایا حضرت عثمان نے ان سے جو شخص حاضر ہو صبح کی جماعت میں تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی ۔
حدیث 295 — موطأ مالك 8:9
حسن Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ، مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُذِّنَ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ " . فَقَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ " .
محجن بن ابی محجن سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے رسول اللہ کے پاس اتنے میں اذان ہوئی نماز کی تو اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھ کر آئے تو دیکھا کہ محجن وہیں بیٹھے ہیں تب فرمایا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں تم نے نماز نہیں پڑھی سب لوگوں کے ساتھ کیا تم مسلمان نہیں ہو کہا محجن نے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ میں پڑھ چکا تھا نماز اپنے گھر میں تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو آئے مسجد میں تو نماز پڑھ لوگوں کے ساتھ اگرچہ تو پڑھ چکا ہو ۔
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر پاتا ہوں جماعت کو ساتھ امام کے کیا پھر پڑھوں ساتھ امام کے کہا عبداللہ بن عمر نے ہاں کہا اس شخص نے پس دو نمازوں میں کو نسی نماز کو فرض سمجھوں اور کس کو نفل تو جواب دیا عبداللہ بن عمر نے کہ تجھ کو اس سے کیا مطلب یہ تو اللہ جل جلالہ کا اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے جس کو چاہے نفل کر دے ۔